حدیث نمبر: 13932
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا: «مَنْ لِي مِنْ خَالِدِ بْنِ نُبَيْحٍ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ؟» ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِعَرَفَةَ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَقُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ انْعَتْهُ لِي، فَقَالَ: «لَوْ رَأَيْتَهُ هِبْتَهُ» ، فَقُلْتُ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ مَا هِبْتُ شَيْئًا قَطُّ، فَخَرَجْتُ حَتَّى لَقِيتُهُ بِجِبَالِ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ، فَلَقِيتُهُ فَرُعِبْتُ مِنْهُ، فَعَرَفْتُ حِينَ رُعِبْتُ مِنْهُ الَّذِي قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنِ الرَّجُلُ؟، فَقُلْتُ: بَاغِيَ حَاجَةٍ، فَهَلْ مِنْ مَبِيتٍ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَالْحَقْ بِي، قَالَ: فَخَرَجْتُ فِي أَثَرِهِ فَصَلَّيْتُ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجْتُ وَأَشْفَقْتُ أَنْ يَرَانِي، ثُمَّ لَحِقْتُهُ فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ، ثُمَّ غَشِيتُ الْجَبَلَ وَكَمَنْتُ، حَتَّى إِذَا ذَهَبَ النَّاسُ خَرَجْتُ حَتَّى قَدِمْتُ عَلَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ: فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِخْصَرَةً، فَقَالَ: «تَخَصَّرْ بِهَذِهِ حَتَّى تَلْقَانِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَقَلُّ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ الْمُتَخَصِّرُونَ» . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُنَيْسٍ أَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ عَلَى بَطْنِهِ، وَكُفِّنَ عَلَيْهَا، وَدُفِنَتْ مَعَهُ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا: ”خالد بن نبیح ہذلی کے بارے میں کون مجھے کافی ہے؟“ اس وقت آپ ﷺ عرفہ میں تھے۔ عبداللہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں تیار ہوں، اس کی نشانی بتا دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اسے دیکھو تو اس سے ڈر جاؤ گے۔“ میں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت دی، مجھے کبھی کسی چیز سے خوف نہیں آیا۔ چنانچہ میں نکلا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے سے پہلے عرفہ کے پہاڑوں میں اس سے ملا۔ جب اس سے ملا تو مجھ پر اس کا رعب طاری ہو گیا، اور جب مجھ پر اس کا رعب طاری ہوا تو مجھے وہ بات سمجھ آ گئی جو نبی کریم ﷺ نے فرمائی تھی۔ اس نے پوچھا: کون ہو؟ میں نے کہا: ضرورت مند مسافر ہوں، کیا رات گزارنے کی جگہ مل سکتی ہے؟ اس نے کہا: ہاں، میرے ساتھ آ جاؤ۔ میں اس کے پیچھے چل پڑا، پھر میں نے عصر کی نماز دو ہلکی رکعتوں میں پڑھی، پھر نکلا اور ڈرا کہ کہیں وہ مجھے دیکھ نہ لے، پھر میں نے اسے جا لیا اور تلوار سے وار کر دیا، پھر پہاڑ کی طرف چلا گیا اور چھپ گیا، یہاں تک کہ جب لوگ چلے گئے تو میں نکلا اور مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کو یہ خبر سنائی۔ محمد بن کعب کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے انہیں ایک چھڑی عطا فرمائی اور فرمایا: ”اس کا سہارا لو یہاں تک کہ قیامت کے دن اسی کے ساتھ مجھ سے ملو، کیونکہ اس دن سہارا لینے والے کم ہوں گے۔“ محمد بن کعب کہتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی تو حکم دیا گیا کہ وہ چھڑی ان کے پیٹ پر رکھی جائے، چنانچہ اسی کے ساتھ انہیں کفن دیا گیا اور اسی کے ساتھ دفن کیا گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13932
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 135، حدیث 335