کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ایوب بن عتبہ یمامی کی قیس بن طلق سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، قَالَ زَعَمَ قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا وِتْرَانِ فِي لَيْلَةٍ»
ترجمہ
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک رات میں دو وتر نہیں ہوتے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الطاء / حدیث: 8216
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 333، حدیث 8247
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمْنَعِ الْمَرْأَةَ زَوْجَهَا، وَلَوْ كَانَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ»
ترجمہ
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورت اپنے شوہر کو (اپنے آپ سے) نہ روکے، چاہے وہ کجاوے کی پیٹھ پر ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الطاء / حدیث: 8217
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 334، حدیث 8248
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِذَا مَسَّ أَحَدُنَا ذَكَرَهُ يَتَوَضَّأُ؟ قَالَ: «لَا، إِنَّمَا هُوَ مُضْغَةٌ مِنْكَ»
ترجمہ
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول، آپ بتائیں کہ جب ہم میں سے کوئی اپنی شرمگاہ کو چھو لے تو کیا وضو کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، وہ تو تمہارے ہی جسم کا ایک ٹکڑا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الطاء / حدیث: 8218
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 334، حدیث 8249
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ»
ترجمہ
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص مومن نہیں جس کا پڑوسی اس کی تکلیفوں سے محفوظ نہ ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الطاء / حدیث: 8219
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 334، حدیث 8250
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ، وَكَانَ مِنَ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سُئِلَ عَنْ عَلْمٍ فَكَتَمَهُ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ»
ترجمہ
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ اس وفد میں شامل تھے جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص سے کسی علم کے بارے میں پوچھا جائے اور وہ اسے چھپا لے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الطاء / حدیث: 8220
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 334، حدیث 8251
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ» لَمْ يَرْوِ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ إِلَّا حَمَّادُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَقَدْ رَوَى الْحَدِيثَ الْآخَرَ حَمَّادُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَهُمْا عِنْدِي صَحِيحَانِ وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَ الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ هَذَا، ثُمَّ سَمِعَ هَذَا بَعْدُ فَوَافَقَ حَدِيثَ بُسْرَةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ وَغَيْرِهِمْ , مِمَّنْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَمْرَ بِالْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ فَسَمِعَ الْمَنْسُوخَ وَالنَّاسِخَ "
ترجمہ
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے وہ وضو کرے۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث ایوب بن عتبہ سے صرف حماد بن محمد نے روایت کی ہے، اور حماد بن محمد نے ہی دوسری (مخالف مضمون کی) حدیث بھی روایت کی ہے، اور میرے نزدیک دونوں صحیح ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں (سیدنا طلق رضی اللہ عنہ) نے پہلی حدیث نبی کریم ﷺ سے اس سے پہلے سنی، پھر بعد میں یہ حدیث سنی، تو ان کی روایت سیدہ بسرہ، سیدہ ام حبیبہ، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہم اور دیگر ان صحابہ کے موافق ہو گئی جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے شرمگاہ چھونے پر وضو کرنے کا حکم روایت کیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے منسوخ اور ناسخ دونوں (احادیث) سنیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الطاء / حدیث: 8221
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 334، حدیث 8252
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، ثنا قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟ فَسَكَتَ حَتَّى إِذَا حَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ، طَابَقَ بَيْنَ إِزَارِهِ وَبَيْنَ مِلْحَفَتِهِ، ثُمَّ تَوَشَّحَ بِهِمَا هَكَذَا، ثُمَّ صَلَّى بِهِمَا الْعَصْرَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟» قَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَوَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟»
ترجمہ
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک آدمی نے پوچھا: کیا ہم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے؟ آپ ﷺ خاموش رہے، یہاں تک کہ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا تو آپ ﷺ نے اپنے تہبند اور چادر کو ملا کر اس طرح اوڑھا، پھر انہیں پہن کر عصر کی نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”ایک کپڑے میں نماز کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول، میں ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا سب لوگوں کو دو کپڑے میسر ہیں؟“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الطاء / حدیث: 8222
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 335، حدیث 8253
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْبَصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، ثنا قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جِئْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَهُمْ يَبْنُونَ الْمَسْجِدَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ عَمَلَهُمْ أَخَذْتُ أُحْذِقُ الْمِسْحَاةَ، فَخَلَطْتُ بِهَا الطِّينَ، فَكَأَنَّهُ أَعْجَبَهُ أَخْذِي الْمِسْحَاةَ وَعَمِلُوا، فَقَالَ: «دَعُوا الْحَنَفِيَّ وَالطِّينَ، فَإِنَّهُ أَضْبَطُكُمْ لِلطِّينِ» وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ عَلِيٍّ "
ترجمہ
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو دیکھا کہ وہ مسجد بنا رہے تھے، تو جب میں نے ان کا کام دیکھا تو میں نے بیلچہ سنبھالا اور اس سے مٹی گوندھنے لگا، گویا میرا بیلچہ سنبھالنا آپ ﷺ کو پسند آیا جبکہ وہ (دوسرے صحابہ) کام کرتے رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”حنفی کو مٹی کا کام کرنے دو، یہ تم سب سے زیادہ مٹی کو سنبھالنے والا ہے۔“ (یہ الفاظ عاصم بن علی کی روایت کے ہیں۔)
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الطاء / حدیث: 8223
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 335، حدیث 8254