حدیث نمبر: 10582
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي غَانِمٍ الْغَنَوِيِّ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَمَلَ بِالْبَيْتِ؛ فَإِنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: مَا صَدَقُوا، وَمَا كَذَبُوا؟ قَالَ: صَدَقُوا إِنَّهُ قَدْ رَمَلَ، وَكَذَبُوا لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ، إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ: دَعُوا مُحَمَّدًا وَأصْحَابَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ، فَلَمَّا صَالَحُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجِيئُوا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ» ، وَلَيْسَتْ بِسُنَّةٍ، قُلْتُ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قَالَ: قُلْتُ: مَا صَدَقُوا، وَمَا كَذَبُوا؟ قَالَ: صَدَقُوا، قَدْ طَافَ عَلَى بَعِيرٍ، وَكَذَبُوا لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ؛ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدْفَعُ عَنْهُ النَّاسَ وَلَا يُضْرَبُوا عَنْهُ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا كَلَامَهُ وَيَرَوْا مَكَانَهُ، وَلَا تَنَالُهُ أَيْدِيهِمْ، قُلْتُ: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ اعْتَرَضَ عَلَيْهِ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى، فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، وَعَرَضَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ، فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَهْ، إِنَّهُ لَيْسَ قَمِيصٌ فَكَفِّنِّي فِيهِ، وَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَعْيَنَ أَبْيَضَ أَقْرَنَ، فَذَبَحَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الْجَمْرَةِ الْقُصْوَى، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ، فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ إِلَى مِنًى فَقَالَ: هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ إِلَى عَرَفَةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ تَدْرِي لِمَ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ؟ قُلْتُ: لِمَ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ؟ قَالَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: هَلْ عَرَفْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَتِ التَّلْبِيَةُ؟ قُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَتِ التَّلْبِيَةُ؟ قَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَنْ أُمِرَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ خَفَضَتْ لَهُ الْجِبَالُ رُءُوسَهَا، رُفِعَتْ لَهُ الْقُرَى فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ
ترجمہ

اگلے سال رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، جبکہ مشرکین قعیقعان کی طرف سے دیکھ رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”بیت اللہ کا طواف رمل کے ساتھ کرو“، اور یہ سنت نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا و مروہ کے درمیان اونٹ پر سعی کی، اور یہ سنت ہے۔ فرمایا: انہوں نے سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی۔ میں نے عرض کیا: کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ؟ فرمایا: سچ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اونٹ پر سعی کی، اور جھوٹ یہ کہ یہ سنت نہیں: رسول اللہ ﷺ لوگوں کو اپنے سے دور نہیں ہٹاتے تھے اور نہ انہیں مارا جاتا تھا، تو آپ ﷺ نے اونٹ پر سعی کی تاکہ لوگ آپ ﷺ کی بات سن سکیں اور آپ ﷺ کی جگہ دیکھ سکیں، اور ان کے ہاتھ آپ ﷺ تک نہ پہنچ سکیں۔ میں نے عرض کیا: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا و مروہ کے درمیان سعی کی، اور یہ سنت ہے۔ فرمایا: انہوں نے سچ کہا: جب ابراہیم علیہ السلام کو مناسکِ حج کا حکم دیا گیا تو شیطان مسعیٰ کے مقام پر ان کے سامنے آیا، اس نے ان سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے نکل گئے۔ پھر جبریل علیہ السلام انہیں جمرہ عقبہ کی طرف لے گئے، شیطان ان کے سامنے آیا، تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا، پھر وہ جمرہ وسطیٰ کے پاس سامنے آیا، تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا۔ پھر انہوں نے اسماعیل علیہ السلام کو پیشانی کے بل لٹا دیا، اور اسماعیل علیہ السلام نے ایک سفید قمیص پہنی ہوئی تھی، تو انہوں نے کہا: اے ابا! میری یہ قمیص نکال کر اس میں مجھے کفن دے دینا۔ تو ابراہیم علیہ السلام نے مڑ کر دیکھا تو ایک بڑی آنکھوں والا، سفید، سینگوں والا مینڈھا پایا، تو اسے ذبح کر دیا۔ پھر جبریل علیہ السلام انہیں جمرہ عقبہ کی طرف لے گئے، شیطان ان کے سامنے آیا، تو انہوں نے اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا۔ پھر انہیں منیٰ لے گئے اور فرمایا: یہ مشعر حرام ہے۔ پھر انہیں عرفہ لے گئے، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے عرفہ کا نام کیوں رکھا گیا؟ میں نے کہا: کیوں رکھا گیا؟ فرمایا: جبریل علیہ السلام نے ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا: کیا تم نے پہچان لیا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے تلبیہ کیسے شروع ہوا؟ میں نے کہا: تلبیہ کیسے شروع ہوا؟ فرمایا: جب ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں میں حج کا اعلان کریں تو پہاڑوں نے ان کے لیے اپنے سر جھکا دیے، اور بستیاں ان کے لیے بلند کر دی گئیں، تو انہوں نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10582
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 268، حدیث 10628