کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی عمر اور وفات کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا صَلَّى وَحْدَهُ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ لَمْ يُكَبِّرْ دُبُرَ الصَّلَاةِ»
ترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں: ”ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ایام تشریق میں اکیلے نماز پڑھتے تو نماز کے بعد تکبیر نہیں کہتے تھے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: نَزَلَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى قَوْمٍ فَلَمَّا مَضَتْ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ قَالَ: «يَا نَافِعُ أَنْفَقْ عَلَيْنَا مِنْ مَالِنَا فَلَا حَاجَةَ لَنَا أَنْ يُتَصَدَّقَ عَلَيْنَا»
ترجمہ
نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کسی قوم کے پاس ٹھہرے، جب تین دن گزر گئے تو فرمایا: ”اے نافع! ہمارے اپنے مال میں سے ہم پر خرچ کرو، ہمیں اس کی حاجت نہیں کہ ہم پر صدقہ کیا جائے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ: «كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ (أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَاخِرَةً) »
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس آیت کو یوں پڑھتے تھے: ”أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَاخِرَةً“ (یعنی: کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے؟)۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ ثَرْوَانَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ أَنَّهُ: «رَأَى ابْنَ عُمَرَ إِزَارُهُ إِلَى نِصْفِ سَاقِهِ، وَقَمِيصُهُ فَوْقَ ذَلِكَ، وَرِدَاؤُهُ فَوْقَ الْقَمِيصِ»
ترجمہ
ابو المتوکل بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، ان کا تہبند پنڈلی کے نصف تک تھا، قمیص اس سے اوپر تھی، اور چادر قمیص کے اوپر تھی۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَشْتَدُّ بَيْنَ الْعَرْضَيْنِ وَيَقُولُ: «أَنَا بِهَا , أَنَا بِهَا»
ترجمہ
مجاہد بیان کرتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دونوں نشانوں کے درمیان دوڑتے اور کہتے دیکھا: ”میں اس پر عمل کرنے والا ہوں، میں اس پر عمل کرنے والا ہوں۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَبْرَةَ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ: «اللهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَعْظَمِ عِبَادِكَ نَصِيبًا فِي كُلِّ خَيْرٍ تَقْسِمُهُ الْغَدَاةَ، وَنُورًا تَهْدِي، وَرَحْمَةً تَنْشُرُهَا، وَرِزْقًا تَبْسُطُهُ، وَضُرًّا تَكْشِفُهُ، وَبَلَاءً تَرْفَعُهُ، وَفِتْنَةً تَصْرِفُهَا»
ترجمہ
عبداللہ بن سبرہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما صبح ہوتے ہی فرماتے: ”اے اللہ! مجھے اپنے ان بندوں میں سے سب سے بڑا حصہ دار بنا جنہیں تو صبح کے وقت ہر اس بھلائی میں سے دیتا ہے جسے تو تقسیم کرتا ہے، اور اس نور میں سے جو ہدایت دیتا ہے، اور اس رحمت میں سے جسے تو پھیلاتا ہے، اور اس رزق میں سے جسے تو کشادہ کرتا ہے، اور اس تکلیف میں سے جسے تو دور کرتا ہے، اور اس مصیبت میں سے جسے تو اٹھاتا ہے، اور اس فتنے میں سے جسے تو ٹال دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ السَّرِيِّ بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: «رُبَّمَا أَفْطَرَ ابْنُ عُمَرَ عَلَى الْجِمَاعِ»
ترجمہ
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں: ”ابن عمر رضی اللہ عنہما کبھی کبھار اپنا روزہ ازدواجی تعلق سے افطار کر لیتے تھے۔“