المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ذكوان عن ابن عباس باب: ذکوان کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ ذَكْوَانُ حَاجِبُ عَائِشَةَ قَالَ: جَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى عَائِشَةَ، فَجِئْتُ وَعِنْدَ رَأْسِهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَقُلْتُ: هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ، فَأَكَبَّ عَلَيْهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللهِ فَقَالَ: هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَتْ: دَعْنِي مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ فَإِنَّهُ لَا حَاجَةَ لِي بِهِ، فَقَالَ: يَا أُمَّتَاهُ، إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ صَالِحِي بَنِيكِ يُسَلِّمُ وَيُوَدِّعُكِ، قَالَتِ: ائْذَنْ لَهُ إِنْ شِئْتَ، فَأَدْخَلْتُهُ، فَلَمَّا جَلَسَ قَالَ: أَبْشِرِي، فَقَالَتْ: أَيْضًا، فَقَالَ: مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ تَلْحَقِي مُحَمَّدًا إِلَّا أَنْ تَخْرُجَ الرُّوحُ مِنَ الْجَسَدِ، كُنْتِ أَحَبَّ نِسَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ إِلَّا طَيِّبًا، وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ لَيْلَةَ الْأَبْوَاءِ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُصْبِحَ فِي الْمَنْزِلِ، وَأَصْبَحَ النَّاسُ لَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ {فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [النساء: ٤٣] ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي سَبَبِكَ وَمَا أَنْزَلَ اللهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ مِنَ الرُّخْصَةِ، وَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ، جَاءَ بِهَا الرُّوحُ الْأَمِينُ، فَأَصْبَحَ وَلَيْسَ مَسْجِدٌ مِنْ مَسَاجِدِ اللهِ يَذْكُرُ اللهَ إِلَّا هِيَ تُتْلَى فِيهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَقَالَتْ: دَعْنِي مِنْكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّاسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دربان ذکوان بیان کرتے ہیں: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت طلب کرنے آئے، میں آیا تو ان کے سرہانے ان کا بھتیجا عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر تھا، میں نے کہا: یہ ابن عباس اجازت طلب کر رہے ہیں۔ تو ان کے بھتیجے عبداللہ نے ان کی طرف جھک کر کہا: یہ ابن عباس اجازت طلب کر رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: مجھے ابن عباس سے کیا سروکار، مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں۔ اس نے کہا: اے میری ماں! ابن عباس آپ کے صالح بیٹوں میں سے ہیں، وہ آپ کو سلام کرنے اور آپ سے رخصت لینے آئے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: اگر تم چاہو تو انہیں اجازت دے دو۔ چنانچہ میں نے انہیں اندر بلایا۔ جب وہ بیٹھے تو کہا: خوشخبری ہو۔ انہوں نے فرمایا: پھر کیا؟ تو انہوں نے کہا: آپ اور محمد ﷺ سے ملنے کے درمیان اس کے سوا کچھ حائل نہیں کہ روح جسم سے نکل جائے۔ آپ رسول اللہ ﷺ کی بیویوں میں سے رسول اللہ ﷺ کے نزدیک سب سے محبوب تھیں، اور رسول اللہ ﷺ صرف پاکیزہ چیز سے محبت کرتے تھے۔ اور مقامِ ابواء کی رات آپ کا ہار گر گیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ صبح ہونے تک وہیں ٹھہرے رہے، اور لوگوں کے پاس صبح پانی نہ تھا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”تو پاک مٹی سے تیمم کر لو“ [سورۃ النساء: 43]، اور یہ آپ کی وجہ سے ہوا، اور اللہ نے اس امت کے لیے یہ رخصت نازل فرمائی۔ اور اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے آپ کی برأت (بے گناہی) نازل فرمائی، جسے امانت دار روح (جبرائیل علیہ السلام) لے کر آئے، تو صبح ہوئی اور اللہ کی کوئی مسجد ایسی نہ تھی جس میں اللہ کا ذکر کیا جاتا ہو مگر وہ آیت رات دن اس میں پڑھی جاتی۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے ابن عباس! مجھے چھوڑ دو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میری خواہش ہے کہ میں بھلائی گئی، بھولی بسری چیز ہوتی۔