کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عمرو بن دینار کی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا لَمْ يَكُنْ يُؤَدِّي حَقَّهَا فَتَمْشِي عَلَيْهِ بِقَاعٍ تَطَؤُهُ بِِأََخْنَافِهَا، وَيُؤْتَى بِصَاحِبِ الْبَقَرِ إِذَا لَمْ يَكُنْ يُؤَدِّي حَقَّهَا فَتَمْشِي عَلَيْهِ بِقَاعٍ تَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَيُؤْتَى بِصَاحِبِ الْغَنَمِ إِذَا لَمْ يُؤَدِّي حَقَّهَا فَتَمْشِي عَلَيْهِ بِقَاعٍ فَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقُرُونِ، وَيُؤْتَى بِصَاحِبِ الْكَنْزِ فَيُمَثَّلُ لَهُ شُجَاعٌ أَقْرَعُ، فَلَا يَجِدُ شَيْئًا فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي فِيهِ» . رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَرَ اللَّيْثِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اونٹوں کا کوئی مالک ایسا نہیں جو ان کا حق ادا نہ کرتا ہو مگر قیامت کے دن اسے لایا جائے گا اور وہ اونٹ ایک کھلے میدان میں اپنے کھروں سے اسے روندیں گے۔ اور گائے کا مالک اگر اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو اسے بھی لایا جائے گا اور وہ گائیں ایک کھلے میدان میں اپنے کھروں سے اسے روندیں گی اور اپنے سینگوں سے مارتی رہیں گی۔ اور بکریوں کا مالک اگر ان کا حق ادا نہ کرتا ہو تو اسے بھی لایا جائے گا اور وہ بکریاں ایک کھلے میدان میں اسے سینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے روندیں گی، ان میں کوئی سینگ کے بغیر اور نہ کوئی ٹوٹے سینگ والی چھوڑی جائے گی۔ اور خزانہ (کا حق ادا نہ کرنے والے) کے مالک کو بھی لایا جائے گا، اس کے لیے ایک گنجا سانپ بنا دیا جائے گا، وہ (خزانے میں) کچھ نہ پا کر اپنا ہاتھ اس کے منہ میں ڈال دے گا۔“
اسے عمرو بن دینار نے عبید بن عمر لیثی کے واسطے سے بھی نبی کریم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
اسے عمرو بن دینار نے عبید بن عمر لیثی کے واسطے سے بھی نبی کریم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ نُوقِشَ الْمُحَاسَبَةَ هَلَكَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس سے حساب میں باریکی کی گئی وہ ہلاک ہو گیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَقِيلُ بْنُ يَحْيَى الطِّهْرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: «لَيْسَ مِنَ السُّنَّةِ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةَ عَلَى الْمِنْبَرِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”جمعہ کے دن منبر پر نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا سنت میں سے نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أحْمَدَ بْنِ أُسَيْدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الطَّائِفِيُّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ زُرَيْقٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: " أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّهُ الْعَبَّاسَ يَأْمُرُ بَنِيهِ أَنْ يَحْرُثُوا الْقَضْبَ، فَإِنَّهُ يَنْفِي الْفَقْرَ، قَالَ: وَالْقَضْبُ الرَّطْبَةُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم ﷺ نے اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹوں کو ’قضب‘ کاشت کرنے کا حکم دیں، کیونکہ یہ فقر و تنگدستی کو دور کرتا ہے۔“
راوی کہتے ہیں: قضب سے مراد رطبہ (ہری تازہ گھاس/چارہ) ہے۔
راوی کہتے ہیں: قضب سے مراد رطبہ (ہری تازہ گھاس/چارہ) ہے۔