حدیث نمبر: 10579
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، أَوْ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، إِنَّ قَوْمَكَ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ، وَأَنَّهَا سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، فَقَدْ رَمَلَ، وَلَيْسَتْ بِسُنَّةٍ، وَلَكِنْ قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأصْحَابُهُ وَالْمُشْرِكُونَ عَلَى جَبَلِ قُعَيْقِعَانَ، فَبَلَغَهُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ بِهِ هَزْلًا وَبِأَصْحَابِهِ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا لِيُرِيَهُمْ أَنَّ بِهِ قُوَّةً ".
ترجمہ

ابوالطفیل کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما میرے پاس آئے، میں نے عرض کیا: اے ابوعباس، یا اے ابن عباس! آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمل کیا اور یہ سنت ہے۔ فرمایا: انہوں نے سچ بھی کہا اور جھوٹ بھی: رمل تو ہوا تھا، لیکن یہ سنت نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ اور مشرکین قعیقعان پہاڑ کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ کو خبر ملی کہ وہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کمزور ہو چکے ہیں، تو آپ ﷺ نے انہیں رمل کرنے کا حکم دیا تاکہ انہیں دکھا سکیں کہ ان میں طاقت ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10579
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 267، حدیث 10625