کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: یوسف، زبیر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ، مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَحُجُّ عَنْ أَبِي؟، فَقَالَ: «أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَاحْجُجْ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس کی سب سے بڑی اولاد ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان کی طرف سے حج کرو۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّازَّقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَمْعَةَ، كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ وَكَانَ يَطَأُهَا وَكَانُوا يَتَّهِمُونَهَا، فَوَلَدَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا الْمِيرَاثُ فَلَهُ، وَأَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكِ بِأَخٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمعہ کی ایک لونڈی تھی جس سے وہ ازدواجی تعلق رکھتے تھے، اور لوگوں کو اس پر (بدکاری کا) شبہ تھا، پس اس نے ایک بچہ جنا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میراث تو اسی (زمعہ کے بیٹے) کا حق ہے، لیکن اے سودہ! تم اس سے پردہ کرو، کیونکہ وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، وَمُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَعَلَ لَهُ الْمِيرَاثَ، لِأَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ زَمْعَةَ، وَقَالَ لِسَوْدَةَ: «وَأَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي عَنْهُ» .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے اس (بچے) کے لیے میراث کا فیصلہ فرمایا، کیونکہ وہ زمعہ کے بستر (نکاح) پر پیدا ہوا تھا، اور سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”تم اس سے پردہ کرو۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَوْ عَنْ مَوْلًى لِابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ زَمْعَةُ يَطَأُ جَارِيَةً فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے (یا ان کے ایک غلام کے واسطے سے) روایت ہے کہ زمعہ ایک لونڈی سے ازدواجی تعلق رکھتے تھے، پھر راوی نے اسی جیسی (پہلے والی) حدیث بیان کی۔