حدیث نمبر: 7243
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ: " إِنَّ أَوَّلَ يَوْمٍ رَغِبْتُ فِيهِ فِي مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ لَيَوْمُ قَالَ قَيْصَرُ فِي مُلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ وَحَضْرَتِهِ مَا قَالَ - يَعْنِي قَوْلَهُ: لَوْ عَلِمْتُ أَنَّهُ هُوَ لَمَشَيْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أُقَبِّلَ رَأْسَهُ وَأَغْسِلَ قَدَمَيْهِ - قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: وَحَضَرْتُهُ يَتَحَادَرُ جَبِينُهُ عَرَقًا مِنْ كَرْبِ الصَّحِيفَةِ الَّتِي كَتَبَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ. قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: فَمَا زِلْتُ مَرْغُوبًا مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ حَتَّى أَسْلَمْتُ وَفِي " رِسَالَتِهِ: {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} [آل عمران: ٦٤] ، {هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ} [التوبة: ٣٣] ، {قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ} [التوبة: ٢٩] "
ترجمہ

عبداللہ بن شداد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے پہلی بار محمد ﷺ کی طرف جو رغبت محسوس کی وہ اس دن تھی جب قیصر نے اپنی بادشاہت، اقتدار اور اپنی مجلس میں وہ بات کہی جو کہی — یعنی اس کا یہ کہنا: اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ وہی نبی ہے تو میں اس کے پاس چل کر جاتا یہاں تک کہ اس کے سر کو بوسہ دیتا اور اس کے قدم دھوتا۔ ابو سفیان کہتے ہیں: اور میں اس وقت حاضر تھا کہ اس کی پیشانی سے، اس خط کی پریشانی کی وجہ سے جو نبی کریم ﷺ نے اسے لکھا تھا، پسینہ ٹپک رہا تھا۔ ابو سفیان کہتے ہیں: تو میں محمد ﷺ کی طرف مسلسل راغب رہا یہاں تک کہ میں اسلام لے آیا۔ اور آپ ﷺ کے پیغام میں یہ آیات تھیں: ”اے اہل کتاب! ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے، پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دو: گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں۔“ [سورۃ آل عمران: 64]، ”وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے تمام دین پر غالب کر دے، خواہ مشرکین کو ناپسند ہو۔“ [سورۃ التوبہ: 33]، ”ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے، اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اسے حرام نہیں مانتے، اور اہل کتاب میں سے جو دین حق کو قبول نہیں کرتے، یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔“ [سورۃ التوبہ: 29]

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7243
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 23، حدیث 7274