کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبداللہ بن ابی ملیکہ کی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ، كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْعِرَاقِ: أَنَّ الَّذِي قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا حَتَّى أَلْقَى اللهَ سِوَى اللهِ لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا» . فَكَانَ يَجْعَلُ الْجَدَّ أَبًا
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اہلِ عراق کے نام لکھا: جس شخص کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اگر میں اللہ کے سوا کسی کو دوست بناتا یہاں تک کہ اللہ سے جا ملتا، تو ابوبکر کو اپنا دوست بناتا“ - وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) دادا کو باپ کے حکم میں شمار کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَحْرٍ الْهُجَيْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ ظَاهِرًا أَوْ نَظَرًا أُعْطِيَ شَجَرَةً فِي الْجَنَّةِ، لَوْ أَنَّ غُرَابًا فَرَّخَ تَحْتَ وَرَقَةٍ مِنْهَا ثُمَّ أَدْرَكَ ذَلِكَ الْفَرْخَ الْهَرَمُ، فَنَهَضَ لَأَدْرَكَهُ الْهَرَمُ قَبْلَ أَنْ يَقْطَعَ تِلْكَ الْوَرَقَةَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص قرآن زبانی پڑھے یا دیکھ کر پڑھے، اسے جنت میں ایک درخت عطا کیا جائے گا کہ اگر کوّا اس کے ایک پتے کے نیچے بچہ نکالے، پھر وہ بچہ بوڑھا ہو جائے، اور اڑنا چاہے، تو وہ اس پتے کو پار کرنے سے پہلے ہی بڑھاپے کے باعث مر جائے، (اتنا بڑا وہ درخت ہوگا)۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: " أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَعْمِلْهُ عَلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تَسْتَعْمِلْهُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَتَكَلَّمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ: مَا أَرَدْتَ إِلَّا خِلَافِي، قَالَ: مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ، قَالَ: فَنَزَلَتْ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات: ٢] ، وَكَانَ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا تَكَلَّمَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْمَعْ كَلَامَهُ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انہیں ان کی قوم پر عامل مقرر فرما دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں عامل مقرر نہ کریں۔ دونوں نبی کریم ﷺ کے سامنے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم نے میری مخالفت ہی کرنی تھی۔ انہوں نے کہا: میں نے تمہاری مخالفت کا ارادہ نہیں کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو“ [سورۃ الحجرات: 2]۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب بھی نبی کریم ﷺ کے سامنے گفتگو کرتے تو اتنی دھیمی آواز میں بولتے کہ آپ ﷺ سے دوبارہ پوچھنا پڑتا۔
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُنَيْدِ بْنِ دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: " أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُ قَدِمَ رَكِبٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَعْمِلْ الْأَقْرَعَ عَلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَا تَسْتَعْمِلْهُ، فَتَنَازَعَا حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللهِ وَرَسُولِهِ} [الحجرات: ١] ، حَتَّى انْقَضَتِ الْآيَةُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو تمیم کا ایک وفد نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس میں اقرع بن حابس بھی شامل تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اقرع کو ان کی قوم پر عامل مقرر فرما دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں عامل مقرر نہ کریں۔ دونوں میں بحث ہوئی یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے آگے مت بڑھو“ [سورۃ الحجرات: 1]، یہاں تک کہ آیت مکمل ہوئی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أن عَلِيًّا ذَكَرَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا، وَيُنْصِبُنِي مَا أَنْصَبَهَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کا ذکر (نکاح کے سلسلے میں) کیا، یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”فاطمہ تو میرے جسم کا ٹکڑا ہے، جو چیز اسے تکلیف دے وہ مجھے بھی تکلیف دیتی ہے، اور جو چیز اسے پریشان کرے وہ مجھے بھی پریشان کرتی ہے۔“