المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن أبي مليكة، عن عبد الله بن الزبير باب: عبداللہ بن ابی ملیکہ کی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: " أَنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَعْمِلْهُ عَلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ عُمَرُ: لَا تَسْتَعْمِلْهُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَتَكَلَّمَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ: مَا أَرَدْتَ إِلَّا خِلَافِي، قَالَ: مَا أَرَدْتُ خِلَافَكَ، قَالَ: فَنَزَلَتْ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ} [الحجرات: ٢] ، وَكَانَ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا تَكَلَّمَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْمَعْ كَلَامَهُ حَتَّى يَسْتَفْهِمَهُ "سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اقرع بن حابس نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انہیں ان کی قوم پر عامل مقرر فرما دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں عامل مقرر نہ کریں۔ دونوں نبی کریم ﷺ کے سامنے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم نے میری مخالفت ہی کرنی تھی۔ انہوں نے کہا: میں نے تمہاری مخالفت کا ارادہ نہیں کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو“ [سورۃ الحجرات: 2]۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب بھی نبی کریم ﷺ کے سامنے گفتگو کرتے تو اتنی دھیمی آواز میں بولتے کہ آپ ﷺ سے دوبارہ پوچھنا پڑتا۔