کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، مِنْ فِيهِ إِلَى أُذُنِي قَالَ: انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّامِ إِذْ جِيءَ بِكِتَابٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ إِلَى هِرَقْلَ، قَالَ: وَكَانَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ جَاءَ بِهِ، فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى، فَدَفَعَهُ إِلَى هِرَقْلَ، فَقَالَ هِرَقْلُ: هَهُنَا رَجُلٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: قُلْتُ: أَنَا. فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسُوا، أَصْحَابِي خَلْفِي، ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ، فَقَالَ: قُلْ لَهُمْ: إِنِّي سَائِلٌ عَنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: وَايْمُ اللهِ، لَوْلَا أَنْ يُؤْثَرَ عَلَيَّ الْكَذِبُ لَكَذَبْتُ، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ : سَلْهُ: كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قَالَ: هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ. قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: مَنْ يَتْبَعُهُ أَشْرَافُ النَّاسِ، أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ. فَقَالَ: أَيَزِيدُونَ، أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَقُلْتُ: لَا، بَلْ يَزِيدُونَ. قَالَ: فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطًا لَهُ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ؟ قُلْتُ: يَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالًا يُصِيبُ مِنَّا وَنُصِيبُ مِنْهُ. قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ: لَا، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي هُدْنَةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا. قَالَ: فَوَاللهِ، مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرُ هَذِهِ. قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ. قُلْتُ: لَا. قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُ: إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهِ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا، وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ: رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ، وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ أَضُعَفَاؤُهُمْ أَمْ أَشْرَافُهُمْ؟ فَقُلْتَ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ أَنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَكْذِبَ عَلَى اللهِ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطًا لَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّكُمْ قَاتَلْتُمُوهُ فَيكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالًا يَنَالُ مِنْكُمْ وَتَنَالُونَ مِنْهُ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى، ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لَا يَغْدِرُ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قُلْتُ رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ، ثُمَّ قَالَ: فَبِمَا يَأْمُرُكُمْ؟ قُلْتُ: يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ. قَالَ: فإِنْ يَكُ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا إِنَّهُ نَبِيٌّ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ، وَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّهُ مِنْكُمْ، وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ لَأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ، وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فَقَرَأَهُ، فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، وَإِنْ تَرَكْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ، وَ {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ} [آل عمران: ٦٤] إِلَى قَوْلِهِ {بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} [آل عمران: ٦٤] "، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ عِنْدَهُ وَكَثُرَ اللَّغَطُ، وَأُمِرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا: لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ، فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ قَالَ الزُّهْرِيُّ: " فَدَعَا هِرَقْلُ عُظَمَاءَ الرُّومِ، فَجَمَعَهُمْ فِي دَارٍ لَهُ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الرُّومِ، هَلْ لَكُمْ فِي الْفَلَاحِ وَالرَّشَدِ آخِرَ الْأَبَدِ؟ وَأَنْ يَثْبُتَ لَكُمْ مُلْكُكُمْ؟ قَالَ: فَحَاصُوا حَيْصَةَ حُمُرِ الْوَحْشِ إِلَى الْأَبْوَابِ، فَوَجَدُوهَا قَدْ غُلِّقَتْ، فَدَعَا بِهِمْ: إِنِّي إِنَّمَا اخْتَبَرْتُ شِدَّتَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ فَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكُمِ الَّذِي أَحْبَبْتُ، فَسَجَدُوا لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ "
ترجمہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں: مجھے ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے، اپنی زبان سے میرے کان تک، بتایا، کہتے ہیں: میں اس مدت میں روانہ ہوا جو ہمارے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان صلح کی تھی۔ کہتے ہیں: تو میں شام میں تھا کہ اچانک رسول اللہ ﷺ کا ایک خط ہرقل کے پاس لایا گیا، کہتے ہیں: اور دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ اسے لائے تھے، تو انہوں نے اسے بصریٰ کے حاکم کے حوالے کیا، اس نے اسے ہرقل کے حوالے کیا، تو ہرقل نے کہا: کیا یہاں اس شخص کی قوم میں سے کوئی ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ کہتے ہیں: تو مجھے قریش کے ایک گروہ کے ساتھ بلایا گیا، تو ہم ہرقل کے پاس داخل ہوئے، تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا، پھر پوچھا: تم میں سے اس شخص سے نسب کے اعتبار سے سب سے قریب کون ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابو سفیان کہتے ہیں: میں نے کہا: میں۔ تو انہوں نے مجھے اس کے سامنے بٹھایا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھایا، پھر اس نے اپنا ترجمان بلایا، اور کہا: ان سے کہو: میں اس شخص کے بارے میں سوال کرنے والا ہوں جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے، تو اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو تم اسے جھٹلا دینا۔ ابو سفیان کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ میرے ساتھی مجھ پر جھوٹ کا الزام لگائیں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا: اس سے پوچھو: تم میں اس کا نسب کیسا ہے؟ میں نے کہا: وہ ہم میں معزز نسب والا ہے۔ اس نے کہا: کیا اس کے آباء میں سے کوئی بادشاہ تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا تم اسے، اس بات سے پہلے جو اس نے کہی، جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے تھے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: اس کی پیروی معزز لوگ کرتے ہیں یا کمزور؟ میں نے کہا: بلکہ کمزور۔ اس نے کہا: وہ بڑھتے ہیں یا کم ہوتے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ بڑھتے ہیں۔ اس نے کہا: کیا ان میں سے کوئی، اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد، ناراض ہو کر اس سے پھر جاتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا تم نے اس سے جنگ کی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: تمہاری اس سے جنگ کیسی رہی؟ میں نے کہا: ہمارے اور اس کے درمیان جنگ باری باری چلتی ہے، وہ ہم سے کچھ حاصل کرتا ہے اور ہم اس سے کچھ حاصل کرتے ہیں۔ اس نے کہا: کیا وہ بدعہدی کرتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، اور ہم اس وقت اس سے صلح میں ہیں، نہیں معلوم وہ اس میں کیا کرے گا۔ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! مجھے کوئی ایسا لفظ ملانے کا موقع نہ ملا سوائے اس کے۔ اس نے کہا: کیا اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو اس نے اپنے ترجمان سے کہا: اس سے کہو: میں نے تم سے اس کے نسب کے بارے میں پوچھا، تو تم نے بتایا کہ وہ تم میں معزز نسب والا ہے، اور اسی طرح رسول اپنی قوم کے معزز خاندانوں میں بھیجے جاتے ہیں، اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس کے آباء میں کوئی بادشاہ تھا؟ تو تم نے کہا نہیں، تو میں نے سوچا اگر اس کے آباء میں کوئی بادشاہ ہوتا تو میں کہتا کہ یہ آدمی اپنے آباء کی بادشاہت چاہتا ہے، اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے پیروکار معزز ہیں یا کمزور؟ تو تم نے کہا بلکہ کمزور، اور وہی رسولوں کے پیروکار ہوتے ہیں، اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تم اسے، اس بات سے پہلے جو اس نے کہی، جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے تھے؟ تو تم نے کہا نہیں، تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایسا شخص نہیں جو لوگوں پر جھوٹ بولنا چھوڑ کر اللہ پر جھوٹ باندھے، اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان میں سے کوئی، اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد، ناراض ہو کر اس سے پھر جاتا ہے؟ تو تم نے کہا نہیں، اور ایسا ہی ایمان ہے جب وہ دلوں میں رچ بس جائے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ وہ بڑھتے ہیں یا کم ہوتے ہیں؟ تو تم نے کہا وہ بڑھتے ہیں، اور ایسا ہی ایمان کا معاملہ ہے یہاں تک کہ وہ مکمل ہو جائے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تم نے اس سے جنگ کی؟ تو تم نے بتایا کہ تم نے اس سے جنگ کی، اور جنگ تمہارے اور اس کے درمیان باری باری چلتی رہی، تم اس سے کچھ حاصل کرتے ہو اور وہ تم سے حاصل کرتا ہے، اور ایسا ہی رسولوں کو آزمایا جاتا ہے، پھر انجام انہی کے حق میں ہوتا ہے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا وہ بدعہدی کرتا ہے؟ تو تم نے بتایا کہ وہ بدعہدی نہیں کرتا، اور ایسے ہی رسول بدعہدی نہیں کرتے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی؟ تو تم نے کہا نہیں، تو میں نے سوچا اگر اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی ہوتی تو میں کہتا کہ یہ ایک ایسا آدمی ہے جو پہلے کہی گئی بات کی پیروی کر رہا ہے۔ پھر اس نے پوچھا: وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے؟ میں نے کہا: وہ ہمیں نماز، زکاۃ، صلہ رحمی اور پاکدامنی کا حکم دیتا ہے۔ اس نے کہا: اگر جو تم کہہ رہے ہو سچ ہے، تو وہ نبی ہے، اور مجھے معلوم تھا کہ وہ ظاہر ہونے والا ہے، لیکن مجھے یہ گمان نہ تھا کہ وہ تم میں سے ہو گا، اور اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں اس تک پہنچ سکتا ہوں تو میں اس سے ملنا پسند کرتا، اور اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدم دھوتا، اور اس کی بادشاہت وہاں تک ضرور پہنچے گی جہاں میرے دونوں قدم ہیں۔ پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا اور پڑھا، تو اس میں یہ تھا: ”شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ محمد اللہ کے رسول کی طرف سے، ہرقل، روم کے بڑے کی طرف، سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد، میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اسلام لے آؤ سلامت رہو گے، اسلام لے آؤ اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا، اور اگر تم نے انکار کیا تو تم پر کسانوں (رعایا) کا گناہ ہو گا۔ اور 'اے اہل کتاب! ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے' سے 'کہ ہم مسلمان ہیں' تک۔“ تو جب خط پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے پاس آوازیں بلند ہو گئیں اور شور بڑھ گیا، اور ہمیں باہر نکالنے کا حکم دیا گیا، تو جب ہم نکلے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابن ابی کبشہ کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا، رومیوں کا بادشاہ بھی اس سے ڈرتا ہے، تو میں رسول اللہ ﷺ کے معاملے پر یقین رکھتا رہا یہاں تک کہ اللہ نے مجھے اسلام کی توفیق دی۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر ہرقل نے روم کے بڑے لوگوں کو بلایا، انہیں اپنے محل میں جمع کیا، پھر کہا: اے گروہ روم! کیا تمہیں کامیابی اور ہدایت پسند ہے، اور یہ کہ تمہاری بادشاہت ہمیشہ کے لیے قائم رہے؟ کہتے ہیں: تو وہ جنگلی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف بھاگے، تو انہیں بند پایا، تو اس نے انہیں بلایا: میں نے تو صرف تمہارے دین پر تمہاری مضبوطی کو آزمانے کے لیے یہ بات کہی تھی، اور مجھے تم سے وہی دیکھنے کو ملا جو میں پسند کرتا تھا۔ تو انہوں نے اسے سجدہ کیا اور اس سے راضی ہو گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7238
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 14، حدیث 7269
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ السَّرَّاجُ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ، وَكَانُوا تُجَّارًا بِالشَّامِ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي مَادَّ فِيهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ أَبَا سُفْيَانَ وَكُفَّارَ قُرَيْشٍ، فَأَتَوْهُ بِإِيلِيَاءَ فَدَعَاهُمْ فِي مَجْلِسٍ، وَحَوْلَهُ عُقَلَاءُ الرُّومِ، ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ، فَقَالَ: قُلْ لَهُمْ: أَيُّهُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا بِهَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: أَنَا أَقْرَبُهُمْ نَسَبًا، فَقَالَ: ادْنُ مِنِّي، وَقَرَّبُوا أَصْحَابَهُ فَجْعَلُوهُمْ عِنْدَ ظَهْرِهِ، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ : قُلْ لَهُمْ: إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنْ هَذَا الرَّجُلِ، فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ. قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَوَاللهِ لَوْلَا الْحَيَاءُ أَنْ يَأْثِرُوا عَلَيَّ الْكَذِبَ لَكَذَبْتُهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: أَوَّلُ شَيْءٍ سَأَلَنِي عَنْهُ قَالَ: فَكَيْفَ نَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ. قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَأَشْرَافُهُمِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ قُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ. قَالَ: يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ قُلْتُ: بَلْ يَزِيدُونَ. قَالَ: فَهَلْ مِنْهُمْ أَحَدٌ يَرْتَدُّ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ:: لَا، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ فَاعِلٌ فِيهَا. قَالَ: وَلَمْ يُمْكِنِّي كَلِمَةٌ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرُ هَذِهِ الْكَلِمَةِ. قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ؟ قُلْتُ: يَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالًا ودُوَلًا يَنَالُ مِنَّا وَنَنَالُ مِنْهُ، قَالَ: مَاذَا يَأْمُرُكُمْ؟ قُلْتُ: يَقُولُ: اعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَاتْرُكُوا مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ، وَيَأْمُرُ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصَّدَقَةِ وَبِالْعَفَافِ وَبِالصِّلَةِ. فَقَالَ لِلتَّرْجُمَانِ: قُلْ لَهُ: سَأَلْتُكَ عَنْ نَسَبِهِ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي نَسَبِ قَوْمِهِمْ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَالَ أَحَدٌ مِنْكُمْ هَذَا الْقَوْلَ قَبْلَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؛ قُلْتُ: رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا. فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ فِي آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ: يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقَدْ أَعْرِفُ أَنْ لَمْ يَكُنْ لِيَذَرَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ وَيَكْذِبَ عَلَى اللهِ، وَسَأَلْتُكَ أَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّ ضُعَفَاءَهُمِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ، وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ، وَسَأَلْتُكَ أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ أَمْرُ الْإِيمَانِ حَتَّى يَتِمَّ، وَسَأَلْتُكَ: هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حِينَ يُخَالِطُ بَشَاشَةَ الْقُلُوبَ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا يَغْدِرونَ، وَسَأَلْتُكَ كَيْفَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّ الْحَرْبَ بَيْنَكُمْ سِجَالٌ وَدُوَلٌ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى، ثُمَّ يَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ، وَسَأَلْتُكَ عَمَّا يَأْمُرُكُمْ بِهِ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَيَنْهَاكُمْ عَنْ عِبَادَةِ الْأَوْثَانِ، وَيَأْمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ وَالْعَفَافِ وَالصِّلَةِ، وَإِنْ كَانَ مَا تَقُولُ حَقًّا، فَيُوشِكُ أَنْ يَمْلِكَ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ، ولَكِنْ لَمْ أَكُنْ أَظُنُّ أَنَّهُ مِنْكُمْ، وَلَوْ أَعْلَمُ أَنْ أَخْلُصَ إِلَيْهِ لَالْتَمَسْتُ لُقِيَّهُ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ قَدَمَيْهِ، " ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمِ الَّذِي بَعَثَ بِهِ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى، فَدَفَعَهُ إِلَى هِرَقْلَ، فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ، عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ - قَالَ اللَّيْثُ: الْأَرِيسِيُّونَ: الْعَشَّارُونَ - وَ {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} " قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَلَمَّا قَالَ مَا قَالَ، وَفَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ كَثُرَ عِنْدَهُ اللَّجَبُ، وَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ وَخَرَجْنَا، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا: لَقَدِ ارْتَفَعَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ، إِنَّهُ يَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ فَمَا زِلْتُ مُسْتَيْقِنًا أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ وَكَانَ ابْنُ النَّاظُورِ صَاحِبُ إِيلِيَّا وَهِرَقْلَ سُقُفًّا عَلَى نَصَارَى الشَّامِ يُحَدِّثُ: " أَنَّ هِرَقْلَ حِينَ قَدِمَ إِيلِيَّا أَصْبَحَ يَوْمًا خَبِيثَ النَّفْسِ، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ بَطَارِقَتِهِ: لَقَدِ اسْتَنْكَرْنَا هَيْئَتَكَ قَالَ: وَكَانَ هِرَقْلُ رَجُلًا حَزَّاءً يَنْظُرُ فِي النُّجُومِ. قَالَ لَهُمْ حِينَ سَأَلُوهُ: إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ حِينَ نَظَرْتُ فِي النُّجُومِ مَلِكَ الْخِتَانِ قَدْ ظَهَرَ قَالَ: فَمَنْ يَخْتَتِنُ مِنْ هَذِهِ الْأُمَمِ؟ قَالَ: يَخْتَتِنُ الْيَهُودُ، قَالَ: فَلَا يُهِمَّنَّكَ شَأْنُهُمْ، فَاكْتُبْ إِلَى مَدَائِنِ مُلْكِكَ، فَلْيَقْتُلُوا مَنْ فِيهَا مِنَ الْيَهُودِ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ أَتَى هِرَقْلَ رَجُلٌ أَرْسَلَ بِهِ مَلِكُ غَسَّانَ يُخْبِرُهُ خَبَرَ ظُهُورِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُ كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: فَاذْهَبُوا فَانْظُرُوا أَمُخْتَتِنٌ هُوَ أَمْ لَا؟ فَنَظَرُوا إِلَيْهِ، فَحَدَّثُوهُ أَنَّهُ مُخْتَتِنٌ، فَسَأَلَهُ عَنْ الْعَرَبِ؟ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ يَخْتَتِنُونَ، فَقَالَ هِرَقْلُ: هَذَا مُلْكُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، ثُمَّ كَتَبَ هِرَقْلُ إِلَى صَاحِبٍ لَهُ بِرُومِيَّةَ وَنَظِيرٌ لَهُ فِي الْعِلْمِ، وَسَارَ هِرَقْلُ إِلَى حِمْصَ، فَلَمْ يَرِمْ حِمْصَ حَتَّى جَاءَهُ كِتَابُ صَاحِبِهِ، فَوَافَقَ رَأْيَ هِرَقْلَ عَلَى خُرُوجِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَأَنَّهُ نَبِيٌّ فَأَذِنَ هِرَقْلُ لِلْعُظَمَاءِ مِنَ الرُّومِ فِي دَسْكَرَةٍ لَهُ بِحِمْصَ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْأَبْوَابِ فَأُغْلِقَتْ، ثُمَّ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الرُّومِ، هَلْ لَكُمْ فِي الْفَلَاحِ وَالرَّشَادِ، وَأَنْ يَثْبُتَ مُلْكُكُمْ؟ تَتَّبِعُونَ هَذَا النَّبِيَّ، فَحَاصُوا حَيْصَةَ حُمُرِ الْوَحْشِ إِلَى الْأَبْوَابِ، فَوَجَدُوهَا قَدْ أُغْلِقَتْ، فَلَمَّا رَأَى هِرَقْلُ ذَلِكَ وَيَئِسَ مِنْ إِيمَانِهِمْ قَالَ: رُدُّوهُمْ عَلَيَّ، وَقَالَ: إِنِّي قُلْتُ لَكُمْ مَقَالَتِي الَّتِي قُلْتُ لَكُمْ آنِفًا لِأَخْتَبِرَ بِهَا شِدَّتَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ، فَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكُمُ الَّذِي أُحِبُّ، فَسَجَدُوا لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ "
ترجمہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ ہرقل نے قریش کے چند لوگوں کے پاس اپنا آدمی بھیجا، جو اس مدت میں تجارت کے لیے شام آئے ہوئے تھے جس میں رسول اللہ ﷺ نے ابو سفیان اور کفار قریش کے ساتھ صلح کر رکھی تھی، تو وہ ایلیاء میں اس کے پاس آئے، تو اس نے انہیں ایک مجلس میں بلایا، اور اس کے ارد گرد روم کے عقل مند لوگ تھے، پھر اس نے اپنا ترجمان بلایا، اور کہا: ان سے پوچھو: ان میں سے اس شخص سے نسب میں سب سے قریب کون ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ تو ابو سفیان نے کہا: میں ان میں نسب کے اعتبار سے سب سے قریب ہوں۔ اس نے کہا: میرے قریب آ جاؤ، اور اس کے ساتھیوں کو قریب کیا اور انہیں اس کی پیٹھ کے پیچھے بٹھایا، پھر اپنے ترجمان سے کہا: ان سے کہو: میں اس سے اس شخص کے بارے میں سوال کرنے والا ہوں، تو اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو تم اسے جھٹلا دینا۔ ابو سفیان کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر یہ شرم نہ ہوتی کہ وہ مجھ پر جھوٹ کا الزام لگائیں تو میں اس کے بارے میں ضرور جھوٹ بولتا، پھر کہا: اس نے مجھ سے سب سے پہلے یہ پوچھا: تم میں اس کا نسب کیسا ہے؟ میں نے کہا: وہ ہم میں معزز نسب والا ہے۔ اس نے کہا: کیا تم میں سے کسی نے اس سے پہلے یہ بات کہی؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا اس کے آباء میں کوئی بادشاہ تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: معزز لوگوں نے اس کی پیروی کی یا کمزوروں نے؟ میں نے کہا: بلکہ کمزوروں نے۔ اس نے کہا: وہ بڑھتے ہیں یا کم ہوتے ہیں؟ میں نے کہا: بلکہ بڑھتے ہیں۔ اس نے کہا: کیا ان میں سے کوئی، اپنے دین میں داخل ہونے کے بعد، ناراضگی کے سبب پھر جاتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا تم اس پر جھوٹ کا الزام لگاتے تھے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا وہ بدعہدی کرتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، اور ہم اس وقت اس سے ایک مدت (صلح) میں ہیں، نہیں معلوم وہ اس میں کیا کرے گا۔ کہتے ہیں: اور مجھے اس کے سوا کوئی ایسا لفظ ملانے کا موقع نہ ملا۔ اس نے کہا: کیا تم نے اس سے جنگ کی؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: تمہاری اس سے جنگ کیسی رہی؟ میں نے کہا: ہمارے اور اس کے درمیان جنگ باری باری اور بدلتی رہتی ہے، وہ ہم سے کچھ حاصل کرتا ہے اور ہم اس سے حاصل کرتے ہیں۔ اس نے کہا: وہ تمہیں کیا حکم دیتا ہے؟ میں نے کہا: وہ کہتا ہے: صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو تمہارے آباء پوجتے تھے اسے چھوڑ دو، اور نماز، زکاۃ، صدقہ، پاکدامنی اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے۔ تو اس نے ترجمان سے کہا: اس سے کہو: میں نے تم سے اس کے نسب کے بارے میں پوچھا، تو تم نے بتایا کہ وہ تم میں معزز نسب والا ہے، اور اسی طرح رسول اپنی قوم کے معزز نسب میں بھیجے جاتے ہیں، اور میں نے تم سے پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے اس سے پہلے یہ بات کہی؟ تو تم نے کہا نہیں، تو میں نے کہا: اگر اس سے پہلے تم میں سے کسی نے یہ بات کہی ہوتی تو میں کہتا کہ یہ ایک ایسا آدمی ہے جو پہلے کہی گئی بات کی پیروی کر رہا ہے، اور میں نے تم سے پوچھا: کیا اس کے آباء میں کوئی بادشاہ تھا؟ تو تم نے کہا نہیں، تو میں نے کہا: اگر اس کے آباء میں بادشاہ ہوتا تو میں کہتا: یہ اپنے آباء کی بادشاہت چاہتا ہے، اور میں نے تم سے پوچھا: کیا تم اسے، اس سے پہلے جو اس نے کہا، جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے تھے؟ تو تم نے کہا نہیں، تو مجھے معلوم ہو گیا کہ وہ ایسا نہیں کہ لوگوں پر جھوٹ بولنا چھوڑ کر اللہ پر جھوٹ باندھے، اور میں نے تم سے پوچھا: معزز لوگوں نے اس کی پیروی کی یا کمزوروں نے؟ تو تم نے بتایا کہ اس کے پیروکار کمزور ہیں، اور وہی رسولوں کے پیروکار ہوتے ہیں، اور میں نے تم سے پوچھا: وہ بڑھتے ہیں یا کم ہوتے ہیں؟ تو تم نے بتایا کہ وہ بڑھتے ہیں، اور ایمان کا معاملہ ایسا ہی ہے یہاں تک کہ وہ مکمل ہو جائے، اور میں نے تم سے پوچھا: کیا ان میں سے کوئی، اپنے دین میں داخل ہونے کے بعد، ناراضگی کے سبب پھر جاتا ہے؟ تو تم نے کہا نہیں، اور ایسا ہی ایمان ہے جب وہ دلوں میں رچ بس جائے تو کوئی اس سے ناراض نہیں ہوتا، اور میں نے تم سے پوچھا: کیا وہ بدعہدی کرتا ہے؟ تو تم نے کہا نہیں، اور ایسے ہی رسول بدعہدی نہیں کرتے، اور میں نے تم سے پوچھا: کیا تم نے اس سے جنگ کی اور اس نے تم سے جنگ کی؟ تو تم نے بتایا کہ اس نے ایسا کیا ہے، اور تمہاری اور اس کی جنگ باری باری چلتی ہے، ایک بار تم پر غالب آتا ہے اور ایک بار تم اس پر غالب آتے ہو، اور ایسے ہی رسول آزمائے جاتے ہیں، پھر انجام انہی کے حق میں ہوتا ہے، اور میں نے تم سے پوچھا: وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے؟ تو تم نے بتایا کہ وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم اکیلے اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور تمہیں بتوں کی پوجا سے منع کرتا ہے، اور نماز، صدقہ اور پاکدامنی کا حکم دیتا ہے، اور اگر جو تم کہہ رہے ہو سچ ہے، تو عنقریب اس کی بادشاہت میرے ان دونوں قدموں کی جگہ تک پہنچ جائے گی، اور مجھے معلوم تھا کہ وہ ظاہر ہونے والا ہے، لیکن مجھے یہ گمان نہ تھا کہ وہ تم میں سے ہو گا، اور اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں اس تک پہنچ سکتا ہوں تو میں اس سے ملاقات کی کوشش کرتا، اور اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدم دھوتا۔ پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کا وہ خط منگوایا جو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے بصریٰ کے حاکم کے پاس بھیجا تھا، اس نے وہ ہرقل کے حوالے کیا، تو اس نے اسے پڑھا، تو اس میں یہ تھا: ”شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ محمد، اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے، ہرقل، روم کے بڑے کی طرف، سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد، میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اسلام لے آؤ سلامت رہو گے، اسلام لے آؤ اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا، پھر اگر تم نے منہ موڑا تو تم پر رعایا (کسانوں) کا گناہ ہو گا“ — لیث رحمہ اللہ کہتے ہیں: 'اریسیون' کا مطلب ہے: محصول وصول کرنے والے — ”اور 'اے اہل کتاب! ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے، پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو: گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں۔'“ ابو سفیان کہتے ہیں: جب اس نے جو کہا کہہ چکا، اور خط پڑھنے سے فارغ ہوا، تو اس کے پاس شور بڑھ گیا اور آوازیں بلند ہوئیں، اور ہم نکل گئے، تو جب ہم نکلے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابن ابی کبشہ کا معاملہ بہت بڑھ گیا ہے، رومیوں کا بادشاہ بھی اس سے ڈرتا ہے، تو میں یقین رکھتا رہا کہ وہ ضرور غالب آئے گا یہاں تک کہ اللہ نے مجھے اسلام کی توفیق دی۔ اور ابن ناظور، جو ایلیاء اور ہرقل کے مذہبی پیشوا تھے، شام کے نصاریٰ کے سردار تھے، بیان کرتے تھے: جب ہرقل ایلیاء آیا تو ایک دن بہت بے چین حالت میں صبح کی، تو اس کے کچھ اہل کاروں نے اس سے کہا: ہم نے آپ کی حالت اجنبی پائی۔ کہتے ہیں: اور ہرقل نجومی تھا، ستاروں میں دیکھتا تھا، تو جب انہوں نے اس سے پوچھا تو ان سے کہا: میں نے آج رات ستاروں میں دیکھا تو ختنہ والوں کا بادشاہ (کا زمانہ) ظاہر ہوا ہے۔ کہا: یہ کون سی امت ہے جو ختنہ کرتی ہے؟ کہا: یہود ختنہ کرتے ہیں، تو ان کا معاملہ تمہیں فکر مند نہ کرے، اپنی مملکت کے شہروں کو لکھو کہ وہاں کے یہودیوں کو قتل کر دیں۔ کہتے ہیں: تو وہ اسی حال میں تھے کہ ہرقل کے پاس ایک شخص آیا جسے غسان کے بادشاہ نے بھیجا تھا، رسول اللہ ﷺ کے ظہور کی خبر دینے کے لیے، قبل اس کے کہ رسول اللہ ﷺ کا خط اس تک پہنچے۔ کہا: تو جاؤ دیکھو کہ وہ ختنہ شدہ ہے یا نہیں؟ تو انہوں نے اسے دیکھا، اور اسے بتایا کہ وہ ختنہ شدہ ہے، تو اس نے اس سے عرب کے بارے میں پوچھا، تو اس نے بتایا کہ وہ ختنہ کرتے ہیں، تو ہرقل نے کہا: یہ اس امت کی بادشاہت ہے۔ پھر ہرقل نے روم میں اپنے ایک ساتھی کو، جو علم میں اس کا ہم پلہ تھا، خط لکھا، اور ہرقل حمص کی طرف روانہ ہوا، تو وہ حمص سے آگے نہ بڑھا یہاں تک کہ اس کے ساتھی کا خط آ گیا، جو رسول اللہ ﷺ کے ظہور اور اس کے نبی ہونے کے بارے میں ہرقل کی رائے سے متفق تھا۔ تو ہرقل نے روم کے بڑوں کو اپنے حمص کے محل میں بلایا، پھر دروازے بند کروا دیے، پھر ان کے سامنے آیا، اور کہا: اے گروہ روم! کیا تمہیں کامیابی اور ہدایت پسند ہے، اور یہ کہ تمہاری بادشاہت قائم رہے، تو اس نبی کی پیروی کرو۔ کہتے ہیں: تو وہ جنگلی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف بھاگے، تو انہیں بند پایا، تو جب ہرقل نے یہ دیکھا اور ان کے ایمان لانے سے ناامید ہوا، تو کہا: انہیں میرے پاس واپس لاؤ، اور کہا: میں نے تم سے ابھی جو بات کہی تھی وہ صرف تمہارے دین پر تمہاری مضبوطی آزمانے کے لیے کہی تھی، اور مجھے تم سے وہی دیکھنے کو ملا جسے میں پسند کرتا ہوں، تو انہوں نے اسے سجدہ کیا اور اس سے راضی ہو گئے، اور یہ اس کی گفتگو کے آخر میں تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7239
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 16، حدیث 7270
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: كُنَّا قَوْمًا تُجَّارًا، وَكَانَتِ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ قَدْ حَصَرَتْنَا حَتَّى هَلَكَتْ أَمْوَالُنَا، فَلَمَّا كَانَتِ الْهُدْنَةُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ لَمْ نَأْمَنْ فِي أَمْوَالِنَا، فَخَرَجْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ آخِذًا إِلَى الشَّامِ، وَكَانَ فِيهِ مَتْجَرُنَا، فَقَدِمْتُهَا حِينَ ظَهَرَ هِرَقْلُ عَلَى مَنْ كَانَ عَارَضَهُ مِنْ فَارِسَ فَأَخَّرَهُمْ مِنْهَا، وَانْتَزَعَ لَهُ صَلِيبَهُ الْأَعْظَمَ، وَقَدْ كَانُوا سَلَبُوهُ إِيَّاهُ، فَلَمَّا بَلَغَهُ ذَلِكَ مِنْهُمْ، وَبَلَغَهُ أَنَّ صَلِيبَهُ اسْتَنْقَذَ لَهُ، وَكَانَتْ حِمْصُ مَنْزِلَهُ، فَخَرَجَ مِنْهَا عَلَى قَدَمَيْهِ مُتَشَكِّرًا لِلَّهِ حِينَ رَدَّ عَلَيْهِ مَا رَدَّ لِيُصَلِّيَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ بُسِطَ لَهُ الطَّرِيقُ بِالْبُسُطِ، وَيُلْقَى عَلَيْهَا الرَّيَاحِينُ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى إِيلِيَّا، وَقَضَى فِيهَا صَلَاتَهُ وَمَعَهُ بَطَارِقَتُهُ وَأَسَاقِفُ الرُّومِ قَالَ: " وَقَدِمَ عَلَيْهِ كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مَعَ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيِّ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَا بَعْدُ فَأَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، وَإِنْ تَتَوَلَّ فَإِنَّ إِثْمَ الْأَكَّارِينَ عَلَيْكَ " قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَحَدَّثَنِي أَسْقُفُ النَّصَارَى قَالَ: أَدْرَكْتُهُ فِي زَمَانِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ زَعَمَ لِي أَنَّهُ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ وَأَمْرِ هِرَقْلَ وَعَقْلِهِ قَالَ: " لَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ كِتَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مَعَ دِحْيَةَ أَخَذَهُ، فَجَعَلَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ وَخَاصِرَتِهِ، قَالَ: ثُمَّ كَتَبَ إِلَى رَجُلٍ بِرُومِيَّةَ كَانَ يَقْرَأُ مِنَ الْعِبْرَانِيَّةِ مَا يَقْرَأُ، فَذَكَرَ لَهُ أَمْرَهُ وَيَصِفُ لَهُ شَأْنَهُ وَبِخَبَرِ مَا جَاءَ بِهِ قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ صَاحِبُ رُومِيَّةَ أَنَّهُ النَّبِيُّ الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُهُ لَا شَكَّ فِيهِ، فَاتَّبَعَهُ وَصَدَّقَهُ، فَأَمَرَ هِرَقْلُ بِبَطَارِقَةِ الرُّومِ، فَجَمَعُوا لَهُ فِي دَسْكَرَةِ مُلْكِهِ، وَأَمَرَ بِهَا فَأُسْرِجَتْ عَلَيْهِمْ بِأَبْوَابِهَا، ثُمَّ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ مِنْ عَلَيْةِ وَخَافَهُمْ عَلَى نَفْسِهِ، وَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الرُّومِ، إِنِّي قَدْ جَمَعْتُكُمْ لِخَبَرٍ، إِنَّهُ قَدْ أَتَانِي كِتَابُ هَذَا الرَّجُلِ، يَدْعُونِي إِلَى دِينِهِ، وَأَنَّهُ وَاللهِ الرَّجُلُ الَّذِي كُنَّا نَنْتَظِرُهُ، وَنَجِدُ فِي كِتَابِنَا، فَهَلُمَّ فَلْنَتَّبِعْهُ وَلْنُصَدِّقْهُ فَيُسَلِّمَ لَنَا دُنْيَانَا وَأُخْرَانَا، فَنَخَرُوا نَخْرَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ ابْتَدَرُوا أَبْوَابَ الدَّسْكَرَةِ لِيَخْرُجُوا مِنْهَا، فَوَجَدُوهَا قَدْ أُغْلِقَتْ دُونَهُمْ، فَقَالَ: كُرُّوهُمْ عَلَيَّ، وَخَافَهُمْ عَلَى نَفْسِهِ، فَكُرُّوا عَلَيْهِ فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الرُّومِ، إِنَّمَا قُلْتُ لَكُمْ هَذِهِ الْمَقَالَةَ الَّتِي قُلْتُ لَكُمْ لَأَنْظُرَ كَيْفَ صَلَابَتُكُمْ عَلَى دِينِكُمْ لِهَذَا الْأَمْرِ الَّذِي حَدَثَ، فَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكُمُ الَّذِي أُسَرُّ بِهِ، فَوَقَعُوا لَهُ سُجُودًا وَأَمَرَ بِأَبْوَابِ الدَّسْكَرَةِ فَفُتِحَتْ لَهُمْ فَانْطَلَقُوا "
ترجمہ
ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم تجارت پیشہ لوگ تھے، اور ہمارے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان جنگ نے ہمیں گھیر رکھا تھا یہاں تک کہ ہمارے مال تباہ ہو گئے، تو جب ہمارے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان صلح ہوئی تو ہم اپنے مال کے بارے میں مطمئن نہ تھے، تو میں قریش کے ایک گروہ کے ساتھ شام کی طرف نکلا، جہاں ہماری تجارت تھی، تو میں وہاں اس وقت پہنچا جب ہرقل ان فارسیوں پر غالب آیا تھا جنہوں نے اس کی مخالفت کی تھی، اور اس نے انہیں وہاں سے پیچھے ہٹا دیا تھا، اور اس نے اپنی بڑی صلیب واپس لے لی تھی جو انہوں نے اس سے چھین لی تھی۔ تو جب اسے یہ خبر ملی، اور اسے یہ خبر ملی کہ اس کی صلیب واپس مل گئی، اور حمص اس کی رہائش گاہ تھی، تو وہ اس سے پاؤں پیدل نکلا، اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے جب اس نے اسے وہ لوٹا دیا جو لوٹایا، تاکہ وہ بیت المقدس میں نماز پڑھے، اس کے لیے راستے میں قالین بچھائے گئے، اور اس پر پھول ڈالے گئے، تو جب وہ ایلیاء پہنچا، اور اس نے وہاں اپنی نماز ادا کی، اور اس کے ساتھ اس کے وزراء اور روم کے بشپ تھے، کہتے ہیں: اور اس کے پاس رسول اللہ ﷺ کا خط، دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ساتھ، پہنچا: ”شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ محمد، اللہ کے رسول کی طرف سے، ہرقل، روم کے بڑے کی طرف، سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد، اسلام لے آؤ سلامت رہو گے، اسلام لے آؤ اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا، اور اگر تم نے منہ موڑا تو کسانوں کا گناہ تم پر ہو گا۔“ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابن شہاب رحمہ اللہ نے کہا: مجھے نصاریٰ کے بشپ نے بتایا، کہتے ہیں: میں نے اسے عبدالملک بن مروان کے زمانے میں پایا، وہ دعویٰ کرتا تھا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے معاملے اور ہرقل کے معاملے اور اس کی عقل کا یہ حال پایا، کہتے ہیں: جب دحیہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کے پاس رسول اللہ ﷺ کا خط پہنچا تو اس نے اسے لیا، اسے اپنی رانوں اور کمر کے درمیان رکھ لیا، کہتے ہیں: پھر اس نے روم کے ایک آدمی کو خط لکھا جو عبرانی زبان پڑھتا تھا، اسے اس کا معاملہ بتایا، اور جو چیز وہ لے کر آیا اس کی خبر دی۔ کہتے ہیں: تو روم کے اس آدمی نے اسے لکھا کہ یہ وہی نبی ہے جس کا ہم انتظار کر رہے تھے، اس میں کوئی شک نہیں، تو اس نے اس کی پیروی کی اور اسے سچا مانا۔ تو ہرقل نے روم کے وزراء کو حکم دیا، تو وہ اس کے شاہی محل میں اس کے لیے جمع ہوئے، اور اس نے دروازوں پر پہرے بٹھا دیے، پھر اوپری منزل سے ان پر جھانکا، اور اپنی جان کا ان سے خطرہ محسوس کیا، اور کہا: اے گروہ روم! میں نے تمہیں ایک خبر کے لیے جمع کیا ہے، بے شک میرے پاس اس شخص کا خط آیا ہے، جو مجھے اپنے دین کی طرف بلاتا ہے، اور اللہ کی قسم! وہی وہ شخص ہے جس کا ہم انتظار کر رہے تھے اور اپنی کتاب میں پاتے تھے، تو آؤ اس کی پیروی کریں اور اسے سچا مانیں تاکہ ہماری دنیا اور آخرت دونوں محفوظ رہیں۔ تو وہ ایک آدمی کی طرح چیخے، پھر محل کے دروازوں کی طرف دوڑے تاکہ وہاں سے نکلیں، تو انہیں بند پایا، تو اس نے کہا: انہیں میری طرف پھیر لاؤ، اور اپنی جان کا ان سے خطرہ محسوس کیا، تو وہ اس کی طرف پھیرے گئے، تو اس نے کہا: اے گروہ روم! میں نے تم سے یہ بات صرف اس لیے کہی تھی کہ دیکھوں اس نئے پیش آئے معاملے پر تمہارا دین کتنا مضبوط ہے، اور مجھے تم سے وہ دیکھنے کو ملا جس پر مجھے خوشی ہوئی، تو وہ اس کے لیے سجدے میں گر پڑے، اور اس نے محل کے دروازوں کو حکم دیا تو ان کے لیے کھول دیے گئے، اور وہ چلے گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7240
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 19، حدیث 7271
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ، ثنا سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، أَنَّهُ كَانَ بِالشَّامِ فِي رِجَالٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قَدِمُوا تُجَّارًا وَذَلِكَ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ وَبَيْنَ كُفَّارِ قُرَيْشٍ. قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَأَتَى رَسُولُ قَيْصَرَ، فَانْطَلَقَ بِي وَبِأَصْحَابِي حَتَّى قَدِمْنَا إِيلِيَّا، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسِ مُلْكِهِ عَلَيْهِ التَّاجُ، وَإِذَا حَوْلَهُ عُظَمَاءُ الرُّومِ، فَقَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: سَلْهُمْ: أَيُّهُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: قُلْتُ: أَنَا أَقْرَبُهُمْ إِلَيْهِ نَسَبًا. قَالَ: مَا قَرَابَةُ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ قُلْتُ: وَابْنُ عَمِّي، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: وَلَيْسَ فِي الرَّكْبِ يَوْمَئِذٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ غَيْرِي. قَالَ قَيْصَرُ: ادْنُوهُ مِنِّي، ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابِي، فَجَعَلُوا خَلْفَ ظَهْرِي عِنْدَ كَتِفَيَّ، ثُمَّ قَالَ قَيْصَرُ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لِأَصْحَابِهِ إِنِّي سَائِلٌ هَذَا عَنِ الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَإِنْ كَذَبَ فَكَذِّبُوهُ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَلَوْلَا الِاسْتِحْيَاءُ يَوْمَئِذٍ أَنْ يَأْثُرَ أَصْحَابِي عَنِّي الْكَذِبَ لَكَذَبْتُهُ عَنْهُ حِينَ سَأَلَنِي، وَلَكِنِّي اسْتَحْيَيْتُ أَنْ يَأْثُرُوا عَنِّي الْكَذِبَ فَصَدَقْتُهُ. ثُمَّ قَالَ قَيْصَرُ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُ: كَيْفَ نَسَبُ هَذَا الرَّجُلِ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: هُوَ فِينَا ذُو نَسَبٍ. قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَطُّ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ فِي الْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ كَانَ أَحَدٌ مِنْ آبَائِهِ مَلِكًا؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ فَأَشْرَافُ النَّاسِ اتَّبَعُوهُ، أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ قُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ. قَالَ: يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ قُلْتُ: بَلْ يَزِيدُونَ. قَالَ: فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ: نَحْنُ مِنْهُ فِي مُدَّةٍ الْآنَ، وَنَحْنُ نَخَافُ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: وَلَمْ يُمْكِننِّي كَلِمَةٌ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا أَنْتَقِصُهُ بِهِ لَا أَخَافُ أَنْ يُؤْثَرَ عَنِّي غَيْرَهَا، قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ وَقَاتَلَكُمْ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَكَيْفَ حَرْبُهُ وَحَرْبُكُمْ؟ قُلْتُ: كَانَتْ دُوَلًا وَسِجَالًا، يُدَالُ عَلَيْنَا الْمَرَّةَ، وَنُدَالُ عَلَيْهِ الْأُخْرَى. قَالَ: فَمَاذَا يَأْمُرُكُمْ بِهِ؟ قُلْتُ: يأمُرُنَا أَنْ نَعْبُدَ اللهَ وَحْدَهُ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَيَنْهَانَا أَنْ نَعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا، وَأَمَرَنَا بِالصَّلَاةِ، وَالصَّدَقَةِ، وَالْعَفَافِ وَالْوَفَاءِ بِالْعَهْدِ، وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ. قَالَ: فَقَالَ لِتَرْجُمَانِهِ حِينَ قُلْتُ ذَلِكَ لَهُ: قُلْ لَهُ: إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ نَسَبِهِ فِيكُمْ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو نَسَبٍ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي شَرَفِ قَوْمِهَا، وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ مِنْ آبَائِهِ؟ قُلْتَ: لَا. فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ أَحَدٌ مِنْكُمْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ قُلْتُ: رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلِ قَائِلٍ قَبْلَهُ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَدَعُ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ، وَيَكْذِبُ عَلَى اللهِ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ قَبْلُ مَلِكٌ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ: رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ، وَسَأَلْتُكَ أَشْرَافُ النَّاسِ يَتَّبِعُونَهُ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّ ضُعَفَاءَهُمْ أَتْبَاعُهُ وَكَذَلِكَ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ سَخْطَةً لِدِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حِينَ يُخَالِطُ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ لَا يَسْخَطُهُ أَحَدٌ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ وَقَاتَلَكُمْ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ وَأَنَّ حَرْبَكُمْ وَحَرْبَهُ يَكُونُ دُوَلًا، يُدَالُ عَلَيْكُمُ الْمَرَّةَ، وَتُدَالُونَ عَلَيْهِ الْأُخْرَى، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ، ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ، وَسَأَلْتُكَ بِمَ يَأْمُرُكُمْ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَعْبُدُوا اللهَ وَحْدَهُ، وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ، وَيَنْهَاكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ، وَيَأْمُرُكُمْ بِالصَّلَاةِ، وَالصَّدَقَةِ وَالْعَفَافِ، وَأَدَاءِ الْأَمَانَةِ، وَهُوَ نَبِيٌّ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ وَلَكِنْ لَمْ أَكُنْ أَظُنُّهُ مِنْكُمْ، وَإِنْ يَكُ مَا قُلْتُ حَقًّا يُوشِكُ أَنْ يَمْلِكَ مَوْضِعَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، وَاللهِ لَوْ أَرْجُو أَنْ أَخْلُصَ إِلَيْهِ لَتَجَشَّمْتُ لُقِيَّهُ وَلَغَسَلْتُ قَدَمَيْهِ. قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: " فَدَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَأَمَرَ بِهِ، فَقُرِئَ فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللهِ وَرَسُولِهِ، إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدُعَاءِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ وَ {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللهُ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهُ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} [آل عمران: ٦٤] " قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: " فَلَمَّا قَضَى مَقَالَتَهُ، عَلَتْ أَصْوَاتُ الَّذِينَ حَوْلَهُ مِنْ عُظَمَاءِ الرُّومِ، وَكَثُرَ لَغَطُهُمْ، فَلَا أَدْرِي مَاذَا يَقُولُونَ قَالَ: فَأَمَرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا، فَلَمَّا خَرَجْتُ وَمَعِي أَصْحَابِي وَخَلَصْتُ، قُلْتُ: لَقَدِ ارْتَفَعَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ هَذَا مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ يَخَافُهُ، قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَوَاللهِ مَا زِلْتُ ذَلِيلًا مُسْتَيْقِنًا أَنَّ أَمَرَهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ وَأَنَا كَارِهٌ "
ترجمہ
ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ وہ شام میں قریش کے کچھ لوگوں کے ساتھ تھا، جو تجارت کے لیے آئے تھے، اور یہ اس مدت میں تھا جو رسول اللہ ﷺ اور کفار قریش کے درمیان تھی۔ ابو سفیان کہتے ہیں: تو قیصر کا قاصد آیا، تو وہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو لے کر چلا یہاں تک کہ ہم ایلیاء پہنچے، تو ہم اس کے پاس داخل ہوئے، تو دیکھا کہ وہ اپنی سلطنت کی مجلس میں تاج پہنے بیٹھا ہے، اور اس کے ارد گرد روم کے بڑے لوگ ہیں، تو اس نے اپنے ترجمان سے کہا: ان سے پوچھو: ان میں اس شخص سے نسب میں سب سے قریب کون ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابو سفیان کہتے ہیں: میں نے کہا: میں ان میں نسب کے اعتبار سے سب سے قریب ہوں۔ اس نے کہا: تمہاری اس سے کیا قرابت ہے؟ میں نے کہا: وہ میرا چچا زاد ہے۔ ابو سفیان کہتے ہیں: اور اس دن قافلے میں بنو عبدمناف میں سے میرے سوا کوئی نہ تھا۔ قیصر نے کہا: اسے میرے قریب کرو، پھر اس نے میرے ساتھیوں کو حکم دیا، تو انہیں میری پیٹھ کے پیچھے، میرے کندھوں کے قریب کر دیا گیا، پھر قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا: اس کے ساتھیوں سے کہو: میں اس شخص سے اس بارے میں سوال کرنے والا ہوں جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے، تو اگر یہ جھوٹ بولے تو تم اسے جھٹلا دینا۔ ابو سفیان کہتے ہیں: اگر اس دن یہ شرم نہ ہوتی کہ میرے ساتھی مجھ پر جھوٹ کا الزام لگائیں گے تو میں اس کے بارے میں سوال کیے جانے پر ضرور جھوٹ بولتا، لیکن مجھے شرم آئی کہ وہ مجھ پر جھوٹ کا الزام لگائیں، تو میں نے اس سے سچ بولا۔ پھر قیصر نے اپنے ترجمان سے کہا: اس سے کہو: اس شخص کا نسب تم میں کیسا ہے؟ میں نے کہا: وہ ہم میں معزز نسب والا ہے۔ اس نے کہا: کیا تم میں سے کسی نے کبھی یہ بات کہی؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا اس سے پہلے، اس نے جو کہا کہنے سے پہلے، تم اسے جھوٹ کا الزام دیتے تھے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا اس کے آباء میں کوئی بادشاہ تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: تو کیا لوگوں میں سے معزز لوگوں نے اس کی پیروی کی یا کمزوروں نے؟ میں نے کہا: بلکہ کمزوروں نے۔ اس نے کہا: وہ بڑھتے ہیں یا کم ہوتے ہیں؟ میں نے کہا: بلکہ بڑھتے ہیں۔ اس نے کہا: کیا ان میں سے کوئی، اپنے دین میں داخل ہونے کے بعد، ناراضگی کے سبب پھر جاتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا وہ بدعہدی کرتا ہے؟ میں نے کہا: ہم اب اس سے ایک مدت (صلح) میں ہیں، اور ہمیں اس کا ڈر ہے۔ ابو سفیان کہتے ہیں: اور مجھے کوئی ایسا لفظ ملانے کا موقع نہ ملا جس سے میں اس میں کچھ کمی کر سکوں، اور مجھے یہ ڈر نہ تھا کہ اس کے سوا کوئی اور بات مجھ سے نقل کی جائے۔ اس نے کہا: کیا تم نے اس سے جنگ کی اور اس نے تم سے جنگ کی؟ کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: تو تمہاری اس سے جنگ اور اس کی تم سے جنگ کیسی رہی؟ میں نے کہا: باری باری اور بدلتی رہی، ایک بار وہ ہم پر غالب آتا ہے اور ایک بار ہم اس پر۔ اس نے کہا: وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے؟ میں نے کہا: وہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم اکیلے اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور ہمیں منع کرتا ہے کہ ہم وہ پوجیں جو ہمارے آباء پوجتے تھے، اور ہمیں نماز، صدقہ، پاکدامنی، عہد کی وفاداری اور امانت کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے۔ کہتے ہیں: تو جب میں نے اس سے یہ کہا تو اس نے اپنے ترجمان سے کہا: اس سے کہو: میں نے تم سے تم میں اس کے نسب کے بارے میں پوچھا، تو تم نے بتایا کہ وہ تم میں معزز نسب والا ہے، اور اسی طرح رسول اپنی قوم کے شرف میں بھیجے جاتے ہیں، اور میں نے تم سے پوچھا: کیا اس کے آباء میں سے کسی نے یہ بات کہی؟ تم نے کہا نہیں، تو میں نے کہا: اگر تم میں سے کسی نے یہ بات کہی ہوتی تو میں کہتا: یہ ایسا آدمی ہے جو اپنے سے پہلے کہنے والے کی بات کی پیروی کر رہا ہے، اور میں نے تم سے پوچھا: کیا اس کے آباء میں پہلے کوئی بادشاہ تھا؟ تو تم نے کہا نہیں، تو میں نے کہا: اگر اس کے آباء میں بادشاہ ہوتا تو میں کہتا: یہ اپنے آباء کی بادشاہت چاہتا ہے، اور میں نے تم سے پوچھا: کیا معزز لوگوں نے اس کی پیروی کی یا کمزوروں نے؟ تو تم نے بتایا کہ کمزور اس کے پیروکار ہیں، اور یہی رسولوں کے پیروکار ہوتے ہیں، اور میں نے تم سے پوچھا: وہ بڑھتے ہیں یا کم ہوتے ہیں؟ تو تم نے بتایا کہ وہ بڑھتے ہیں، اور ایمان کا معاملہ ایسا ہی ہے، اور میں نے تم سے پوچھا: کیا ان میں سے کوئی، اپنے دین میں داخل ہونے کے بعد، ناراضگی کے سبب پھر جاتا ہے؟ تو تم نے کہا نہیں، اور ایسا ہی ایمان ہے جب وہ دلوں میں رچ بس جائے تو کوئی اس سے ناراض نہیں ہوتا، اور میں نے تم سے پوچھا: کیا وہ بدعہدی کرتا ہے؟ تو تم نے کہا نہیں، اور ایسے ہی رسول بدعہدی نہیں کرتے، اور میں نے تم سے پوچھا: تمہاری اس سے جنگ کیسی رہی؟ تو تم نے بتایا کہ تمہاری اور اس کی جنگ باری باری اور بدلتی رہی، ایک بار وہ تم پر غالب آتا ہے اور ایک بار تم اس پر، اور اسی طرح رسول آزمائے جاتے ہیں، پھر انجام انہی کے حق میں ہوتا ہے، اور میں نے تم سے پوچھا: وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے؟ تو تم نے بتایا کہ وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اکیلے اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور تمہیں بتوں کی پوجا سے منع کرتا ہے، اور نماز، صدقہ، پاکدامنی اور امانت کی ادائیگی کا حکم دیتا ہے، اور وہ نبی ہے، اور مجھے معلوم تھا کہ وہ ظاہر ہونے والا ہے، لیکن مجھے یہ گمان نہ تھا کہ وہ تم میں سے ہو گا، اور اگر جو میں نے کہا سچ ہے تو عنقریب وہ میرے ان دونوں قدموں کی جگہ کا مالک بن جائے گا، اللہ کی قسم! اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں اس تک پہنچ سکتا ہوں تو میں اس سے ملنے کی ہر مشکل برداشت کرتا اور اس کے قدم دھوتا۔ ابو سفیان کہتے ہیں: پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا، اور حکم دیا تو وہ پڑھا گیا، تو اس میں یہ تھا: ”شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ محمد، اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے، ہرقل، روم کے بڑے کی طرف، سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد، میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اسلام لے آؤ سلامت رہو گے، اسلام لے آؤ اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا، اور اگر تم نے منہ موڑا تو رعایا کا گناہ تم پر ہو گا، اور 'اے اہل کتاب! ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے، پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو: گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں۔'“ ابو سفیان کہتے ہیں: جب اس نے اپنی بات مکمل کی، تو اس کے ارد گرد روم کے بڑوں کی آوازیں بلند ہو گئیں، اور ان کا شور بڑھ گیا، تو مجھے معلوم نہ ہوا وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ کہتے ہیں: تو ہمیں باہر نکالنے کا حکم دیا گیا، تو جب میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ نکلا اور آزاد ہوا، تو میں نے کہا: ابن ابی کبشہ کا معاملہ بہت بڑھ گیا، یہ رومیوں کا بادشاہ بھی اس سے ڈرتا ہے۔ ابو سفیان کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں ہمیشہ ذلیل و خوار اور یقین رکھنے والا رہا کہ اس کا معاملہ ضرور غالب آئے گا، یہاں تک کہ اللہ نے، میری ناپسندیدگی کے باوجود، مجھے اسلام کی توفیق دی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7241
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 20، حدیث 7272
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، نَحْوَهُ
ترجمہ
اسی طرح کی حدیث سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے، ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے، بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7242
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 20، حدیث 7273
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ: " إِنَّ أَوَّلَ يَوْمٍ رَغِبْتُ فِيهِ فِي مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ لَيَوْمُ قَالَ قَيْصَرُ فِي مُلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ وَحَضْرَتِهِ مَا قَالَ - يَعْنِي قَوْلَهُ: لَوْ عَلِمْتُ أَنَّهُ هُوَ لَمَشَيْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أُقَبِّلَ رَأْسَهُ وَأَغْسِلَ قَدَمَيْهِ - قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: وَحَضَرْتُهُ يَتَحَادَرُ جَبِينُهُ عَرَقًا مِنْ كَرْبِ الصَّحِيفَةِ الَّتِي كَتَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ. قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَمَا زِلْتُ مَرْغُوبًا مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ حَتَّى أَسْلَمْتُ وَفِي " رِسَالَتِهِ: {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} [آل عمران: ٦٤] ، {هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ} [التوبة: ٣٣] ، {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: ٢٩] "
ترجمہ
عبداللہ بن شداد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے پہلی بار محمد ﷺ کی طرف جو رغبت محسوس کی وہ اس دن تھی جب قیصر نے اپنی بادشاہت، اقتدار اور اپنی مجلس میں وہ بات کہی جو کہی — یعنی اس کا یہ کہنا: اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ وہی نبی ہے تو میں اس کے پاس چل کر جاتا یہاں تک کہ اس کے سر کو بوسہ دیتا اور اس کے قدم دھوتا۔ ابو سفیان کہتے ہیں: اور میں اس وقت حاضر تھا کہ اس کی پیشانی سے، اس خط کی پریشانی کی وجہ سے جو نبی کریم ﷺ نے اسے لکھا تھا، پسینہ ٹپک رہا تھا۔ ابو سفیان کہتے ہیں: تو میں محمد ﷺ کی طرف مسلسل راغب رہا یہاں تک کہ میں اسلام لے آیا۔ اور آپ ﷺ کے پیغام میں یہ آیات تھیں: ”اے اہل کتاب! ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے، پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو: گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں۔“ [سورۃ آل عمران: 64]، ”وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دین پر غالب کر دے، خواہ مشرکین کو ناپسند ہو۔“ [سورۃ التوبہ: 33]، ”ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے، اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اسے حرام نہیں مانتے، اور اہل کتاب میں سے جو دین حق کو قبول نہیں کرتے، یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔“ [سورۃ التوبہ: 29]
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7243
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 23، حدیث 7274