کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: محمد بن کعب قرظی کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْكِنْدِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا بَأْسَ أَنْ يُقَلِّبَ الرَّجُلُ الْجَارِيَةَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا، مَا خَلَا عَوْرَتَهَا؛ مَا بَيْنَ رُكْبَتَيَهَا إِلَى مَعْقِدِ إِزَارِهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کے لیے کوئی حرج نہیں کہ اگر وہ کسی لونڈی کو خریدنا چاہے تو اسے پلٹ کر دیکھ لے، سوائے اس کی شرمگاہ کے، جو اس کے دونوں گھٹنوں سے تہبند کی گرہ تک ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10727
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 318، حدیث 10773
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، عَنْ أَبِي الْمِقْدَامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: إِنَّمَا الْأُمُورُ ثَلَاثَةٌ: أَمْرٌ يَتَبَيَّنُ لَكَ رُشْدُهُ فَاتَّبِعْهُ، وَأَمْرٌ يَتَبَيَّنُ لَكَ غَيُّهُ فَاجْتَنِبْهُ، وَأَمْرٌ اخْتُلِفَ فِيهِ فَرُدَّهُ إِلَى عَالِمِهِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے فرمایا: معاملات تین طرح کے ہیں: ایک معاملہ جس کی درستی تمہارے لیے واضح ہو جائے تو اس کی پیروی کرو، ایک معاملہ جس کی گمراہی تمہارے لیے واضح ہو جائے تو اس سے بچو، اور ایک معاملہ جس میں اختلاف ہو تو اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10728
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 318، حدیث 10774
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى، إِنْ شِئْتَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَإِنَّ شِرَارَكُمُ الَّذِي يَنْزِلُ وَحْدَهُ، وَيَجْلِدُ عَبْدَهُ، وَيَمْنَعُ رِفْدَهُ» ، قَالَ: «أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى إِنْ شِئْتَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «مَنْ يُبْغِضُ النَّاسَ وَيُبْغِضُونَهُ» ، قَالَ: «أَوَ أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكُمْ؟» قَالُوا: بَلَى إِنْ شِئْتَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «الَّذِينَ لَا يَقْبَلُونَ عَثْرَةً، وَلَا يَقْبَلُونَ مَعْذِرَةً، وَلَا يَغْفِرُونَ ذَنْبًا» ، قَالَ: «أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِنْ ذَلِكَ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ، وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ»
ترجمہ
نبی کریم ﷺ نے منبر پر فرمایا: ”کیا میں تمہیں تمہارے بدترین لوگوں کی خبر نہ دوں؟“ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اگر آپ چاہیں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بدترین لوگ وہ ہیں جو اکیلے سفر کرتے ہیں، اپنے غلام کو کوڑے مارتے ہیں، اور اپنا عطیہ روکتے ہیں۔“ فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر کی خبر نہ دوں؟“ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اگر آپ چاہیں یا رسول اللہ! فرمایا: ”وہ شخص جو لوگوں سے بغض رکھے اور لوگ اس سے بغض رکھیں۔“ فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر کی خبر نہ دوں؟“ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اگر آپ چاہیں یا رسول اللہ! فرمایا: ”وہ لوگ جو کسی کی لغزش قبول نہیں کرتے، نہ کسی کا عذر مانتے ہیں، نہ کسی کا گناہ معاف کرتے ہیں۔“ فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر کی خبر نہ دوں؟“ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! فرمایا: ”وہ شخص جس کی بھلائی کی امید نہ ہو اور جس کی برائی سے امان نہ ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10729
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 318، حدیث 10775
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ الْكِنْدِيُّ، ثنا الْمُسَيَّبُ بْنُ شَرِيكٍ الْعَامِرِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَا: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَصْوَاتٌ كَدَوِيِّ النَّحْلِ قِرَاءَةَ الْقُرْآنِ، فَقَالَ: «إِنَّ الْإِسْلَامَ يَشِيعُ، ثُمَّ تَكُونُ لَهُ فَتْرَةٌ، فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غُلُوٍّ وَبِدْعَةٍ فَأُولَئِكَ أَهْلُ النَّارِ»
ترجمہ
رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو لوگوں کی قرآن پڑھنے کی آوازیں شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام پھیلے گا، پھر اس میں ایک سستی کا دور آئے گا، تو جس کی سستی غلو اور بدعت کی طرف مائل ہو وہ جہنمی ہوں گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10730
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 318، حدیث 10776
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهماُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخُلُقُ الْحَسَنُ يُذِيبُ الْخَطَايَا كَمَا يُذِيبُ الْمَاءُ الْجَلِيدَ، وَالْخُلُقُ السُّوءُ يُفْسِدُ الْعَمَلَ كَمَا يُفْسِدُ الْخَلُّ الْعَسَلَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا اخلاق گناہوں کو اسی طرح گھلا دیتا ہے جیسے پانی برف کو گھلا دیتا ہے، اور برا اخلاق عمل کو اسی طرح خراب کرتا ہے جیسے سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10731
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 319، حدیث 10777
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا ذِئْبَانِ ضَارِيَانِ بَاتَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حُبِّ ابْنِ آدَمَ الشَّرَفَ وَالْمَالَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو بھوکے بھیڑیے جو ایک رات بکریوں میں گزاریں وہ ان کے لیے اتنے تباہ کن نہیں جتنا ابن آدم کی مرتبے اور مال کی محبت اس کے دین کے لیے تباہ کن ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10732
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 319، حدیث 10778
حَدَّثَنَا الْمُنْتَصِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ الْوَرَّاقُ، ثنا صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهماُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا سَأَلْتُمْ بِاللهِ فَسَلُوهُ بِبُطُونِ أَكُفِّكُمْ، وَلَا تَسْأَلُوهُ بِظُهُورِهَا، وَامْسَحُوا بِهَا وُجُوهَكُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم اللہ کے نام پر سوال کرو تو اپنی ہتھیلیوں کے اندرونی حصے سے سوال کرو، اور ان کی پشت سے سوال نہ کرو، اور ان سے اپنے چہروں پر مسح کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10733
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 319، حدیث 10779
حَدَّثَنَا الْمُنْتَصِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُما قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ خُلُقًا، وَإِنَّ خُلُقَ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر چیز کا ایک خلق (خصلت) ہوتا ہے، اور اسلام کا خلق حیاء ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10734
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 320، حدیث 10780
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو الْمِقْدَامِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ شَرَفًا، وَإِنَّ شَرَفَ الْمَجَالِسِ مَا اسْتُقْبِلَ بِهِ الْقِبْلَةُ، وَمَنْ نَظَرَ فِي كِتَابِ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَكَأَنَّمَا يَنْظُرُ فِي النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک عزت ہوتی ہے، اور مجلسوں کی عزت یہ ہے کہ ان کا رخ قبلے کی طرف ہو، اور جو شخص اپنے بھائی کا خط اس کی اجازت کے بغیر دیکھے تو گویا وہ آگ میں جھانک رہا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10735
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 320، حدیث 10781
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، وَكَانُوا يَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ {فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ} [النساء: ٢٤] إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْبَلَدَ لَيْسَ لَهُ بِهِ مَعْرِفَةٌ، فَيَتَزَوَّجُ بِقَدْرِ مَا يَرَى أَنَّهُ يَفْرُغُ مِنْ حَاجَتِهِ؛ لِتَحْفَظَ مَتَاعَهُ، وَتُصْلِحَ لَهُ شَأْنَهُ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ} [النساء: ٢٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، وَنُسِخَ الْأَجَلُ وَحُرِّمَتِ الْمُتْعَةُ، وَتَصْدِيقُهَا فِي الْقُرْآنِ {إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ} [المؤمنون: ٦] ، فَمَا سِوَى هَذَا الْفَرْجِ فَهُوَ حَرَامٌ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ابتدائے اسلام میں متعہ کا رواج تھا، اور لوگ یہ آیت پڑھا کرتے تھے: ”تو جن عورتوں سے تم فائدہ اٹھاؤ“ [سورۃ النساء: 24] ایک مقررہ مدت تک۔ ایسا ہوتا تھا کہ آدمی کسی شہر میں آتا جہاں اس کی کوئی جان پہچان نہ ہوتی، تو وہ اتنی مدت کے لیے نکاح کر لیتا جتنی مدت میں اسے اپنی ضرورت پوری ہونے کا اندازہ ہوتا؛ تاکہ وہ اس کے سامان کی حفاظت کرے اور اس کے معاملات درست رکھے، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ”تم پر حرام کی گئی ہیں تمہاری مائیں“ [سورۃ النساء: 23] آیت کے آخر تک، تو مدت کی تعیین منسوخ ہو گئی اور متعہ حرام کر دیا گیا، اور اس کی تصدیق قرآن میں یہ آیت ہے: ”سوائے اپنی بیویوں یا اپنی مملوکہ لونڈیوں کے، بے شک ان پر کوئی ملامت نہیں“ [سورۃ المؤمنون: 6]، تو اس کے سوا جو بھی شرمگاہ کا معاملہ ہو وہ حرام ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10736
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 320، حدیث 10782