حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خَيْثَمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَأَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَكَّةَ: «مَا أَطْيَبَكِ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے فرمایا: ”تو کتنی پاکیزہ اور مجھے پیاری ہے، اور اگر تیری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، أَوْ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ، وَأَنَّهَا سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، فَقَدْ رَمَلَ، وَلَيْسَتْ بِسُنَّةٍ، وَلَكِنْ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأصْحَابُهُ وَالْمُشْرِكُونَ عَلَى جَبَلِ قُعَيْقِعَانَ، فَبَلَغَهُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ بِهِ هَزْلًا وَبِأَصْحَابِهِ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا لِيُرِيَهُمْ أَنَّ بِهِ قُوَّةً ".
ترجمہ
ابوالطفیل کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما میرے پاس آئے، میں نے عرض کیا: اے ابوعباس، یا اے ابن عباس! آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمل کیا اور یہ سنت ہے۔ فرمایا: انہوں نے سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی: رمل تو ہوا تھا، لیکن یہ سنت نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ اور مشرکین قعیقعان پہاڑ کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ کو خبر ملی کہ وہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کمزور ہو چکے ہیں، تو آپ ﷺ نے انہیں رمل کرنے کا حکم دیا تاکہ انہیں دکھا سکیں کہ ان میں طاقت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی جیسی ایک حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بِالْبَيْتِ، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَنَّهَا سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ
ترجمہ
ابوالطفیل کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ کے طواف میں، اور صفا و مروہ کے درمیان، رمل کیا، اور یہ سنت ہے۔ فرمایا: انہوں نے سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی، یہ سنت نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي غَانِمٍ الْغَنَوِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ؛ فَإِنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: مَا صَدَقُوا، وَمَا كَذَبُوا؟ قَالَ: صَدَقُوا إِنَّهُ قَدْ رَمَلَ، وَكَذَبُوا لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ، إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ: دَعُوا مُحَمَّدًا وَأصْحَابَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ، فَلَمَّا صَالَحُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجِيئُوا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ» ، وَلَيْسَتْ بِسُنَّةٍ، قُلْتُ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قَالَ: قُلْتُ: مَا صَدَقُوا، وَمَا كَذَبُوا؟ قَالَ: صَدَقُوا، قَدْ طَافَ عَلَى بَعِيرٍ، وَكَذَبُوا لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ؛ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدْفَعُ عَنْهُ النَّاسَ وَلَا يُضْرَبُوا عَنْهُ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا كَلَامَهُ وَيَرَوْا مَكَانَهُ، وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ، قُلْتُ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ اعْتَرَضَ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى، فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، وَعَرَضَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَهْ، إِنَّهُ لَيْسَ قَمِيصٌ فَكَفِّنِّي فِيهِ، وَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَعْيَنَ أَبْيَضَ أَقْرَنَ، فَذَبَحَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الْجَمْرَةِ الْقُصْوَى، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ إِلَى مِنًى فَقَالَ: هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ إِلَى عَرَفَةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ تَدْرِي لِمَ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ؟ قُلْتُ: لِمَ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ؟ قَالَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: هَلْ عَرَفْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَتِ التَّلْبِيَةُ؟ قُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَتِ التَّلْبِيَةُ؟ قَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَنْ أُمِرَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ خَفَضَتْ لَهُ الْجِبَالُ رُءُوسَهَا، رُفِعَتْ لَهُ الْقُرَى فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ
ترجمہ
اگلے سال رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، جبکہ مشرکین قعیقعان کی طرف سے دیکھ رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف رمل کے ساتھ کرو“، اور یہ سنت نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا و مروہ کے درمیان اونٹ پر سعی کی، اور یہ سنت ہے۔ فرمایا: انہوں نے سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی۔ میں نے عرض کیا: کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ؟ فرمایا: سچ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اونٹ پر سعی کی، اور جھوٹ یہ کہ یہ سنت نہیں: رسول اللہ ﷺ لوگوں کو اپنے سے دور نہیں ہٹاتے تھے اور نہ انہیں مارا جاتا تھا، تو آپ ﷺ نے اونٹ پر سعی کی تاکہ لوگ آپ ﷺ کی بات سن سکیں اور آپ ﷺ کی جگہ دیکھ سکیں، اور ان کے ہاتھ آپ ﷺ تک نہ پہنچ سکیں۔ میں نے عرض کیا: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، اور یہ سنت ہے۔ فرمایا: انہوں نے سچ کہا: جب ابراہیم علیہ السلام کو مناسکِ حج کا حکم دیا گیا تو شیطان مسعیٰ کے مقام پر ان کے سامنے آیا، اس نے ان سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے نکل گئے۔ پھر جبریل علیہ السلام انہیں جمرہ عقبہ کی طرف لے گئے، شیطان ان کے سامنے آیا، تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا، پھر وہ جمرہ وسطیٰ کے پاس سامنے آیا، تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا۔ پھر انہوں نے اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹا دیا، اور اسماعیل علیہ السلام نے ایک سفید قمیص پہنی ہوئی تھی، تو انہوں نے کہا: اے ابا! میری یہ قمیص نکال کر اس میں مجھے کفن دے دینا۔ تو ابراہیم علیہ السلام نے مڑ کر دیکھا تو ایک بڑی آنکھوں والا، سفید، سینگوں والا مینڈھا پایا، تو اسے ذبح کر دیا۔ پھر جبریل علیہ السلام انہیں جمرہ عقبہ کی طرف لے گئے، شیطان ان کے سامنے آیا، تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا۔ پھر انہیں منیٰ لے گئے اور فرمایا: یہ مشعر حرام ہے۔ پھر انہیں عرفہ لے گئے، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے عرفہ کا نام کیوں رکھا گیا؟ میں نے کہا: کیوں رکھا گیا؟ فرمایا: جبریل علیہ السلام نے ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا: کیا تم نے پہچان لیا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے تلبیہ کیسے شروع ہوا؟ میں نے کہا: تلبیہ کیسے شروع ہوا؟ فرمایا: جب ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں میں حج کا اعلان کریں تو پہاڑوں نے ان کے لیے اپنے سر جھکا دیے، اور بستیاں ان کے لیے بلند کر دی گئیں، تو انہوں نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ مَكَّةَ قَالَ: «إِنَّ الْقَوْمَ قَدْ زَعَمُوا أَنَّكُمْ قَدْ هَلَكْتُمْ هَزْلًا وَجُوعًا، فَارْمُلُوا إِذَا دَخَلْتُمْ وَاسْتَلَمْتُمْ ثَلَاثَةَ أَشْوَاطٍ» ، فَفَعَلُوا، فَقَالَ أَهْلُ مَكَّةَ: مَا نَرَى الْقَوْمَ إِلَّا أَقْوِيَاءَ، وَقَدْ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا هَزْلًا
ترجمہ
(سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ) نبی کریم ﷺ نے جب مکہ میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”لوگوں کا خیال ہے کہ تم کمزوری اور بھوک سے ہلاک ہو گئے ہو، تو جب داخل ہو اور استلام کرو تو تین چکر رمل کے ساتھ کرو۔“ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، تو اہلِ مکہ نے کہا: ہم تو ان لوگوں کو طاقتور ہی دیکھتے ہیں، حالانکہ تم نے سمجھا تھا کہ وہ کمزوری سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ فَطَافَ بِالْبَيْتِ مَاشِيًا
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جعرانہ سے عمرہ کیا اور پیدل چل کر بیت اللہ کا طواف کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمُعَاوِيَةَ وَهُمَا يَطُوفَانِ بِالْبَيْتِ، فَكَانَ مُعَاوِيَةُ لَا يَمُرُّ بِرُكْنٍ إِلَّا اسْتَلَمَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ إِلَّا الْحَجَرَ الْيَمَانِيَّ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْبَيْتِ مَهْجُورًا
ترجمہ
ابوالطفیل کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا جب وہ دونوں بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے، معاویہ رضی اللہ عنہ جس رکن کے پاس سے بھی گزرتے استلام کرتے، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ صرف رکنِ یمانی کا استلام کرتے تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیت اللہ کی کوئی چیز چھوڑی ہوئی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، قَالَا: ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الطُّفَيْلِ، أَنَّهُ رَأَى مُعَاوِيَةَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ، عَنْ يَسَارِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَأَنَا أَتْلُوهُمَا فِي ظُهُورِهِمَا أَسْمَعُ كَلَامَهُمَا، فَطَفِقَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ رُكْنَيِ الْحَجَرِ، فَيَقُولُ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، فَيَقُولُ مُعَاوِيَةُ: ذَرْنِي مِنْكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؛ فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ مِنْهَا مَهْجُورًا
ترجمہ
ابوالطفیل کہتے ہیں کہ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا، ان کے بائیں طرف سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے، اور میں ان دونوں کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا اور ان کی گفتگو سن رہا تھا، تو معاویہ رضی اللہ عنہ حجرِ اسود کے دونوں کونوں کا بھی استلام کرنے لگے، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ان سے فرماتے: رسول اللہ ﷺ ان دونوں کونوں کا استلام نہیں کرتے تھے۔ تو معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے: اے ابن عباس! مجھے چھوڑو، اس کی کوئی چیز نظرانداز شدہ نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَأَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ: «مَا أَطْيَبَكِ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے فرمایا: ”تو کتنی پاکیزہ اور مجھے پیاری ہے، اور اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: حَجَّ مُعَاوِيَةُ وَابْنُ عَبَّاسٍ، فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ يَسْتَلِمُ الْأَرْكَانَ كُلَّهَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ
ترجمہ
ابوالطفیل کہتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حج کیا، معاویہ رضی اللہ عنہ تمام ارکان کا استلام کرنے لگے، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو صرف انہی دونوں رکنوں کا استلام کرتے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ الْبَكْرِيِّ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «لَمْ أَرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ غَيْرَ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَّيْنِ»
ترجمہ
ابوالطفیل بکری کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دونوں یمانی رکنوں کے سوا کسی اور کا استلام کرتے نہیں دیکھا۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: حَجَّ مُعَاوِيَةُ فَجَعَلَ لَا يَأْتِي عَلَى رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلَّا اسْتَلَمَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ وَالْحَجَرَ. فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: لَيْسَ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ شَيْءٌ مَهْجُورٌ
ترجمہ
ابوالطفیل کہتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا اور بیت اللہ کے کسی رکن کے پاس سے نہ گزرتے مگر اس کا استلام کرتے، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ صرف رکنِ یمانی اور حجرِ اسود کا استلام کرتے تھے۔ تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیت اللہ کے ارکان میں سے کوئی چیز نظرانداز شدہ نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، أَوْ عَنِ الْعَلَاءِ، شَكَّ أَبُو بَكْرٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «كُنَّا نُسَمِّيهَا شَبَّاعَةَ، يَعْنِي زَمْزَمَ، وَكُنَّا نَجِدُهَا نِعْمَ الْعَوْنُ عَلَى الْعِيَالِ»
ترجمہ
ابوالطفیل کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا: ”ہم اسے شبّاعہ (خوب سیر کرنے والی) کہا کرتے تھے، یعنی زمزم کو، اور ہم اسے بال بچوں کی کفالت میں بہترین مددگار پاتے تھے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِنَاسٍ مِنَ الزُّطِّ يَعْبُدُونَ وَثَنًا، فَحَرَّقَهُمْ بِالنَّارِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ»
ترجمہ
قتادہ، انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس زط کے کچھ لوگ لائے گئے جو ایک بت کی پوجا کرتے تھے، تو انہوں نے انہیں آگ میں جلا دیا۔ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے صرف یہ فرمایا تھا: ”جو اپنا دین بدل دے اسے قتل کر دو۔“