المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عروة بن الزبير، عن عبد الله بن عمر باب: عروہ بن زبیر کی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13207
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّا نَدْخُلُ عَلَى الْأُمَرَاءِ فَيَقْضِي أَحَدُهُمْ بِالْقَضَاءِ جَوْرًا، فَنَقُولُ: وَفَّقَكَ اللهُ وَيَنْظُرُ إِلَى الرَّجُلِ مِنَّا فَيَثْنِي عَلَيْهِ، فَقَالَ: «أَمَّا نَحْنُ مَعْشَرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنَّا نَعُدُّهُ نِفَاقًا فَمَا أَدْرِي مَا تَعُدُّونَهُ أَنْتُمْ؟»ترجمہ
…کہا: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہم حکمرانوں کے پاس جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی ظلم کا فیصلہ کرتا ہے، تو ہم کہتے ہیں: اللہ آپ کو توفیق دے، اور ہم میں سے کوئی اس شخص کی طرف دیکھ کر اس کی تعریف کرتا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی جماعت تو اسے نفاق شمار کرتے تھے، مجھے نہیں معلوم تم اسے کیا سمجھتے ہو؟“