❮
❯
حدیث نمبر: 9726
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ الدَّجَّالَ فَقَالَ: " تَفْتَرِقُونَ أَيُّهَا النَّاسُ ثَلَاثَ فِرَقٍ: فِرْقَةٌ تَتْبَعُهُ، وَفِرْقَةٌ تَلْحَقُ بِأَرْضِ آبَائِهَا مَنَابِتِ الشِّيحِ، وَفِرْقَةٌ تَأْخُذُ شَطَّ هَذَا الْفُرَاتِ فَيُقَاتِلُهُمْ، وَيُقَاتِلُونَهُ حَتَّى يَجْتَمِعَ الْمُؤْمِنُونَ بِغَرْبِيِّ الشَّامِ، فَيَبْعَثُونَ إِلَيْهِ طَلِيعَةً فِيهِمْ فَارِسٌ عَلَى فَرَسٍ أَشْقَرَ أَوْ أَبْلَقَ فَيُقْتَلُونَ لَا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ شَيْءٌ "، قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو صَادِقٍ: عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «فَرَسٌ أَشْقَرُ» ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: «وَيَزْعُمُ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّ الْمَسِيحَ يَنْزِلُ فَيَقْتُلُهُ» - وَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ حَدِيثًا غَيْرَ هَذَا - " ثُمَّ يَخْرُجُ يَأْجُوجُ، وَمَأْجُوجُ، فَيَمُوجُونَ فِي الْأَرْضِ فَيُفْسِدُونَ فِيهَا، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ} [الأنبياء: ٩٦] يَنْسِلُونَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ عَلَيْهِ دَابَّةً مِثْلَ هَذِهِ النَّغَفَةِ فَيَلِجُ فِي أَسْمَاعِهِمْ وَمَنَاخِرِهِمْ فَيَمُوتُونَ، فَتَنْتُنُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ "، قَالَ: «فَيَجْأَرُ الْأَرْضُ إِلَى اللهِ فَيُرْسِلُ اللهُ مَاءً فَيُطَهِّرُ الْأَرْضَ مِنْهُمْ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ رِيحًا فِيهِ زَمْهَرِيرٌ بَارِدَةً فَلَا تَدَعُ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مُؤْمِنًا إِلَّا كُفِتَ بِتِلْكَ الرِّيحِ، ثُمَّ تَقُومُ السَّاعَةُ عَلَى شِرَارِ النَّاسِ، ثُمَّ يَقُومُ مَلَكٌ بِالصُّورِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَيَنْفُخُ فِيهِ، وَلَا يَبْقَى خَلْقٌ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي السَّمَاوَاتِ، وَالْأَرْضِ إِلَّا مَاتَ إِلَّا مَنْ شَاءَ رَبُّكَ، ثُمَّ يَكُونُ بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَكُونَ» ، قَالَ: " فَلَيْسَ مِنْ بَنِي آدَمَ خَلْقٌ إِلَّا فِي الْأَرْضِ مِنْهُ شَيْءٌ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللهُ مَاءً مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ يُمْنِي كَمَنِيِّ الرَّجاُلِ، فَتَنْبُتُ جُسْمَانُهُمْ، وَلُحْمَانُهُمْ مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ كَمَا يَنْبُتُ الْأَرْضُ مِنَ السُّدِّيِّ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا} [الروم: ٤٨] «فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا كَذَلِكَ النُّشُورُ» ، ثُمَّ يَقُومُ مَلَكٌ بِالصُّورِ بَيْنَ السَّمَاءِ، وَالْأَرْضِ فَيَنْفُخُ فِيهِ فَتَنْطَلِقُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَى جَسَدِهَا حَتَّى يَدْخُلَ فِيهِ، فَيَقُومُونَ فَيَحْيَوْنَ حَيَّةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ قِيَامًا لِرَبِّ الْعَالَمِينَ، ثُمَّ يَتَمَثَّلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْخَلْقِ فَيَلْقَاهُمْ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْخَلْقِ يَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللهِ شَيْئًا إِلَّا هُوَ مُرْتَفِعٌ لَهُ يَتْبَعُهُ، فَيُلْقَى الْيَهُودَ فَيَقُولُ: مَا تَعْبُدُونَ؟ قَالُوا: عُزَيْرًا، قَالَ: هَلْ يَسُرُّكُمُ الْمَاءُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَيُرِيهِمْ جَهَنَّمَ كَهَيْئَةِ السَّرَابِ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا} [الكهف: ١٠٠] ثُمَّ يَلْقَى النَّصَارَى فَيَقُولُ: مَا تَعْبُدُونَ؟ قَالُوا: الْمَسِيحَ، قَالَ: فَهَلْ يَسُرُّكُمُ السَّرَابُ؟ قَالُوا: نَعَمْ فَيُرِيهِمْ جَهَنَّمَ كَهَيْئَةِ السَّرَابِ، وَكَذَلِكَ لِمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مِنْ دُونِ اللهِ شَيْئًا، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ} [الصافات: ٢٤] حَتَّى يَمُرَّ الْمُسْلِمُونَ فَيَلْقَاهُمْ فَيَقُولُ: مَنْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعْبُدُ اللهَ لَا نُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، فَيَنْتَهِرُهُمْ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ: مَنْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: سُبْحَانَهُ إِذَا اعْتَرَفَ لَنَا عَرَفْنَاهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَلَا يَبْقَى مُؤْمِنٌ إِلَّا خَرَّ لِلَّهِ سَاجِدًا، وَيَبْقَى الْمُنَافِقُونَ ظُهُورُهُمْ طَبَقًا وَاحِدًا كَأَنَّمَا فِيهَا السَّفَافِيدُ، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا، فَيَقُولُ: قَدْ كُنْتُمْ تُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ، وَأَنْتُمْ سَالِمُونَ، ثُمَّ يَأْمُرُ بِالصِّرَاطِ فَيُضْرَبُ عَلَى جَهَنَّمَ، فَيَمُرُّ النَّاسُ بِأَعْمَالِهِمْ زُمَرًا، أَوَائِلُهُمْ كَلَمْحِ الْبَرْقِ، ثُمَّ كَمَرِّ الرِّيحِ، ثُمَّ كَمَرِّ الطَّيْرِ، ثُمَّ كَأَسْرَعِ الْبَهَائِمِ "، ثُمَّ قَالَ: " ثُمَّ كَذَلِكَ حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ سَعْيًا، حَتَّى يَجِيءَ الرَّجُلُ مَشْيًا، حَتَّى يَكُونَ آخِرُهُمْ رَجُلًا يُتَلَقَّى عَلَى بَطْنِهِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ أَبْطَأْتَ بِي، فَيَقُولُ: إِنَّمَا أَبْطَأَ بِكَ عَمَلُكَ، ثُمَّ يَأْذَنُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الشَّفَاعَةِ، فَيَكُونُ أَوَّلُ شَافِعٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جِبْرِيلُ، ثُمَّ إِبْرَاهِيمُ، ثُمَّ مُوسَى، أَوْ قَالَ عِيسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، قَالَ سَلَمَةُ: ثُمَّ يَقُومُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَابِعًا لَا يَشْفَعُ أَحَدٌ بَعْدَهُ فِيمَا يَشْفَعُ فِيهِ، وَهُوَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ الَّذِي وَعَدَهُ اللهُ: {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا} [الإسراء: ٧٩] وَلَيْسَ مِنْ نَفْسٍ إِلَّا تَنْظُرُ إِلَى بَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ وَبَيْتٍ فِي النَّارِ، فَيُقَالُ: لَوْ عَمِلْتُمْ، وَهُوَ يَوْمُ الْحَسْرَةِ، قَالَ: فَيَرَى أَهْلُ النَّارِ الْبَيْتَ الَّذِي فِي الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ: لَوْ عَمِلْتُمْ، وَيَرَى أَهْلُ الْجَنَّةِ الْبَيْتَ الَّذِي فِي النَّارِ فَيَقُولُ: لَوْلَا أَنْ مَنَّ اللهُ عَلَيْكُمْ، ثُمَّ يَشْفَعُ الْمَلَائِكَةُ، وَالنَّبِيُّونَ، وَالشُّهَدَاءُ، وَالصَّالِحُونَ، وَالْمُؤْمِنُونَ فَيُشَفِّعُهُمُ اللهُ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ فَيُخْرِجُ مِنَ النَّارِ أَكْثَرَ مِمَّا أَخْرَجَ مِنَ جَمِيعِ الْخَلْقِ بِرَحْمَتِهِ حَتَّى مَا يَتْرُكُ فِيهَا أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللهِ: «قُلْ» يَا أَيُّهَا الْكُفَّارُ {مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ} [المدثر: ٤٢] ، وَعَقَدْ بِيَدِهِ، {قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ} [المدثر: ٤٤] وَعَقَدْ أَرْبَعًا " - وَقَالَ سُفْيَانُ: بِيَدِهِ وَضَمَّ أَرْبَعَ أَصَابِعَ، وَوَصَفَهُ أَبُو نُعَيْمٍ - ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ: " هَلْ تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ أَحَدًا فِيهِ خَيْرٌ؟ فَإِذَا أَرَادَ اللهُ أَنْ لَا يُخْرِجَ مِنْهَا أَحَدًا غَيَّرَ وُجُوهَهُمْ وَأَلْوَانَهُمْ، فَيَجِيءُ الرَّجُلُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَيَشْفَعُ، فَقَالَ لَهُ: مَنْ عَرَفَ أَحَدًا فَلْيُخْرِجْهُ، فَيَجِيءُ الرَّجُلُ فَيَنْظُرُ وَلَا يَعْرِفُ أَحَدًا، فَيَقُولُ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا فُلَانُ أَنَا فُلَانٌ، فَيَقُولُ: مَا أَعْرِفُكَ، فَيَقُولُونَ: {رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ} فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ: أُطْبِقَتْ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَخْرُجْ مِنْهُمْ بَشَرٌ "
ترجمہ

ابو الزعراء رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اے لوگو! تم تین گروہوں میں بٹ جاؤ گے: ایک گروہ اس کی پیروی کرے گا، ایک گروہ اپنے آباء و اجداد کی سرزمین، جھاڑیوں کے اگنے کی جگہوں کی طرف چلا جائے گا، اور ایک گروہ اس فرات (کے کنارے) کا رخ کرے گا، تو وہ ان سے لڑے گا اور وہ اس سے لڑیں گے، یہاں تک کہ مومنین شام کے مغربی حصے میں جمع ہو جائیں گے۔ وہ اس کی طرف ایک دستہ روانہ کریں گے جس میں ایک سوار سرخی مائل یا سیاہ و سفید گھوڑے پر ہو گا تو وہ سب قتل کر دیے جائیں گے، ان میں سے کوئی چیز بھی (زندہ) واپس نہ آئے گی۔

راوی کہتے ہیں: اور ابو صادق نے مجھے ربیعہ بن ناجد کے واسطے سے عبداللہ (بن مسعود) سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا: سرخی مائل گھوڑا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے (یہ بھی) فرمایا: ”اور اہلِ کتاب کا گمان ہے کہ مسیح (علیہ السلام) نازل ہو کر اسے قتل کریں گے“ - اور میں نے انہیں اہلِ کتاب کے حوالے سے اس کے سوا کوئی حدیث بیان کرتے نہیں سنا - ”پھر یاجوج ماجوج نکلیں گے، وہ زمین میں موجیں مارتے ہوئے پھیل جائیں گے اور فساد مچائیں گے“۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تلاوت کی: ◇اور وہ ہر بلندی سے◇ [الانبیاء: 96] تیزی سے اتریں گے۔ ”پھر اللہ ان پر اس نغفہ (اونٹ کی ناک میں پیدا ہونے والے کیڑے) جیسی ایک مخلوق بھیجے گا جو ان کے کانوں اور نتھنوں میں گھس جائے گی تو وہ سب مر جائیں گے، اور زمین ان کی بدبو سے بھر جائے گی“۔ فرمایا: ”پھر زمین اللہ کے حضور فریاد کرے گی تو اللہ پانی برسائے گا جو زمین کو ان (کی لاشوں) سے پاک کر دے گا۔ پھر اللہ ایک ایسی ہوا بھیجے گا جس میں سخت ٹھنڈک ہو گی، وہ زمین پر کسی مومن کو نہیں چھوڑے گی مگر اسے اٹھا لے گی، پھر قیامت بدترین لوگوں پر قائم ہو گی۔ پھر ایک فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان صور لے کر کھڑا ہو گا اور اس میں پھونک مارے گا، اور آسمانوں اور زمین میں اللہ عزوجل کی کوئی مخلوق باقی نہ رہے گی مگر مر جائے گی، سوائے اس کے جسے تیرا رب چاہے، پھر دونوں پھونکوں کے درمیان اتنا وقفہ ہو گا جتنا اللہ چاہے گا“۔ فرمایا: ”پس بنی آدم میں سے کوئی مخلوق ایسی نہیں جس کا کچھ حصہ زمین میں نہ ہو، پھر اللہ عرش کے نیچے سے ایسا پانی بھیجے گا جو مردوں کی منی کی طرح ہو گا، اس پانی سے ان کے جسم اور گوشت اسی طرح اگیں گے جیسے زمین سے سبزہ اگتا ہے۔“ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تلاوت کی: ◇جو ہواؤں کو بھیجتا ہے پس وہ بادل کو اٹھاتی ہیں◇ [الروم: 48] ”پھر ہم نے اسے ایک مردہ شہر کی طرف چلایا، پھر اس کے ذریعے زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کیا، اسی طرح (مردوں کا) اٹھایا جانا ہو گا۔“ پھر ایک فرشتہ آسمان و زمین کے درمیان صور لے کر کھڑا ہو گا اور اس میں پھونک مارے گا تو ہر جان اپنے جسم کی طرف لپکے گی یہاں تک کہ اس میں داخل ہو جائے گی، پھر سب لوگ اٹھیں گے اور ایک آدمی کی طرح زندہ ہو کر رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے۔

پھر اللہ عزوجل مخلوق کے لیے تجلی فرمائے گا اور ان سے ملے گا، تو مخلوق میں سے کوئی ایسا نہ ہو گا جو اللہ کے سوا کسی چیز کی عبادت کرتا ہو مگر وہ چیز اس کے لیے بلند کر دی جائے گی اور وہ اس کے پیچھے چلے گا۔ چنانچہ یہودیوں سے ملاقات ہو گی اور پوچھا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: عزیر کی۔ فرمایا جائے گا: کیا تمہیں یہ پانی پسند آئے گا؟ وہ کہیں گے: ہاں۔ پھر انہیں جہنم سراب کی صورت میں دکھائی جائے گی۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تلاوت کی: ◇اور اس دن ہم کافروں کے سامنے جہنم کو پیش کریں گے◇ [الکہف: 100]۔ پھر عیسائیوں سے ملاقات ہو گی اور پوچھا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: مسیح کی۔ فرمایا جائے گا: کیا تمہیں یہ سراب پسند آئے گا؟ وہ کہیں گے: ہاں۔ پھر انہیں بھی جہنم سراب کی صورت میں دکھائی جائے گی، اور اسی طرح ہر اس شخص کے ساتھ ہو گا جو اللہ کے سوا کسی چیز کی عبادت کرتا تھا۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تلاوت کی: ◇اور انہیں روک لو، بے شک ان سے پوچھ گچھ ہونی ہے◇ [الصافات: 24]۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کی باری آئے گی، ان سے ملاقات ہو گی اور پوچھا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم اللہ کی عبادت کرتے تھے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے۔ پھر انہیں ایک یا دو بار ڈانٹا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: سبحان اللہ! جب وہ ہمیں اپنی پہچان کرائے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ اسی وقت (اللہ کی) پنڈلی کھولی جائے گی تو ہر مومن اللہ کے حضور سجدے میں گر پڑے گا، اور منافقین کی پیٹھیں ایک ہی تختی کی طرح رہ جائیں گی، گویا ان میں سیخیں پروئی گئی ہوں۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! (تو انہیں) فرمایا جائے گا: تمہیں تو سجدے کی طرف بلایا جاتا تھا جبکہ تم صحیح سالم تھے (اور تم سجدہ نہیں کرتے تھے)۔ پھر پل صراط کا حکم دیا جائے گا جو جہنم پر رکھا جائے گا، لوگ اپنے اعمال کے مطابق گروہوں کی صورت میں گزریں گے، ان میں سے پہلے بجلی کی چمک کی طرح، پھر ہوا کی رفتار کی طرح، پھر پرندے کی رفتار کی طرح، پھر تیز رفتار جانوروں کی طرح۔“

پھر فرمایا: ”پھر اسی طرح یہاں تک کہ آدمی دوڑتا ہوا آئے گا، پھر آدمی چلتا ہوا آئے گا، یہاں تک کہ ان میں سے آخری شخص اپنے پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا لایا جائے گا اور کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے دیر لگا دی۔ اللہ فرمائے گا: تمہیں تمہارے عمل نے ہی دیر لگائی ہے۔ پھر اللہ عزوجل شفاعت کی اجازت دے گا تو قیامت کے دن سب سے پہلے شفاعت کرنے والے جبریل علیہ السلام ہوں گے، پھر ابراہیم علیہ السلام، پھر موسیٰ علیہ السلام، یا فرمایا: عیسیٰ علیہ السلام۔“ سلمہ (راوی) کہتے ہیں: ”پھر تمہارے نبی ﷺ چوتھے نمبر پر کھڑے ہوں گے، ان کے بعد کوئی اس چیز میں شفاعت نہ کرے گا جس میں وہ شفاعت کر چکے ہوں گے، اور یہی وہ مقامِ محمود ہے جس کا اللہ نے وعدہ فرمایا ہے: ◇قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقامِ محمود پر کھڑا کرے◇ [الاسراء: 79]۔ اور کوئی جان ایسی نہیں جو جنت میں اپنا ایک گھر اور جہنم میں ایک گھر نہ دیکھے۔ کہا جائے گا: اگر تم عمل کرتے (تو یہ جنت کا گھر تمہارا ہوتا)، اور یہی وہ دن ہے جس میں حسرت ہو گی۔“ فرمایا: ”چنانچہ جہنم والے وہ گھر دیکھیں گے جو جنت میں (مل سکتا) تھا، تو کہا جائے گا: اگر تم عمل کرتے۔ اور جنت والے وہ گھر دیکھیں گے جو جہنم میں (ہو سکتا) تھا تو کہا جائے گا: اگر اللہ نے تم پر احسان نہ کیا ہوتا (تو تم بھی اسی میں ہوتے)۔ پھر فرشتے، انبیاء، شہداء اور صالحین اور مومنین شفاعت کریں گے تو اللہ ان کی شفاعت قبول فرمائے گا، پھر اللہ فرمائے گا: میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں۔ چنانچہ وہ اپنی رحمت سے جہنم سے اتنے لوگ نکالے گا جتنے تمام مخلوق نے (مل کر) نہ نکالے ہوں گے، یہاں تک کہ اس میں کسی ایسے شخص کو نہ چھوڑے گا جس میں کچھ بھی خیر ہو۔“ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تلاوت کی: (اے کافرو!) ◇کس چیز نے تمہیں سقر میں ڈالا◇ [المدثر: 42] اور اپنے ہاتھ سے (چار انگلیاں) بند کیں - ◇انہوں نے کہا: ہم نمازی نہ تھے، اور مسکین کو کھانا نہ کھلاتے تھے، اور ہم باطل میں پڑنے والوں کے ساتھ پڑتے تھے، اور روزِ جزا کو جھٹلاتے تھے◇ [المدثر: 44] اور چار (انگلیاں) بند کیں - سفیان نے کہا: (یعنی) اپنے ہاتھ کی چار انگلیاں بند کیں، اور ابونعیم نے بھی اسی طرح بیان کیا - پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم ان میں کسی کو ایسا سمجھتے ہو جس میں کچھ خیر ہو؟ چنانچہ جب اللہ چاہے گا کہ ان میں سے کسی کو نہ نکالے تو ان کے چہرے اور رنگ بدل دے گا۔ پھر مومنین میں سے کوئی شخص (کسی جاننے والے کی) شفاعت کرے گا تو اس سے کہا جائے گا: جو بھی کسی کو پہچانے وہ اسے نکال لے۔ چنانچہ وہ شخص آئے گا، دیکھے گا لیکن کسی کو نہ پہچان سکے گا، تو (جہنم میں پڑا) ایک شخص (اس سے) کہے گا: اے فلاں! میں فلاں ہوں۔ وہ کہے گا: میں تجھے نہیں پہچانتا۔ چنانچہ وہ (سب) کہیں گے: ◇اے ہمارے رب! ہمیں یہاں سے نکال دے، اگر ہم دوبارہ (ایسا کریں) تو ہم ظالم ہوں گے◇ فرمایا جائے گا: ◇ذلیل ہو کر اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو◇، جب یہ فرمایا جائے گا تو ان پر (جہنم) بند کر دی جائے گی، پھر ان میں سے کوئی بشر باہر نہ نکل سکے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9726
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 354، حدیث 9761