حدیث نمبر: 13872
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: " أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَعْمِلْهُ عَلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تَسْتَعْمِلْهُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَتَكَلَّمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ: مَا أَرَدْتَ إِلَّا خِلَافِي، قَالَ: مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ، قَالَ: فَنَزَلَتْ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات: ٢] ، وَكَانَ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا تَكَلَّمَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْمَعْ كَلَامَهُ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ "
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انہیں ان کی قوم پر عامل مقرر فرما دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں عامل مقرر نہ کریں۔ دونوں نبی کریم ﷺ کے سامنے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم نے میری مخالفت ہی کرنی تھی۔ انہوں نے کہا: میں نے تمہاری مخالفت کا ارادہ نہیں کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو“ [سورۃ الحجرات: 2]۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب بھی نبی کریم ﷺ کے سامنے گفتگو کرتے تو اتنی دھیمی آواز میں بولتے کہ آپ ﷺ سے دوبارہ پوچھنا پڑتا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13872
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 113، حدیث 275