کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ، فَإِنَّهُمْ لَنْ يَهْدُوكُمْ وَقَدْ أَضَلُّوا أَنْفُسَهُمْ، إِمَّا يُحَدِّثُونَكُمْ بِصِدْقٍ فَتُكَذِّبُونَهُمْ، أَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُونَهُمْ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اہلِ کتاب سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرو، کیونکہ وہ تمہیں ہدایت نہیں دے سکتے جبکہ وہ خود گمراہ ہو چکے ہیں۔ یا تو وہ تمہیں سچی بات بتائیں گے تو تم اسے جھٹلاؤ گے، یا باطل بات بتائیں گے تو تم اسے سچ سمجھ لو گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9724
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 354، حدیث 9759
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الزَّعْرَاءِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ: ذَكَرَ الشَّفَاعَةَ، قَالَ: «فَيَقُومُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَابِعَ أَرْبَعَةٍ» قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ أَسْمَعْ هَذَا إِلَّا فِي هَذَا الْحَدِيثِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے شفاعت کا ذکر کیا اور فرمایا: ”تمہارے نبی ﷺ چوتھے نمبر پر کھڑے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9725
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 354، حدیث 9760
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ الدَّجَّالَ فَقَالَ: " تَفْتَرِقُونَ أَيُّهَا النَّاسُ ثَلَاثَ فِرَقٍ: فِرْقَةٌ تَتْبَعُهُ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِأَرْضِ آبَائِهَا مَنَابِتِ الشِّيحِ، وَفِرْقَةٌ تَأْخُذُ شَطَّ هَذَا الْفُرَاتِ فَيُقَاتِلُهُمْ، وَيُقَاتِلُونَهُ حَتَّى يَجْتَمِعَ الْمُؤْمِنُونَ بِغَرْبِيِّ الشَّامِ، فَيَبْعَثُونَ إِلَيْهِ طَلِيعَةً فِيهِمْ فَارِسٌ عَلَى فَرَسٍ أَشْقَرَ أَوْ أَبْلَقَ فَيُقْتَلُونَ لَا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ شَيْءٌ "، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو صَادِقٍ: عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «فَرَسٌ أَشْقَرُ» ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: «وَيَزْعُمُ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّ الْمَسِيحَ يَنْزِلُ فَيَقْتُلُهُ» - وَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا - " ثُمَّ يَخْرُجُ يَأْجُوجُ، وَمَأْجُوجُ، فَيَمُوجُونَ فِي الْأَرْضِ فَيُفْسِدُونَ فِيهَا، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ} [الأنبياء: ٩٦] يَنْسِلُونَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ عَلَيْهِ دَابَّةً مِثْلَ هَذِهِ النَّغَفَةِ فَيَلِجُ فِي أَسْمَاعِهِمْ وَمَنَاخِرِهِمْ فَيَمُوتُونَ، فَتَنْتُنُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ "، قَالَ: «فَيَجْأَرُ الْأَرْضُ إِلَى اللهِ فَيُرْسِلُ اللهُ مَاءً فَيُطَهِّرُ الْأَرْضَ مِنْهُمْ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ رِيحًا فِيهِ زَمْهَرِيرٌ بَارِدَةً فَلَا تَدَعُ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مُؤْمِنًا إِلَّا كُفِتَ بِتِلْكَ الرِّيحِ، ثُمَّ تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى شِرَارِ النَّاسِ، ثُمَّ يَقُومُ مَلَكٌ بِالصُّورِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَيَنْفُخُ فِيهِ، وَلَا يَبْقَى خَلْقٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي السَّمَاوَاتِ، وَالْأَرْضِ إِلَّا مَاتَ إِلَّا مَنْ شَاءَ رَبُّكَ، ثُمَّ يَكُونُ بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكُونَ» ، قَالَ: " فَلَيْسَ مِنْ بَنِي آدَمَ خَلْقٌ إِلَّا فِي الْأَرْضِ مِنْهُ شَيْءٌ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللهُ مَاءً مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ يُمْنِي كَمَنِيِّ الرَّجاُلِ، فَتَنْبُتُ جُسْمَانُهُمْ، وَلُحْمَانُهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ كَمَا يَنْبُتُ الْأَرْضُ مِنَ السُّدِّيِّ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا} [الروم: ٤٨] «فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا كَذَلِكَ النُّشُورُ» ، ثُمَّ يَقُومُ مَلَكٌ بِالصُّورِ بَيْنَ السَّمَاءِ، وَالْأَرْضِ فَيَنْفُخُ فِيهِ فَتَنْطَلِقُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَى جَسَدِهَا حَتَّى يَدْخُلَ فِيهِ، فَيَقُومُونَ فَيَحْيَوْنَ حَيَّةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ قِيَامًا لِرَبِّ الْعَالَمِينَ، ثُمَّ يَتَمَثَّلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْخَلْقِ فَيَلْقَاهُمْ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلْقِ يَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللهِ شَيْئًا إِلَّا هُوَ مُرْتَفِعٌ لَهُ يَتْبَعُهُ، فَيُلْقَى الْيَهُودَ فَيَقُولُ: مَا تَعْبُدُونَ؟ قَالُوا: عُزَيْرًا، قَالَ: هَلْ يَسُرُّكُمُ الْمَاءُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَيُرِيهِمْ جَهَنَّمَ كَهَيْئَةِ السَّرَابِ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا} [الكهف: ١٠٠] ثُمَّ يَلْقَى النَّصَارَى فَيَقُولُ: مَا تَعْبُدُونَ؟ قَالُوا: الْمَسِيحَ، قَالَ: فَهَلْ يَسُرُّكُمُ السَّرَابُ؟ قَالُوا: نَعَمْ فَيُرِيهِمْ جَهَنَّمَ كَهَيْئَةِ السَّرَابِ، وَكَذَلِكَ لِمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللهِ شَيْئًا، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ} [الصافات: ٢٤] حَتَّى يَمُرَّ الْمُسْلِمُونَ فَيَلْقَاهُمْ فَيَقُولُ: مَنْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعْبُدُ اللهَ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، فَيَنْتَهِرُهُمْ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ: مَنْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: سُبْحَانَهُ إِذَا اعْتَرَفَ لَنَا عَرَفْنَاهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَلَا يَبْقَى مُؤْمِنٌ إِلَّا خَرَّ لِلَّهِ سَاجِدًا، وَيَبْقَى الْمُنَافِقُونَ ظُهُورُهُمْ طَبَقًا وَاحِدًا كَأَنَّمَا فِيهَا السَّفَافِيدُ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا، فَيَقُولُ: قَدْ كُنْتُمْ تُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ، وَأَنْتُمْ سَالِمُونَ، ثُمَّ يَأْمُرُ بِالصِّرَاطِ فَيُضْرَبُ عَلَى جَهَنَّمَ، فَيَمُرُّ النَّاسُ بِأَعْمَالِهِمْ زُمَرًا، أَوَائِلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ، ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ، ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ، ثُمَّ كَأَسْرَعِ الْبَهَائِمِ "، ثُمَّ قَالَ: " ثُمَّ كَذَلِكَ حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ سَعْيًا، حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ مَشْيًا، حَتَّى يَكُونَ آخِرُهُمْ رَجُلًا يُتَلَقَّى عَلَى بَطْنِهِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَبْطَأْتَ بِي، فَيَقُولُ: إِنَّمَا أَبْطَأَ بِكَ عَمَلُكَ، ثُمَّ يَأْذَنُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الشَّفَاعَةِ، فَيَكُونُ أَوَّلُ شَافِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جِبْرِيلُ، ثُمَّ إِبْرَاهِيمُ، ثُمَّ مُوسَى، أَوْ قَالَ عِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، قَالَ سَلَمَةُ: ثُمَّ يَقُومُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَابِعًا لَا يَشْفَعُ أَحَدٌ بَعْدَهُ فِيمَا يَشْفَعُ فِيهِ، وَهُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي وَعَدَهُ اللهُ: {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: ٧٩] وَلَيْسَ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا تَنْظُرُ إِلَى بَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ وَبَيْتٍ فِي النَّارِ، فَيُقَالُ: لَوْ عَمِلْتُمْ، وَهُوَ يَوْمُ الْحَسْرَةِ، قَالَ: فَيَرَى أَهْلُ النَّارِ الْبَيْتَ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ: لَوْ عَمِلْتُمْ، وَيَرَى أَهْلُ الْجَنَّةِ الْبَيْتَ الَّذِي فِي النَّارِ فَيَقُولُ: لَوْلَا أَنْ مَنَّ اللهُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ يَشْفَعُ الْمَلَائِكَةُ، وَالنَّبِيُّونَ، وَالشُّهَدَاءُ، وَالصَّالِحُونَ، وَالْمُؤْمِنُونَ فَيُشَفِّعُهُمُ اللهُ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ فَيُخْرِجُ مِنَ النَّارِ أَكْثَرَ مِمَّا أَخْرَجَ مِنَ جَمِيعِ الْخَلْقِ بِرَحْمَتِهِ حَتَّى مَا يَتْرُكُ فِيهَا أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: «قُلْ» يَا أَيُّهَا الْكُفَّارُ {مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ} [المدثر: ٤٢] ، وَعَقَدْ بِيَدِهِ، {قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ} [المدثر: ٤٤] وَعَقَدْ أَرْبَعًا " - وَقَالَ سُفْيَانُ: بِيَدِهِ وَضَمَّ أَرْبَعَ أَصَابِعَ، وَوَصَفَهُ أَبُو نُعَيْمٍ - ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ: " هَلْ تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ؟ فَإِذَا أَرَادَ اللهُ أَنْ لَا يُخْرِجَ مِنْهَا أَحَدًا غَيَّرَ وُجُوهَهُمْ وَأَلْوَانَهُمْ، فَيَجِيءُ الرَّجُلُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَيَشْفَعُ، فَقَالَ لَهُ: مَنْ عَرَفَ أَحَدًا فَلْيُخْرِجْهُ، فَيَجِيءُ الرَّجُلُ فَيَنْظُرُ وَلَا يَعْرِفُ أَحَدًا، فَيَقُولُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا فُلَانُ أَنَا فُلَانٌ، فَيَقُولُ: مَا أَعْرِفُكَ، فَيَقُولُونَ: {رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ} فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ: أُطْبِقَتْ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَخْرُجْ مِنْهُمْ بَشَرٌ "
ترجمہ
ابو الزعراء رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اے لوگو! تم تین گروہوں میں بٹ جاؤ گے: ایک گروہ اس کی پیروی کرے گا، ایک گروہ اپنے آباء و اجداد کی سرزمین، جھاڑیوں کے اگنے کی جگہوں کی طرف چلا جائے گا، اور ایک گروہ اس فرات (کے کنارے) کا رخ کرے گا، تو وہ ان سے لڑے گا اور وہ اس سے لڑیں گے، یہاں تک کہ مومنین شام کے مغربی حصے میں جمع ہو جائیں گے۔ وہ اس کی طرف ایک دستہ روانہ کریں گے جس میں ایک سوار سرخی مائل یا سیاہ و سفید گھوڑے پر ہو گا تو وہ سب قتل کر دیے جائیں گے، ان میں سے کوئی چیز بھی (زندہ) واپس نہ آئے گی۔ راوی کہتے ہیں: اور ابو صادق نے مجھے ربیعہ بن ناجد کے واسطے سے عبداللہ (بن مسعود) سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا: سرخی مائل گھوڑا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے (یہ بھی) فرمایا: ”اور اہلِ کتاب کا گمان ہے کہ مسیح (علیہ السلام) نازل ہو کر اسے قتل کریں گے“ - اور میں نے انہیں اہلِ کتاب کے حوالے سے اس کے سوا کوئی حدیث بیان کرتے نہیں سنا - ”پھر یاجوج ماجوج نکلیں گے، وہ زمین میں موجیں مارتے ہوئے پھیل جائیں گے اور فساد مچائیں گے“۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تلاوت کی: ◇اور وہ ہر بلندی سے◇ [الانبیاء: 96] تیزی سے اتریں گے۔ ”پھر اللہ ان پر اس نغفہ (اونٹ کی ناک میں پیدا ہونے والے کیڑے) جیسی ایک مخلوق بھیجے گا جو ان کے کانوں اور نتھنوں میں گھس جائے گی تو وہ سب مر جائیں گے، اور زمین ان کی بدبو سے بھر جائے گی“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر زمین اللہ کے حضور فریاد کرے گی تو اللہ پانی برسائے گا جو زمین کو ان (کی لاشوں) سے پاک کر دے گا۔ پھر اللہ ایک ایسی ہوا بھیجے گا جس میں سخت ٹھنڈک ہو گی، وہ زمین پر کسی مومن کو نہیں چھوڑے گی مگر اسے اٹھا لے گی، پھر قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہو گی۔ پھر ایک فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان صور لے کر کھڑا ہو گا اور اس میں پھونک مارے گا، اور آسمانوں اور زمین میں اللہ عزوجل کی کوئی مخلوق باقی نہ رہے گی مگر مر جائے گی، سوائے اس کے جسے تیرا رب چاہے، پھر دونوں پھونکوں کے درمیان اتنا وقفہ ہو گا جتنا اللہ چاہے گا“۔ فرمایا: ”پس بنی آدم میں سے کوئی مخلوق ایسی نہیں جس کا کچھ حصہ زمین میں نہ ہو، پھر اللہ عرش کے نیچے سے ایسا پانی بھیجے گا جو مردوں کی منی کی طرح ہو گا، اس پانی سے ان کے جسم اور گوشت اسی طرح اگیں گے جیسے زمین سے سبزہ اگتا ہے۔“ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تلاوت کی: ◇جو ہواؤں کو بھیجتا ہے پس وہ بادل کو اٹھاتی ہیں◇ [الروم: 48] ”پھر ہم نے اسے ایک مردہ شہر کی طرف چلایا، پھر اس کے ذریعے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کیا، اسی طرح (مردوں کا) اٹھایا جانا ہو گا۔“ پھر ایک فرشتہ آسمان و زمین کے درمیان صور لے کر کھڑا ہو گا اور اس میں پھونک مارے گا تو ہر جان اپنے جسم کی طرف لپکے گی یہاں تک کہ اس میں داخل ہو جائے گی، پھر سب لوگ ایک آدمی کی طرح کھڑے ہو کر رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔ پھر اللہ عزوجل مخلوق کے لیے تجلی فرمائے گا اور ان سے ملے گا، تو مخلوق میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا جو اللہ کے سوا کسی چیز کی عبادت کرتا ہو مگر وہ چیز اسے نمایاں طور پر نظر آئے گی اور اس کی پیروی کرے گی۔ چنانچہ یہودیوں سے ملاقات ہو گی اور پوچھا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: عزیر کی۔ فرمایا جائے گا: کیا تمہیں یہ پانی پسند آئے گا؟ وہ کہیں گے: ہاں۔ پھر انہیں جہنم سراب کی صورت میں دکھائی جائے گی۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تلاوت کی: ◇اور اس دن ہم کافروں کے سامنے جہنم کو پیش کریں گے◇ [الکہف: 100]۔ پھر عیسائیوں سے ملاقات ہو گی اور پوچھا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: مسیح کی۔ فرمایا جائے گا: کیا تمہیں یہ سراب پسند آئے گا؟ وہ کہیں گے: ہاں۔ پھر انہیں بھی جہنم سراب کی صورت میں دکھائی جائے گی، اور اسی طرح ہر اس شخص کے ساتھ ہو گا جو اللہ کے سوا کسی چیز کی عبادت کرتا تھا۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تلاوت کی: ◇اور انہیں روک لو، بے شک ان سے پوچھ گچھ ہونی ہے◇ [الصافات: 24]۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کی باری آئے گی، ان سے ملاقات ہو گی اور پوچھا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم اللہ کی عبادت کرتے تھے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے۔ پھر انہیں ایک یا دو بار ڈانٹا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: سبحان اللہ! جب اللہ نے ہمیں (اپنی حقیقت) بتائی تو ہم نے اسے پہچان لیا۔ اسی وقت (اللہ کی) پنڈلی کھولی جائے گی تو ہر مومن اللہ کے حضور سجدے میں گر پڑے گا، اور منافقین کی پیٹھیں ایک ہی تختی کی طرح رہ جائیں گی، گویا ان میں سیخیں پروئی گئی ہوں۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! (تو انہیں) فرمایا جائے گا: تمہیں تو سجدے کی طرف بلایا جاتا تھا جبکہ تم صحیح سالم تھے (اور تم سجدہ نہیں کرتے تھے)۔ پھر پل صراط کا حکم دیا جائے گا جو جہنم پر رکھا جائے گا، لوگ اپنے اعمال کے مطابق گروہوں کی صورت میں گزریں گے، ان میں سے پہلے بجلی کی چمک کی طرح، پھر ہوا کی رفتار کی طرح، پھر پرندے کی رفتار کی طرح، پھر تیز رفتار جانوروں کی طرح۔“ پھر فرمایا: ”پھر اسی طرح یہاں تک کہ آدمی دوڑتا ہوا آئے گا، پھر آدمی چلتا ہوا آئے گا، یہاں تک کہ ان میں سے آخری شخص اپنے پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا لایا جائے گا اور کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے دیر لگا دی۔ اللہ فرمائے گا: تمہیں تمہارے عمل نے ہی دیر لگائی ہے۔ پھر اللہ عزوجل شفاعت کی اجازت دے گا تو قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کرنے والے جبریل علیہ السلام ہوں گے، پھر ابراہیم علیہ السلام، پھر موسیٰ علیہ السلام، یا فرمایا: عیسیٰ علیہ السلام۔“ سلمہ (راوی) کہتے ہیں: ”پھر تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چوتھے نمبر پر کھڑے ہوں گے، ان کے بعد کوئی اس چیز میں شفاعت نہ کرے گا جس میں وہ شفاعت کر چکے ہوں گے، اور یہی وہ مقامِ محمود ہے جس کا اللہ نے وعدہ فرمایا ہے: ◇قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقامِ محمود پر کھڑا کرے◇ [الاسراء: 79]۔ اور کوئی جان ایسی نہیں جو جنت میں اپنا ایک گھر اور جہنم میں ایک گھر نہ دیکھے۔ کہا جائے گا: اگر تم عمل کرتے (تو یہ جنت کا گھر تمہارا ہوتا)، اور یہی وہ دن ہے جس میں حسرت ہو گی۔“ فرمایا: ”چنانچہ جہنم والے وہ گھر دیکھیں گے جو جنت میں (مل سکتا) تھا، تو کہا جائے گا: اگر تم عمل کرتے۔ اور جنت والے وہ گھر دیکھیں گے جو جہنم میں (ہو سکتا) تھا تو کہا جائے گا: اگر اللہ نے تم پر احسان نہ کیا ہوتا (تو تم بھی اسی میں ہوتے)۔ پھر فرشتے، انبیاء، شہداء اور صالحین اور مومنین شفاعت کریں گے تو اللہ ان کی شفاعت قبول فرمائے گا، پھر اللہ فرمائے گا: میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں۔ چنانچہ وہ اپنی رحمت سے جہنم سے اتنے لوگ نکالے گا جتنے تمام مخلوق نے (مل کر) نہ نکالے ہوں گے، یہاں تک کہ اس میں کسی ایسے شخص کو نہ چھوڑے گا جس میں کچھ بھی خیر ہو۔“ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تلاوت کی: (اے کافرو!) ◇کس چیز نے تمہیں سقر میں ڈالا◇ [المدثر: 42] اور اپنے ہاتھ سے (چار انگلیاں) بند کیں - ◇انہوں نے کہا: ہم نمازی نہ تھے، اور مسکین کو کھانا نہ کھلاتے تھے، اور ہم باطل میں پڑنے والوں کے ساتھ پڑتے تھے، اور روزِ جزا کو جھٹلاتے تھے◇ [المدثر: 44] اور چار (انگلیاں) بند کیں - سفیان نے کہا: (یعنی) اپنے ہاتھ کی چار انگلیاں بند کیں، اور ابونعیم نے بھی اسی طرح بیان کیا - پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم ان میں کسی کو ایسا سمجھتے ہو جس میں کچھ خیر ہو؟ چنانچہ جب اللہ چاہے گا کہ ان میں سے کسی کو نہ نکالے تو ان کے چہرے اور رنگ بدل دے گا۔ پھر مومنین میں سے کوئی شخص (کسی جاننے والے کی) شفاعت کرے گا تو اس سے کہا جائے گا: جو بھی کسی کو پہچانے وہ اسے نکال لے۔ چنانچہ وہ شخص آئے گا، دیکھے گا لیکن کسی کو نہ پہچان سکے گا، تو (جہنم میں پڑا) ایک شخص (اس سے) کہے گا: اے فلاں! میں فلاں ہوں۔ وہ کہے گا: میں تجھے نہیں پہچانتا۔ چنانچہ وہ (سب) کہیں گے: ◇اے ہمارے رب! ہمیں یہاں سے نکال دے، اگر ہم دوبارہ (ایسا کریں) تو ہم ظالم ہوں گے◇ فرمایا جائے گا: ◇ذلیل ہو کر اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو◇، جب یہ فرمایا جائے گا تو ان پر (جہنم) بند کر دی جائے گی، پھر ان میں سے کوئی بشر باہر نہ نکل سکے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9726
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 354، حدیث 9761
حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ الْعِجْلُ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، وَأَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ، قَالَ: «يُعَذَّبُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ فَيُخْرِجُهُمْ بِشَفَاعَةِ الشَّافِعِينَ» ، ثُمَّ قَالَ: «هَؤُلَاءِ الَّذِينَ لَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان میں سے کچھ لوگوں کو عذاب دے گا، پھر شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے انہیں نکال دے گا۔“ پھر فرمایا: ”یہ (دوسرے لوگ) وہ ہیں جنہیں شفاعت کرنے والوں کی شفاعت فائدہ نہیں دیتی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9727
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 357، حدیث 9762
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَالْحَضْرَمِيُّ، قَالُوا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَجْمَعُ اللهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لِمِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ قِيَامًا أَرْبَعِينَ سَنَةً شَاخِصَةً أَبْصَارُهُمْ إِلَى السَّمَاءِ يَنْتَظِرُونَ فَصْلَ الْقَضَاءِ» ، قَالَ: " وَيَنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ مِنَ الْعَرْشِ إِلَى الْكُرْسِيِّ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ أَيُّهَا النَّاسُ: أَلَمْ تَرْضَوْا مِنْ رَبِّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ وَأَمَرَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا أَنْ يُوَلِّيَ كُلَّ نَاسٍ مِنْكُمْ مَا كَانُوا يَتَوَلَّوْنَ وَيَعْبُدُونَ فِي الدِّينِ، أَلَيْسَ ذَلِكَ عَدْلًا مِنْ رَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى "، قَالَ: «فَلْيَنْطَلِقْ كُلُّ قَوْمٍ إِلَى مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ فِي الدُّنْيَا» ، قَالَ: «فَيَنْطَلِقُونَ وَيُمَثَّلُ لَهُمْ أَشْيَاءُ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَنْطَلِقُ إِلَى الشَّمْسِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْطَلِقُ إِلَى الْقَمَرِ، وَإِلَى الْأَوْثَانِ مِنَ الْحِجَارَةِ وَأَشْبَاهِ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ» ، قَالَ: «وَيُمَثَّلُ لِمَنْ كَانَ يَعْبُدُ عِيسَى شَيْطَانُ عِيسَى، وَيُمَثَّلُ لِمَنْ كَانَ يَعْبُدُ عُزَيْرًا شَيْطَانُ عُزَيْرٍ، وَيَبْقَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتُهُ» ، قَالَ: " فَيَتَمَثَّلُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ فَيَأَتِيهِمْ فَيَقُولُ: مَا لَكُمْ لَا تَنْطَلِقُونَ كَمَا انْطَلَقَ النَّاسُ؟ " قَالَ: " فَيَقُولُونَ إِنَّ لَنَا لَإِلَهًا مَا رَأَيْنَاهُ بَعْدُ، فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُونَهُ إِنْ رَأَيْتُمُوهُ؟ فَيَقُولُونَ: إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ عَلَامَةً إِذَا رَأَيْنَاهَا عَرَفْنَاهَا، قَالَ: فَيَقُولُ: مَا هِي؟، فَيَقُولُونَ: يَكْشِفُ عَنْ سَاقِهِ "، قَالَ: " فَعِنْدَ ذَلِكَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَيَخِرُّ كُلُّ مَنْ كَانَ بِظَهْرِهِ طَبَقٌ، وَيَبْقَى قَوْمٌ ظُهُورُهُمْ كَصَياصِيِّ الْبَقَرِ يُرِيدُونَ السُّجُودَ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ، وَقَدْ كَانَ يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سَالِمُونَ، ثُمَّ يَقُولُ: ارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ، فَيَرْفَعُونَ رُءُوسَهُمْ فَيُعْطِيهِمْ نُورَهُمْ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورَهُ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ يَسْعَى بَيْنَ يَدَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورَهُ أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورًا مِثْلَ النَّخْلَةِ بِيَمِينِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورًا أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ، حَتَّى يَكُونَ رَجُلًا يُعْطَى نُورَهُ عَلَى إِبْهَامِ قَدَمِهِ يُضِيءُ مَرَّةً وَيَفِيءُ مَرَّةً، فَإِذَا أَضَاءَ قَدَّمَ قَدَمَهُ فَمَشَى، وَإِذَا طُفِئَ قَامَ "، قَالَ: «وَالرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ أَمَامَهُمْ حَتَّى يَمُرَّ فِي النَّارِ فَيَبْقَى أَثَرُهُ كَحَدِّ السَّيْفِ دَحْضُ مَزِلَّةٍ» ، قَالَ: " وَيَقُولُ: مُرُّوا، فَيَمُرُّونَ عَلَى قَدْرِ نُورِهِمْ، مِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَطَرْفِ الْعَيْنِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَالْبَرْقِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَالسَّحَابِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَانْقِضَاضِ الْكَوْكَبِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَالرِّيحِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَشَدِّ الْفَرَسِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَشَدِّ الرَّجُلِ، حَتَّى يَمُرَّ الَّذِي أُعْطِيَ نُورَهُ عَلَى إِبْهَامِ قَدَمَيْهِ يَحْبُو عَلَى وَجْهِهِ وَيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ تَخِرُّ رِجْلُ، وَتَعْلَقُ رِجْلٌ، وَيُصِيبُ جَوَانِبَهُ النَّارُ، فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يَخْلُصَ، فَإِذَا خَلَصَ وَقَفَ عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي اللهُ مَا لَمْ يُعْطِ أَحَدًا أَنْ نَجَّانِي مِنْهَا بَعْدَ إِذْ رَأَيْتُهَا "، قَالَ: " فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى غَدِيرٍ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَغْتَسِلُ فَيَعُودُ إِلَيْهِ رِيحُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَلْوَانُهُمْ، فَيَرَى مَا فِي الْجَنَّةِ مِنْ خِلَالِ الْبَابِ فَيَقُولُ: رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ اللهُ لَهُ: أَتَسْأَلُ الْجَنَّةَ، وَقَدْ نَجِّيتُكَ مِنَ النَّارِ؟ فَيَقُولُ: رَبِّ اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَهَا حِجَابًا لَا أَسْمَعُ حَسِيسَهَا "، قَالَ: «فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ» ، قَالَ: " فَيَرَى - أَوْ يُرْفَعُ لَهُ - مَنْزِلٌ أَمَامَ ذَلِكَ كَأَنَّمَا هُوَ فِيهِ إِلَيْهِ حُلْمٌ، فَيَقُولُ: رَبِّ أَعْطِنِي ذَلِكَ الْمَنْزِلَ، فَيَقُولُ لَهُ: فَلَعَلَّكَ إِنْ أَعْطَيْتُكَهُ تَسْأَلُ غَيْرَهُ، فَيَقُولُ: فَلَعَلَّكَ إِنْ أَعْطَيْتُكَهُ تَسْأَلُ غَيْرَهُ، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، وَأَيُّ مَنْزِلٍ يَكُونُ أَحْسَنَ مِنْهُ، قَالَ: وَيَرَى أَوْ يُرْفَعُ لَهُ أَمَامَ ذَلِكَ مَنْزِلٌ آخَرُ كَأَنَّمَا هُوَ إِلَيْهِ حُلْمٌ، فَيَقُولُ: أَعْطِنِي ذَلِكَ الْمَنْزِلَ، فَيَقُولُ اللهُ جَلَّ جَلَالُهُ: فَلَعَلَّكَ إِنْ أَعْطَيْتُكَهُ تَسْأَلُ غَيْرَهُ، قَالَ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُ غَيْرَهُ وَأَيُّ مَنْزِلٍ يَكُونُ أَحْسَنَ مِنْهُ، قَالَ: فَيُعْطَاهُ فَيَنْزِلَهُ ثُمَّ يَسْكُتُ فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَا لَكَ لَا تَسْأَلُ؟ فَيَقُولُ: رَبِّ لَقَدْ سَأَلْتُكَ حَتَّى اسْتَحْيَيْتُكَ، وَأَقْسَمْتُ لَكَ حَتَّى اسْتَحْيَيْتُكَ، فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى: أَلَمْ تَرْضَ أَنْ أُعْطِيَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا مُنْذُ خَلَقْتُهَا إِلَى يَوْمِ أَفْنَيْتُهَا وَعَشَرَةَ أَضْعَافِهِ؟ فَيَقُولُ: أَتَسْتَهْزِئُ بِي، وَأَنْتَ رَبُّ الْعِزَّةِ، فَيَضْحَكُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَوْلِهِ " - قَالَ: فَرَأَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ إِذَا بَلَغَ هَذَا الْمَكَانَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ ضَحِكَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَدْ سَمِعْتُكَ تُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ مِرَارًا كُلَّمَا بَلَغْتَ هَذَا الْمَكَانَ ضَحِكْتَ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ مِرَارًا كُلَّمَا بَلَغَ هَذَا الْمَكَانَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ ضَحِكَ حَتَّى تَبْدُوَ أَضْرَاسُهُ - قَالَ: " فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: وَلَكِنِّي عَلَى ذَلِكَ قَادِرٌ، سَلْ، فَيَقُولُ: أَلْحِقْنِي بِالنَّاسِ ، فَيَقُولُ: الْحَقِ النَّاسَ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ يَرْمُلُ فِي الْجَنَّةِ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنَ النَّاسِ رُفِعَ لَهُ قَصْرٌ مِنْ دُرَّةٍ فَيَخِرُّ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لَهُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ مَا لَكَ؟ فَيَقُولُ: رَأَيْتُ رَبِّي - أَوْ تَرَاءَى لِي رَبِّي - فَيُقَالُ لَهُ: إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ مِنْ مَنَازِلِكَ، قَالَ: ثُمَّ يَلْقَى رَجُلًا فَيَتَهَيَّأُ لِلسُّجُودِ لَهُ فَيُقَالُ لَهُ: مَهْ، مَا لَكَ؟ فَيَقُولُ: رَأَيْتُ أَنَّكَ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَيَقُولُ: إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ مِنْ خُزَّانِكَ، عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِكَ تَحْتَ يَدِي أَلْفُ قَهْرَمَانٍ عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ أَمَامَهُ حَتَّى يَفْتَحَ لَهُ الْقَصْرَ "، قَالَ: " وَهُوَ فِي دُرَّةٍ، مُجَوَّفَةٍ سَقَائِفُهَا، وَأَبْوَابُهَا، وَأَغْلَاقُهَا، وَمَفَاتِيحُهَا مِنْهَا تَسْتَقْبِلُهُ جَوْهَرَةٌ خَضْرَاءُ مُبَطَّنَةٌ بِحَمْرَاءَ كُلُّ جَوْهَرَةٍ تُفْضِي إِلَى جَوْهَرَةٍ عَلَى غَيْرِ لَوْنِ الْأُخْرَى فِي كُلِّ جَوْهَرَةٍ سُرَرٌ وَأَزْوَاجٌ، وَوَصَائِفُ أَدْنَاهُنَّ حَوْرَاءُ عَيْنَاءُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ حُلَّةً يُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ حُلَلِهَا، كَبِدُهَا مِرْآتُهُ وَكَبِدُهُ مِرْآتُهَا، إِذَا أَعْرَضَ عَنْهَا إِعْرَاضَةً ازْدَادَتْ فِي عَيْنِهِ سَبْعِينَ ضِعْفًا عَمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا أَعْرَضَتْ عَنْهُ إِعْرَاضَةً ازْدَادَ فِي عَيْنِهَا سَبْعِينَ ضِعْفًا عَمَّا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ لَهَا: وَاللهِ لَقَدِ ازْدَدْتِ فِي عَيْنِي سَبْعِينَ ضِعْفًا، وَتَقُولُ لَهُ: وَأَنْتَ وَاللهِ لَقَدِ ازْدَدْتَ فِي عَيْنِي سَبْعِينَ ضِعْفًا، فَيُقَالُ لَهُ: أَشْرِفْ، قَالَ: فَيُشْرِفُ، فَيُقَالُ لَهُ: مُلْكُكَ مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ يَنْفُذُهُ بَصَرُهُ "
قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: أَلَا تَسْمَعُ مَا يُحَدِّثُنَا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ يَا كَعْبُ عَنْ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا، فَكَيْفَ أَعْلَاهُمْ، فَقَالَ كَعْبٌ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ: مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ دَارًا فَجَعَلَ فِيهَا مَا شَاءَ مِنَ الْأَزْوَاجِ، وَالثَّمَرَاتِ، وَالْأَشْرِبَةِ، ثُمَّ أَطْبَقَهَا، ثُمَّ لَمْ يَرَهَا أَحَدٌ مِنَ خَلْقِهِ، لَا جِبْرِيلُ وَلَا غَيْرُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ "، ثُمَّ قَرَأَ كَعْبٌ: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيَنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [السجدة: ١٧] ، قَالَ: " وَخَلَقَ دُونَ ذَلِكَ جَنَّتَيْنِ وَزَيَّنَهُمَا بِمَا شَاءَ وَأَرَاهُمَا مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ كَانَ كِتَابُهُ فِي عِلِّيِّينَ نَزَلَ تِلْكَ الدَّارَ الَّتِي لَمْ يَرَهَا أَحَدٌ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ عِلِّيِّينَ لَيَخْرُجُ فَيَسِيرُ فِي مُلْكِهِ فَمَا تَبْقَى خَيْمَةٌ مِنْ خِيَمِ الْجَنَّةِ إِلَّا دَخَلَهَا مِنْ ضَوْءِ وَجْهِهِ فَيَسْتَبْشِرُونَ بِرِيحِهِ، فَيَقُولُونَ: وَاهًا لِهَذَا الرِّيحِ، هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ عِلِّيِّينَ، قَدْ خَرَجَ يَسِيرُ فِي مُلْكِهِ "، فَقَالَ: وَيْحَكَ يَا كَعْبُ، إِنَّ هَذِهِ الْقُلُوبَ قَدِ اسْتَرْسَلَتْ وَاقْبِضْهَا، فَقَالَ كَعْبٌ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لِجَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَزَفْرَةً مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبِ، وَلَا نَبِيٍّ مُرْسَلٍ إِلَّا يَخِرُّ لِرُكْبَتَيْهِ، حَتَّى إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللهِ لَيَقُولُ: رَبِّ نَفْسِي نَفْسِي، حَتَّى لَوْ كَانَ لَكَ عَمَلُ سَبْعِينَ نَبِيًّا إِلَى عَمَلِكَ لَظَنَنْتَ أَنَّكَ لَا تَنْجُو " وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اگلوں اور پچھلوں سب کو ایک معلوم دن کے وقتِ مقرر پر جمع کرے گا، وہ چالیس سال تک کھڑے رہیں گے، ان کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھی ہوں گی، فیصلے کے انتظار میں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائبانوں میں عرش سے کرسی کی طرف اترے گا، پھر ایک منادی پکارے گا: اے لوگو! کیا تم اپنے اس رب سے راضی نہیں کہ اس نے تمہیں پیدا کیا، تمہیں رزق دیا، اور تمہیں حکم دیا کہ اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، کہ وہ ہر گروہ کو اس (معبود) کے سپرد کر دے جسے وہ دین میں مانتا اور پوجتا رہا؟ کیا یہ تمہارے رب کی طرف سے انصاف نہیں؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں۔ فرمایا: تو ہر گروہ اس کی طرف چل پڑے جس کی وہ دنیا میں عبادت کرتا تھا۔ فرمایا: چنانچہ وہ چل پڑیں گے اور ان کے سامنے وہی چیزیں مجسم کر دی جائیں گی جن کی وہ عبادت کرتے تھے۔ ان میں سے بعض سورج کی طرف چلے جائیں گے، بعض چاند کی طرف، اور بعض پتھر کے بتوں اور ان جیسی چیزوں کی طرف جن کی وہ عبادت کرتے تھے۔ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کرتا تھا اس کے سامنے عیسیٰ کا شیطان مجسم کر دیا جائے گا، اور جو عزیر کی عبادت کرتا تھا اس کے سامنے عزیر کا شیطان مجسم کر دیا جائے گا، اور محمد ﷺ اور آپ کی امت باقی رہ جائیں گے۔ پھر رب عزوجل (اپنی شان کے مطابق) ظاہر ہو کر ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا: تمہیں کیا ہوا کہ تم اس طرح نہیں چلے جیسے (دوسرے) لوگ چلے گئے؟ وہ کہیں گے: ہمارا ایک معبود ہے جسے ہم نے ابھی تک نہیں دیکھا۔ فرمائے گا: اگر تم اسے دیکھو تو کیا پہچان لو گے؟ وہ کہیں گے: ہمارے اور اس کے درمیان ایک علامت ہے، جب ہم اسے دیکھیں گے تو پہچان لیں گے۔ فرمائے گا: وہ کیا ہے؟ وہ کہیں گے: وہ اپنی پنڈلی سے پردہ اٹھائے گا۔ اس وقت پنڈلی سے پردہ اٹھایا جائے گا، تو جس کی پیٹھ میں (سجدے کی) لچک ہوگی وہ سجدے میں گر جائے گا، اور ایک قوم باقی رہ جائے گی جن کی پیٹھیں گائے کے سینگ کی طرح (اکڑی ہوئی) ہوں گی، وہ سجدہ کرنا چاہیں گے مگر نہیں کر سکیں گے، حالانکہ انہیں سجدے کی دعوت اس وقت دی جاتی تھی جب وہ صحیح سالم تھے۔ پھر فرمائے گا: اپنے سر اٹھاؤ۔ وہ اپنے سر اٹھائیں گے تو انہیں ان کے اعمال کے مطابق نور دیا جائے گا۔ ان میں سے کسی کو بڑے پہاڑ جیسا نور دیا جائے گا جو اس کے آگے آگے چلے گا، کسی کو اس سے کم دیا جائے گا، کسی کو کھجور کے درخت جیسا نور اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، کسی کو اس سے بھی کم دیا جائے گا، یہاں تک کہ ایک آدمی ایسا ہوگا جسے اس کا نور صرف اس کے پاؤں کے انگوٹھے پر دیا جائے گا، جو کبھی روشن ہوگا اور کبھی بجھ جائے گا؛ جب روشن ہوگا تو وہ قدم بڑھا کر چلے گا، اور جب بجھ جائے گا تو رک جائے گا۔ اور رب عزوجل ان کے آگے آگے ہوگا، یہاں تک کہ وہ جہنم میں سے گزرے گا، اس کا نشان تلوار کی دھار جیسا (باریک) اور پھسلنے والا ہوگا۔ اور فرمائے گا: گزرو۔ تو وہ اپنے نور کے مطابق گزریں گے: کوئی پلک جھپکنے جیسی تیزی سے گزرے گا، کوئی بجلی کی طرح، کوئی بادل کی طرح، کوئی ٹوٹتے ستارے کی طرح، کوئی ہوا کی طرح، کوئی تیز دوڑتے گھوڑے کی طرح، کوئی تیز دوڑتے آدمی کی طرح، یہاں تک کہ جسے اس کا نور صرف پاؤں کے انگوٹھے پر دیا گیا تھا وہ اپنے منہ، ہاتھوں اور پاؤں کے بل رینگتا ہوا گزرے گا، ایک پاؤں گرتا اور دوسرا اٹک جاتا، اور آگ اس کے پہلوؤں کو چھوتی رہے گی، وہ اسی طرح رہے گا یہاں تک کہ نکل جائے گا۔ جب وہ نکل جائے گا تو اس کے پاس کھڑا ہو کر کہے گا: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ نے مجھے وہ کچھ عطا کیا جو کسی کو نہیں دیا کہ اسے دیکھ لینے کے بعد مجھے اس سے نجات دی۔ پھر اسے جنت کے دروازے کے پاس ایک تالاب کی طرف لے جایا جائے گا، وہ غسل کرے گا تو اسے جنتیوں کی خوشبو اور رنگت واپس مل جائے گی، وہ دروازے کی درمیانی جگہ سے جنت کو دیکھے گا اور کہے گا: اے میرے رب! مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: کیا تو جنت مانگتا ہے جبکہ میں نے تجھے جہنم سے نجات دے دی ہے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! میرے اور اس (جہنم) کے درمیان کوئی پردہ کر دے تاکہ میں اس کی آواز بھی نہ سنوں۔ تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ وہ دیکھے گا - یا اس کے لیے اٹھایا جائے گا - آگے ایک گھر، گویا وہ اس کے لیے ایک خواب جیسا ہوگا، تو وہ کہے گا: اے رب! مجھے وہ گھر عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: شاید اگر میں تجھے یہ دے دوں تو تو کوئی اور مانگے گا۔ وہ کہے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم! میں اس کے سوا کچھ اور نہیں مانگوں گا، اور اس سے بہتر گھر اور کون سا ہو سکتا ہے؟ پھر وہ دیکھے گا - یا اس کے لیے اٹھایا جائے گا - آگے ایک اور گھر، گویا وہ ایک خواب جیسا ہوگا، تو وہ کہے گا: مجھے وہ گھر عطا فرما۔ اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ فرمائے گا: شاید اگر میں تجھے یہ دے دوں تو تو کوئی اور مانگے گا۔ وہ کہے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم! میں کچھ اور نہیں مانگوں گا، اور اس سے بہتر گھر اور کون سا ہو سکتا ہے؟ تو وہ گھر اسے دے دیا جائے گا، وہ اس میں رہائش اختیار کرے گا، پھر خاموش ہو جائے گا۔ اللہ عزوجل فرمائے گا: تجھے کیا ہوا، تو مانگتا کیوں نہیں؟ وہ کہے گا: اے رب! میں نے اتنا مانگا کہ تجھ سے شرما گیا، اور اتنی قسمیں کھائیں کہ تجھ سے شرما گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو اس پر راضی نہیں کہ میں تجھے دنیا کے برابر، اس کی تخلیق سے لے کر اس کے ختم ہونے کے دن تک کا، اور اس سے دس گنا زیادہ عطا کروں؟ وہ کہے گا: کیا تو میرے ساتھ مذاق کرتا ہے، حالانکہ تو ہی رب العزت ہے؟ تو رب عزوجل اس کی بات پر ہنسے گا۔“ (راوی کہتے ہیں:) میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب اس حدیث میں اس مقام پر پہنچتے تو ہنس دیتے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! میں نے آپ کو کئی بار یہ حدیث بیان کرتے سنا ہے، جب بھی آپ اس مقام پر پہنچتے ہیں ہنس دیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کئی بار یہ حدیث بیان کرتے سنا، جب بھی آپ ﷺ اس مقام پر پہنچتے تو ہنستے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو جاتیں۔ فرمایا: رب عزوجل فرمائے گا: لیکن میں اس پر قادر ہوں، مانگ۔ وہ کہے گا: مجھے (دوسرے) لوگوں کے ساتھ ملا دے۔ فرمائے گا: لوگوں کے ساتھ جا مل۔ فرمایا: وہ جنت میں تیز چلتا ہوا جائے گا، جب لوگوں کے قریب پہنچے گا تو اس کے لیے موتی کا ایک محل اٹھایا جائے گا، وہ سجدے میں گر جائے گا۔ اس سے کہا جائے گا: اپنا سر اٹھا، تجھے کیا ہوا؟ وہ کہے گا: میں نے اپنے رب کو دیکھا - یا میرا رب میرے سامنے ظاہر ہوا۔ تو اس سے کہا جائے گا: یہ تو تیری ہی منزلوں میں سے ایک منزل ہے۔ فرمایا: پھر وہ ایک شخص سے ملے گا اور اسے سجدہ کرنے کے لیے تیار ہوگا، تو اس سے کہا جائے گا: رک جا، تجھے کیا ہوا؟ وہ کہے گا: میں نے خیال کیا کہ تم فرشتوں میں سے کوئی فرشتہ ہو۔ وہ کہے گا: میں تو تیرے خزانچیوں میں سے ایک خزانچی ہوں، تیرا ہی ایک خادم ہوں، میرے ماتحت ایک ہزار کارندے ہیں، سب میری ہی طرح۔ فرمایا: وہ آگے آگے چل کر اس کے لیے محل کھولے گا۔ فرمایا: وہ محل ایک کھوکھلے موتی میں ہوگا، اس کی چھتیں، دروازے، تالے اور چابیاں سب اسی موتی سے بنے ہوں گے۔ اسے ایک سبز جوہر ملے گا جس کے اندر سرخی ہوگی، ہر جوہر دوسرے جوہر سے ملا ہوگا جو رنگ میں اس سے مختلف ہوگا، ہر جوہر میں تخت اور بیویاں اور خادمائیں ہوں گی، جن میں سب سے کم درجہ والی بھی بڑی آنکھوں والی حور ہوگی، اس پر ستر جوڑے ہوں گے، اور اس کی پنڈلی کا گودا اس کے کپڑوں کے پیچھے سے نظر آئے گا۔ اس کا دل اس کے لیے آئینہ ہوگا اور اس کا دل اس کے لیے آئینہ ہوگا، جب وہ ایک لمحے کے لیے اس سے نظر ہٹائے گا تو وہ اس کی نظر میں پہلے سے ستر گنا زیادہ (حسین) ہو جائے گی، اور جب وہ ایک لمحے کے لیے اس سے نظر ہٹائے گی تو وہ اس کی نظر میں پہلے سے ستر گنا زیادہ (حسین) ہو جائے گا۔ وہ اس سے کہے گا: اللہ کی قسم! تو میری نظر میں ستر گنا بڑھ گئی ہے۔ اور وہ اس سے کہے گی: اور تم، اللہ کی قسم! تم بھی میری نظر میں ستر گنا بڑھ گئے ہو۔ اس سے کہا جائے گا: جھانک کر دیکھ۔ فرمایا: وہ جھانکے گا، تو اس سے کہا جائے گا: تیری بادشاہت سو سال کی مسافت پر پھیلی ہے، تیری نظر اس کی انتہا تک پہنچے گی۔
راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے کعب! کیا تم سن رہے ہو ابن ام عبد (ابن مسعود) ہمیں جنت کے سب سے کم درجے والے کے بارے میں کیا بتا رہے ہیں؟ تو (سوچو) سب سے اعلیٰ درجے والے کا کیا حال ہوگا! کعب نے کہا: اے امیر المومنین! وہ ایسی چیز ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا۔ اللہ عزوجل نے ایک گھر بنایا اور اس میں جو چاہا بیویاں، پھل اور مشروبات رکھے، پھر اسے بند کر دیا، پھر اپنی مخلوق میں سے کسی نے اسے نہیں دیکھا، نہ جبریل نے اور نہ کسی اور فرشتے نے۔ پھر کعب نے یہ آیت تلاوت کی: ”کوئی جان نہیں جانتی کہ ان کے اعمال کے بدلے ان کے لیے آنکھوں کی کیسی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے“ [سورۃ السجدہ: 17]۔ کعب نے کہا: اور اللہ نے اس (اونچے مقام) کے علاوہ دو اور جنتیں بنائیں، انہیں جیسا چاہا سجایا، اور جسے چاہا اپنی مخلوق میں سے دکھایا۔ پھر فرمایا: جس کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا وہ اس گھر میں اترے گا جسے کسی نے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ علیین والوں میں سے کوئی شخص نکل کر اپنی بادشاہت میں چلے تو جنت کا کوئی خیمہ ایسا نہیں بچے گا جس میں اس کے چہرے کی روشنی داخل نہ ہو جائے، تو وہ اس کی خوشبو سے خوش ہو کر کہیں گے: کیا ہی اچھی خوشبو ہے! یہ علیین والوں میں سے کوئی شخص ہے جو اپنی بادشاہت میں سیر کے لیے نکلا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوس اے کعب! ان دلوں میں (تمہاری باتوں سے) بہت کشادگی پیدا ہو گئی ہے، اب انہیں کچھ سمیٹو۔ کعب نے کہا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت کے دن جہنم کی ایک ایسی دھاڑ ہوگی کہ کوئی مقرب فرشتہ اور کوئی مرسل نبی ایسا نہیں ہوگا جو اپنے گھٹنوں کے بل نہ گر جائے، حتیٰ کہ ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) بھی کہیں گے: اے رب! میری جان، میری جان! اگر تیرے اپنے عمل کے ساتھ ستر انبیاء کا عمل بھی ہو تو تجھے یہی گمان ہوگا کہ تو نجات نہیں پائے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9728
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 357، حدیث 9763
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبِي، ثنا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو طَيْبَةَ، عَنْ كُرْزِ بْنِ وَبَرَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ أَرْبَعِينَ سَنَةً شَاخِصَةً أَبْصَارُهُمْ يَنْتَظِرُونَ فَصْلَ الْقَضَاءِ حَتَّى يَلْتَهِمَهُمُ الْعَرَقُ مِنْ شِدَّةِ الْكَرْبِ، ثُمَّ يَنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَجْثُو الْأُمَمُ وَيُنَادِي: أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا تَرْضَوْنَ مِنْ رَبِّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَأَمَرَكُمْ بِعَبَادَتِهِ، ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ عَنْهُ وَكَفَرْتُمْ نِعْمَتَهُ أَنْ يُخَلِّيَ بَيْنَكُمْ، وَبَيْنَ مَا تَوَلَّيْتُمْ، يَتَوَلَّى كُلُّ إِنْسَانٍ مَا تَوَلَّى، فَيُنَادِي مُنَادٍ مَنْ كَانَ يَتَوَلَّى شَيْئًا فَلْيَلْزَمْهُ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ مَنْ كَانَ تَوَلَّى حَجَرًا أَوْ عُودًا أَوْ دَابَّةً " ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ رب العالمین کے سامنے چالیس سال تک کھڑے رہیں گے، ان کی نگاہیں اٹھی ہوں گی، فیصلے کا انتظار کرتے ہوئے، یہاں تک کہ سخت کرب کی وجہ سے پسینہ انہیں نگل جائے گا۔ پھر اللہ عزوجل اترے گا، امتیں گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں گی، اور وہ پکارے گا: اے لوگو! کیا تم اپنے اس رب سے راضی نہیں جس نے تمہیں پیدا کیا اور اپنی عبادت کا حکم دیا، پھر تم نے اس سے منہ موڑا اور اس کی نعمت کی ناشکری کی، کہ وہ تمہیں اور جن کے تم پیرو کار بنے تھے ان کے درمیان چھوڑ دے؛ ہر انسان اسی کا پیرو ہو جائے جس کا وہ پیرو تھا۔ ایک پکارنے والا پکارے گا: جو جس کا پیرو تھا وہ اسی کے ساتھ ہو جائے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جو پتھر، لکڑی یا جانور کا پیرو تھا وہ اسی کی طرف چل پڑے گا۔“ پھر (راوی نے) زید بن ابی انیسہ کی حدیث کی طرح باقی بیان کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9729
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 361، حدیث 9764