حدیث نمبر: 7314
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا عُمَرُ بْنُ نَبْهَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو عِيسَى، سَلَّامٌ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ قَالَ: " خَرَجْنَا حُجَّاجًا، فَلَمَّا كُنَّا بِالْعَرْجِ إِذَا نَحْنُ بِحَيَّةٍ تَضْطَرِبُ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ مَاتَتْ، فَأَخْرَجَ لَهَا رَجُلٌ مِنَّا خِرْقَةً مِنْ عُبَيَّةٍ لَهُ، فَلَفَّهَا وَخَدَّ لَهَا فِي الْأَرْضِ، ثُمَّ قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَإِنَّا لَبِالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، إِذْ وَقَفَ عَلَيْنَا شَخَصٌ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ صَاحِبُ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ؟ فَقُلْنَا: مَا نَعْرِفُهُ. قَالَ: أَيُّكُمْ صَاحِبُ الْجَانِّ؟ قَالُوا: هَذَا. قَالَ: أَمَا إِنَّهُ كَانَ آخِرَ التِّسْعَةِ مُؤْمِنًا الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ "
ترجمہ

سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم حج کے لیے نکلے، جب ہم مقامِ عرج میں پہنچے تو ہم نے ایک سانپ کو تڑپتے دیکھا، جو تھوڑی دیر بعد مر گیا۔ ہم میں سے ایک شخص نے اپنے کپڑے کا ایک ٹکڑا نکالا، اسے اس میں لپیٹا اور زمین میں اس کے لیے گڑھا کھود دیا۔ پھر ہم مکہ پہنچے، ہم مسجد حرام میں ہی تھے کہ ایک شخص ہمارے سامنے آ کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا: تم میں سے عمرو بن جابر کا ساتھی کون ہے؟ ہم نے کہا: ہم اسے نہیں جانتے۔ اس نے کہا: تم میں سے جن کا ساتھی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ہے۔ اس نے کہا: خبردار، وہ ان نو ایمان لانے والے جنوں میں سے آخری تھا جو رسول اللہ ﷺ کے پاس قرآن سننے آئے تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7314
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 53، حدیث 7345