کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى إِذَا كَانَ مَعَ انْتِصَافِ اللَّيْلِ قَامَ، فَتَلَا هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَتَسَوَّكَ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ أَوْ رُكُوعُهُ أَوْ سُجُودُهُ أَطْوَلُ» ، ثُمَّ قَالَ: «ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَقَرَأَ الْآيَاتِ أَيْضًا، ثُمَّ تَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ، ثُمَّ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ صَلَّى مَا صَلَّى مِثْلَ الْأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ يَنَامُ، ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ كَمَا فَعَلَ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے بعض سفروں میں دیکھا، آپ ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر سو گئے، یہاں تک کہ جب آدھی رات ہوئی تو اٹھے اور سورۃ آل عمران کی آخری آیات آخر تک تلاوت فرمائیں، پھر وضو کیا اور مسواک کی، پھر دو رکعتیں پڑھیں، مجھے معلوم نہیں کہ آپ ﷺ کا قیام لمبا تھا یا رکوع یا سجدہ۔ پھر فرمایا: پھر آپ ﷺ بیدار ہوئے اور دوبارہ وہی آیات پڑھیں، پھر مسواک کی اور وضو کیا، پھر پہلے کی طرح کیا، پھر اتنی ہی نماز پڑھی جتنی پہلے پڑھی تھی، پھر آپ ﷺ اسی طرح دو دو رکعتیں پڑھتے، سوتے، پھر بیدار ہوتے، جیسا پہلی بار کیا تھا، یہاں تک کہ گیارہ رکعتیں پڑھ لیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7312
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 52، حدیث 7343
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «إِنَّ الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَتْ قَارَنَهَا الشَّيْطَانُ، إِذَا انْبَسَطَتْ فَارَقَهَا، فَإِذَا دَنَتْ لِلزَّوَالِ قَارَنَهَا، وَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا، وَإِذَا دَنَتْ لِلْمَغِيبِ قَارَنَهَا، وَإِذَا غَرَبَتْ فَارَقَهَا» ، فَنَهَى عَنِ الصَّلَاةِ فِي تِلْكَ السَّاعَاتِ
ترجمہ
سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب سورج طلوع ہوتا ہے تو شیطان اس کے ساتھ ہو جاتا ہے، جب وہ بلند ہو جاتا ہے تو شیطان اس سے الگ ہو جاتا ہے، پھر جب وہ زوال کے قریب ہوتا ہے تو شیطان اس کے ساتھ ہو جاتا ہے، اور جب زوال ہو جاتا ہے تو الگ ہو جاتا ہے، اور جب وہ غروب کے قریب ہوتا ہے تو شیطان اس کے ساتھ ہو جاتا ہے، اور جب وہ غروب ہو جاتا ہے تو الگ ہو جاتا ہے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے ان اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7313
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 53، حدیث 7344
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ نَبْهَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو عِيسَى، سَلَّامٌ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ قَالَ: " خَرَجْنَا حُجَّاجًا، فَلَمَّا كُنَّا بِالْعَرْجِ إِذَا نَحْنُ بِحَيَّةٍ تَضْطَرِبُ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَاتَتْ، فَأَخْرَجَ لَهَا رَجُلٌ مِنَّا خِرْقَةً مِنْ عُبَيَّةٍ لَهُ، فَلَفَّهَا وَخَدَّ لَهَا فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَإِنَّا لَبِالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، إِذْ وَقَفَ عَلَيْنَا شَخَصٌ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَاحِبُ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ؟ فَقُلْنَا: مَا نَعْرِفُهُ. قَالَ: أَيُّكُمْ صَاحِبُ الْجَانِّ؟ قَالُوا: هَذَا. قَالَ: أَمَا إِنَّهُ كَانَ آخِرَ التِّسْعَةِ مُؤْمِنًا الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ "
ترجمہ
سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم حج کے لیے نکلے، جب ہم مقامِ عرج میں پہنچے تو ہم نے ایک سانپ کو تڑپتے دیکھا، جو تھوڑی دیر بعد مر گیا۔ ہم میں سے ایک شخص نے اپنے کپڑے کا ایک ٹکڑا نکالا، اسے اس میں لپیٹا اور زمین میں اس کے لیے گڑھا کھود دیا۔ پھر ہم مکہ پہنچے، ہم مسجد حرام میں ہی تھے کہ ایک شخص ہمارے سامنے آ کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا: تم میں سے عمرو بن جابر کا ساتھی کون ہے؟ ہم نے کہا: ہم اسے نہیں جانتے۔ اس نے کہا: تم میں سے جن کا ساتھی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ہے۔ اس نے کہا: خبردار، وہ ان نو ایمان لانے والے جنوں میں سے آخری تھا جو رسول اللہ ﷺ کے پاس قرآن سننے آئے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7314
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 53، حدیث 7345
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيمَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا أَبُو وَهْبٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ أُنَادِي: «أَنْ لَا تَنْبِذُوا فِي الْجَرِّ»
ترجمہ
سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ: ”مٹی کے (روغنی) گھڑوں میں نبیذ نہ بناؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7315
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 53، حدیث 7346