حدیث نمبر: 13861
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّازَّقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَمْعَةَ، كَانَتْ لَهُ جَارِيَةٌ وَكَانَ يَطَأُهَا وَكَانُوا يَتَّهِمُونَهَا، فَوَلَدَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا الْمِيرَاثُ فَلَهُ، وَأَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكِ بِأَخٍ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زمعہ کی ایک لونڈی تھی جس سے وہ ازدواجی تعلق رکھتے تھے، اور لوگوں کو اس پر (بدکاری کا) شبہ تھا، پس اس نے ایک بچہ جنا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میراث تو اسی (زمعہ کے بیٹے) کا حق ہے، لیکن اے سودہ! تم اس سے پردہ کرو، کیونکہ وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13861
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 109، حدیث 264