کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عروہ بن زبیر کی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا مَالَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَبْرُزَ، وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ، فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب سورج کا کنارہ نمودار ہونے لگے تو نماز کو مؤخر کرو یہاں تک کہ وہ پوری طرح نکل آئے، اور جب سورج کا کنارہ ڈوبنے لگے تو نماز کو مؤخر کرو یہاں تک کہ وہ پوری طرح غروب ہو جائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ، وَلَا غُرُوبَهَا، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيْ شَيْطَانٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اپنی نمازوں کے لیے سورج کے طلوع اور غروب کا وقت تلاش نہ کرو، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ شَطْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے (سفر میں) دو رکعتیں پڑھیں، اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے بھی، اور عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی خلافت کے ایک حصے میں (دو رکعتیں پڑھیں)۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ خَالَوَيْهِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أَعْطَى أَهْلُ الْبَيْتِ الرِّفْقَ إِلَّا نَفَعَهُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس گھرانے کو بھی نرمی عطا کی گئی، اس نے انہیں فائدہ ہی پہنچایا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میت اپنے گھر والوں کے رونے سے عذاب پاتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بدر کے کنویں پر کھڑے ہوئے، پھر راوی نے مشہور حدیث (تفصیل سے) بیان کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى الْأُمَرَاءِ فَيَقْضِي أَحَدُهُمْ بِالْقَضَاءِ جَوْرًا، فَنَقُولُ: وَفَّقَكَ اللهُ وَيَنْظُرُ إِلَى الرَّجُلِ مِنَّا فَيَثْنِي عَلَيْهِ، فَقَالَ: «أَمَّا نَحْنُ مَعْشَرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنَّا نَعُدُّهُ نِفَاقًا فَمَا أَدْرِي مَا تَعُدُّونَهُ أَنْتُمْ؟»
ترجمہ
عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! ہم حکمرانوں کے پاس جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی ظلم پر مبنی فیصلہ کرتا ہے، تو ہم کہتے ہیں: اللہ آپ کو توفیق دے، اور وہ ہم میں سے کسی کی طرف دیکھتا ہے تو ہم اس کی تعریف کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ تو اسے نفاق شمار کیا کرتے تھے، اب مجھے نہیں معلوم کہ تم لوگ اسے کیا شمار کرتے ہو؟“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ هَارُونَ الْقَزَّازُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نَجْلِسُ إِلَى الْأُمَرَاءِ فَيَتَكَلَّمُونَ بِالْكَلَامِ، وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّ الْحَقَّ غَيْرُهُ فَنُصَدِّقُهُمْ، وَيَقْضُونَ بَالْجَوْرِ فَنُقَوِّيهِمْ عَلَيْهِ، وَنُحَسِّنُهُ لَهُمْ، فَكَيْفَ تَرَى فِي ذَلِكِ؟ فَقَالَ: «يَا ابْنَ أَخِي كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَعُدُّ هَذَا النِّفَاقَ»
ترجمہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! ہم حکمرانوں کے پاس بیٹھتے ہیں تو وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ حق اس کے خلاف ہے، پھر بھی ہم ان کی تصدیق کرتے ہیں، اور وہ ظلم پر مبنی فیصلے کرتے ہیں تو ہم انہیں اس پر مضبوط کرتے ہیں اور اسے ان کے لیے اچھا ظاہر کرتے ہیں، تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اسے نفاق شمار کیا کرتے تھے۔“