حدیث نمبر: 7316
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ومُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ الْبُنَانِيُّ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ حَدَّثَ صَفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ الْمُرَادِيُّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بُرْدٍ لَهُ فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ، فَقَالَ: «مَرْحَبًا بطالبِ الْعِلْمِ، طَالِبُ الْعِلْمِ لَتَحُفُّهُ الْمَلَائِكَةُ وَتُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا، ثُمَّ يَرْكَبُ بَعْضُهُ بَعْضًا حَتَّى يَبْلُغُوا السَّمَاءَ الدُّنْيَا مِنْ حُبِّهِمْ لِمَا يَطْلُبُ، فَمَا جِئْتَ تَطْلُبُ؟» ، قَالَ: قَالَ صَفْوَانُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَا نَزَالُ نُسَافِرُ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَأَفْتِنَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ لِلْمُسَافِرِ، وَيَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ»
ترجمہ

سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ مسجد میں اپنی چادر پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میں علم کی طلب میں آیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”علم کے طالب کو خوش آمدید، فرشتے علم کے طالب کو گھیر لیتے ہیں اور اپنے پروں سے اس پر سایہ کرتے ہیں، پھر اس کے علم کی محبت میں ایک دوسرے پر سوار ہو کر آسمانِ دنیا تک پہنچ جاتے ہیں، تم کیا طلب کرنے آئے ہو؟“ صفوان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ہم مکہ اور مدینہ کے درمیان مسلسل سفر کرتے رہتے ہیں، تو ہمیں موزوں پر مسح کے بارے میں فتویٰ دیجیے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن رات۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7316
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 54، حدیث 7347