المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا أَبِي، ثنا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو طَيْبَةَ، عَنْ كُرْزِ بْنِ وَبَرَةَ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ أَرْبَعِينَ سَنَةً شَاخِصَةً أَبْصَارُهُمْ يَنْتَظِرُونَ فَصْلَ الْقَضَاءِ حَتَّى يَلْتَهِمَهُمُ الْعَرَقُ مِنْ شِدَّةِ الْكَرْبِ، ثُمَّ يَنْزِلُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَجْثُو الْأُمَمُ وَيُنَادِي: أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا تَرْضَوْنَ مِنْ رَبِّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَأَمَرَكُمْ بِعَبَادَتِهِ، ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ عَنْهُ وَكَفَرْتُمْ نِعْمَتَهُ أَنْ يُخَلِّيَ بَيْنَكُمْ، وَبَيْنَ مَا تَوَلَّيْتُمْ، يَتَوَلَّى كُلُّ إِنْسَانٍ مَا تَوَلَّى، فَيُنَادِي مُنَادٍ مَنْ كَانَ يَتَوَلَّى شَيْئًا فَلْيَلْزَمْهُ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ مَنْ كَانَ تَوَلَّى حَجَرًا أَوْ عُودًا أَوْ دَابَّةً " ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ رب العالمین کے سامنے چالیس سال تک کھڑے رہیں گے، ان کی نگاہیں اٹھی ہوں گی، فیصلے کا انتظار کرتے ہوئے، یہاں تک کہ سخت کرب کی وجہ سے پسینہ انہیں نگل جائے گا۔ پھر اللہ عزوجل اترے گا، امتیں گھٹنوں کے بل بیٹھ جائیں گی، اور وہ پکارے گا: اے لوگو! کیا تم اپنے اس رب سے راضی نہیں جس نے تمہیں پیدا کیا اور اپنی عبادت کا حکم دیا، پھر تم نے اس سے منہ موڑا اور اس کی نعمت کی ناشکری کی، کہ وہ تمہیں اور جن کے تم پیرو کار بنے تھے ان کے درمیان چھوڑ دے؛ ہر انسان اسی کا پیرو ہو جائے جس کا وہ پیرو تھا۔ ایک پکارنے والا پکارے گا: جو جس کا پیرو تھا وہ اسی کے ساتھ ہو جائے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جو پتھر، لکڑی یا جانور کا پیرو تھا وہ اسی کی طرف چل پڑے گا۔“ پھر (راوی نے) زید بن ابی انیسہ کی حدیث کی طرح باقی بیان کیا۔