المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
القاسم بن محمد، عن عبد الله بن الزبير باب: قاسم بن محمد کی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسَيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: " مِنْ سُنَّةِ الْحَاجِّ أَنْ يُصَلِّيَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ وَالصُّبْحَ بِمِنًى، ثُمَّ يَغْدُو فَيَقِيلُ حَيْثُ كَتَبَ اللهُ لَهُ: ثُمَّ يَرُوحُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، فَيَخْطُبُ النَّاسَ، ثُمَّ يَنْزِلُ فَيَجْمَعُ بِي الصَّلَاتَيْنِ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ، ثُمَّ يَقِفُ بِعَرَفَةَ، فَيَدْفَعُ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ حَيْثُ قَدَّرَ اللهُ لَهُ أَنْ يُصَلِّيَ، ثُمَّ يَقِفُ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى الصُّبْحَ، ثُمَّ يَدْفَعُ إِذَا أَصْبَحَ، فَإِذَا رَمَى الْجَمْرَةَ فَقَدْ حَلَّ لَهُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ إِلَّا النِّسَاءَ حَتَّى يَطُوفَ بِالْبَيْتِ "سیدنا قاسم بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ”حاجی کی سنت یہ ہے کہ وہ یومِ تروِیہ (8 ذوالحجہ) کو ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں منیٰ میں ادا کرے، پھر صبح چلے اور جہاں اللہ نے اس کے لیے لکھا ہو وہاں قیلولہ کرے، پھر جب سورج ڈھل جائے تو (عرفہ کی طرف) روانہ ہو، لوگوں کو خطبہ دے، پھر اترے اور ظہر و عصر دونوں نمازیں جمع کر کے ادا کرے، پھر عرفہ میں وقوف کرے، سورج غروب ہونے پر روانہ ہو، پھر جہاں اللہ نے اس کے لیے مقدر کیا ہو وہاں مغرب کی نماز پڑھے، پھر مزدلفہ میں وقوف کرے، اور جب فجر طلوع ہو جائے تو فجر کی نماز پڑھے، پھر روشنی پھیلنے پر روانہ ہو، اور جب جمرہ کو کنکریاں مار دے تو اس پر جو کچھ حرام تھا وہ سب حلال ہو جاتا ہے سوائے عورتوں کے، یہاں تک کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرے۔“