المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند أبو سفيان صخر بن حرب باب: سیدنا ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، مِنْ فِيهِ إِلَى أُذُنِي قَالَ: انْطَلَقْتُ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّامِ إِذْ جِيءَ بِكِتَابٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ إِلَى هِرَقْلَ، قَالَ: وَكَانَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ جَاءَ بِهِ، فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى، فَدَفَعَهُ إِلَى هِرَقْلَ، فَقَالَ هِرَقْلُ: هَهُنَا رَجُلٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: فَدُعِيتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ؟ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ: قُلْتُ: أَنَا. فَأَجْلَسُونِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسُوا، أَصْحَابِي خَلْفِي، ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ، فَقَالَ: قُلْ لَهُمْ: إِنِّي سَائِلٌ عَنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَإِنْ كَذَبَنِي فَكَذِّبُوهُ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ: وَايْمُ اللهِ، لَوْلَا أَنْ يُؤْثَرَ عَلَيَّ الْكَذِبُ لَكَذَبْتُ، ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ : سَلْهُ: كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ؟ قَالَ: هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ. قَالَ: فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: مَنْ يَتْبَعُهُ أَشْرَافُ النَّاسِ، أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ. فَقَالَ: أَيَزِيدُونَ، أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَقُلْتُ: لَا، بَلْ يَزِيدُونَ. قَالَ: فَهَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطًا لَهُ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ؟ قُلْتُ: يَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالًا يُصِيبُ مِنَّا وَنُصِيبُ مِنْهُ. قَالَ: فَهَلْ يَغْدِرُ؟ قُلْتُ: لَا، وَنَحْنُ مِنْهُ فِي هُدْنَةٍ لَا نَدْرِي مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا. قَالَ: فَوَاللهِ، مَا أَمْكَنَنِي مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرُ هَذِهِ. قَالَ: فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ. قُلْتُ: لَا. قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ: قُلْ لَهُ: إِنِّي سَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهِ، فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِي أَحْسَابِ قَوْمِهَا، وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ: رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ، وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ أَضُعَفَاؤُهُمْ أَمْ أَشْرَافُهُمْ؟ فَقُلْتَ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ أَنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا فَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ، ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَكْذِبَ عَلَى اللهِ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطًا لَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ، وَكَذَلِكَ الْإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّكُمْ قَاتَلْتُمُوهُ فَيكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالًا يَنَالُ مِنْكُمْ وَتَنَالُونَ مِنْهُ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى، ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ، وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ؟ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لَا يَغْدِرُ، وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لَا تَغْدِرُ وَسَأَلْتُكَ: هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ؟ فَزَعَمْتَ أَنْ لَا، فَقُلْتُ: لَوْ كَانَ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قُلْتُ رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ، ثُمَّ قَالَ: فَبِمَا يَأْمُرُكُمْ؟ قُلْتُ: يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ. قَالَ: فإِنْ يَكُ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا إِنَّهُ نَبِيٌّ، وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ، وَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّهُ مِنْكُمْ، وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنِّي أَخْلُصُ لَأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ، وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ، وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَيَّ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فَقَرَأَهُ، فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ، سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ، وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ، وَإِنْ تَرَكْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الْأَرِيسِيِّينَ، وَ {يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ} [آل عمران: ٦٤] إِلَى قَوْلِهِ {بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} [آل عمران: ٦٤] "، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ عِنْدَهُ وَكَثُرَ اللَّغَطُ، وَأُمِرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي حِينَ خَرَجْنَا: لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ إِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِي الْأَصْفَرِ، فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ قَالَ الزُّهْرِيُّ: " فَدَعَا هِرَقْلُ عُظَمَاءَ الرُّومِ، فَجَمَعَهُمْ فِي دَارٍ لَهُ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الرُّومِ، هَلْ لَكُمْ فِي الْفَلَاحِ وَالرَّشَدِ آخِرَ الْأَبَدِ؟ وَأَنْ يَثْبُتَ لَكُمْ مُلْكُكُمْ؟ قَالَ: فَحَاصُوا حَيْصَةَ حُمُرِ الْوَحْشِ إِلَى الْأَبْوَابِ، فَوَجَدُوهَا قَدْ غُلِّقَتْ، فَدَعَا بِهِمْ: إِنِّي إِنَّمَا اخْتَبَرْتُ شِدَّتَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ فَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكُمِ الَّذِي أَحْبَبْتُ، فَسَجَدُوا لَهُ وَرَضُوا عَنْهُ "ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں: مجھے ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ نے، اپنی زبان سے میرے کان تک، بتایا، کہتے ہیں: میں اس مدت میں روانہ ہوا جو ہمارے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان صلح کی تھی۔ کہتے ہیں: تو میں شام میں تھا کہ اچانک رسول اللہ ﷺ کا ایک خط ہرقل کے پاس لایا گیا، کہتے ہیں: اور دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ اسے لائے تھے، تو انہوں نے اسے بصریٰ کے حاکم کے حوالے کیا، اس نے اسے ہرقل کے حوالے کیا، تو ہرقل نے کہا: کیا یہاں اس شخص کی قوم میں سے کوئی ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ کہتے ہیں: تو مجھے قریش کے ایک گروہ کے ساتھ بلایا گیا، تو ہم ہرقل کے پاس داخل ہوئے، تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا، پھر پوچھا: تم میں سے اس شخص سے نسب کے اعتبار سے سب سے قریب کون ہے جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے؟ ابو سفیان کہتے ہیں: میں نے کہا: میں۔ تو انہوں نے مجھے اس کے سامنے بٹھایا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھایا، پھر اس نے اپنا ترجمان بلایا، اور کہا: ان سے کہو: میں اس شخص کے بارے میں سوال کرنے والا ہوں جو دعویٰ کرتا ہے کہ وہ نبی ہے، تو اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو تم اسے جھٹلا دینا۔ ابو سفیان کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ میرے ساتھی مجھ پر جھوٹ کا الزام لگائیں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا۔ پھر اس نے اپنے ترجمان سے کہا: اس سے پوچھو: تم میں اس کا نسب کیسا ہے؟ میں نے کہا: وہ ہم میں معزز نسب والا ہے۔ اس نے کہا: کیا اس کے آباء میں سے کوئی بادشاہ تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا تم اسے، اس بات سے پہلے جو اس نے کہی، جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے تھے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: اس کی پیروی معزز لوگ کرتے ہیں یا کمزور؟ میں نے کہا: بلکہ کمزور۔ اس نے کہا: وہ بڑھتے ہیں یا کم ہوتے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، بلکہ بڑھتے ہیں۔ اس نے کہا: کیا ان میں سے کوئی، اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد، ناراض ہو کر اس سے پھر جاتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: کیا تم نے اس سے جنگ کی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ اس نے کہا: تمہاری اس سے جنگ کیسی رہی؟ میں نے کہا: ہمارے اور اس کے درمیان جنگ باری باری چلتی ہے، وہ ہم سے کچھ حاصل کرتا ہے اور ہم اس سے کچھ حاصل کرتے ہیں۔ اس نے کہا: کیا وہ بدعہدی کرتا ہے؟ میں نے کہا: نہیں، اور ہم اس وقت اس سے صلح میں ہیں، نہیں معلوم وہ اس میں کیا کرے گا۔ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! مجھے کوئی ایسا لفظ ملانے کا موقع نہ ملا سوائے اس کے۔ اس نے کہا: کیا اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو اس نے اپنے ترجمان سے کہا: اس سے کہو: میں نے تم سے اس کے نسب کے بارے میں پوچھا، تو تم نے بتایا کہ وہ تم میں معزز نسب والا ہے، اور اسی طرح رسول اپنی قوم کے معزز خاندانوں میں بھیجے جاتے ہیں، اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس کے آباء میں کوئی بادشاہ تھا؟ تو تم نے کہا نہیں، تو میں نے سوچا اگر اس کے آباء میں کوئی بادشاہ ہوتا تو میں کہتا کہ یہ آدمی اپنے آباء کی بادشاہت چاہتا ہے، اور میں نے تم سے پوچھا کہ اس کے پیروکار معزز ہیں یا کمزور؟ تو تم نے کہا بلکہ کمزور، اور وہی رسولوں کے پیروکار ہوتے ہیں، اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تم اسے، اس بات سے پہلے جو اس نے کہی، جھوٹ بولنے کا الزام لگاتے تھے؟ تو تم نے کہا نہیں، تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایسا شخص نہیں جو لوگوں پر جھوٹ بولنا چھوڑ کر اللہ پر جھوٹ باندھے، اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان میں سے کوئی، اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد، ناراض ہو کر اس سے پھر جاتا ہے؟ تو تم نے کہا نہیں، اور ایسا ہی ایمان ہے جب وہ دلوں میں رچ بس جائے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ وہ بڑھتے ہیں یا کم ہوتے ہیں؟ تو تم نے کہا وہ بڑھتے ہیں، اور ایسا ہی ایمان کا معاملہ ہے یہاں تک کہ وہ مکمل ہو جائے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تم نے اس سے جنگ کی؟ تو تم نے بتایا کہ تم نے اس سے جنگ کی، اور جنگ تمہارے اور اس کے درمیان باری باری چلتی رہی، تم اس سے کچھ حاصل کرتے ہو اور وہ تم سے حاصل کرتا ہے، اور ایسا ہی رسولوں کو آزمایا جاتا ہے، پھر انجام انہی کے حق میں ہوتا ہے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا وہ بدعہدی کرتا ہے؟ تو تم نے بتایا کہ وہ بدعہدی نہیں کرتا، اور ایسے ہی رسول بدعہدی نہیں کرتے۔ اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی؟ تو تم نے کہا نہیں، تو میں نے سوچا اگر اس سے پہلے کسی نے یہ بات کہی ہوتی تو میں کہتا کہ یہ ایک ایسا آدمی ہے جو پہلے کہی گئی بات کی پیروی کر رہا ہے۔ پھر اس نے پوچھا: وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتا ہے؟ میں نے کہا: وہ ہمیں نماز، زکاۃ، صلہ رحمی اور پاکدامنی کا حکم دیتا ہے۔ اس نے کہا: اگر جو تم کہہ رہے ہو سچ ہے، تو وہ نبی ہے، اور مجھے معلوم تھا کہ وہ ظاہر ہونے والا ہے، لیکن مجھے یہ گمان نہ تھا کہ وہ تم میں سے ہو گا، اور اگر مجھے یقین ہوتا کہ میں اس تک پہنچ سکتا ہوں تو میں اس سے ملنا پسند کرتا، اور اگر میں اس کے پاس ہوتا تو میں اس کے قدم دھوتا، اور اس کی بادشاہت وہاں تک ضرور پہنچے گی جہاں میرے دونوں قدم ہیں۔ پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کا خط منگوایا اور پڑھا، تو اس میں یہ تھا: ”شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ محمد اللہ کے رسول کی طرف سے، ہرقل، روم کے بڑے کی طرف، سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اما بعد، میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں، اسلام لے آؤ سلامت رہو گے، اسلام لے آؤ اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا، اور اگر تم نے انکار کیا تو تم پر کسانوں (رعایا) کا گناہ ہو گا۔ اور 'اے اہل کتاب! ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے' سے 'کہ ہم مسلمان ہیں' تک۔“ تو جب خط پڑھنے سے فارغ ہوا تو اس کے پاس آوازیں بلند ہو گئیں اور شور بڑھ گیا، اور ہمیں باہر نکالنے کا حکم دیا گیا، تو جب ہم نکلے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابن ابی کبشہ کا معاملہ تو بہت بڑھ گیا، رومیوں کا بادشاہ بھی اس سے ڈرتا ہے، تو میں رسول اللہ ﷺ کے معاملے پر یقین رکھتا رہا یہاں تک کہ اللہ نے مجھے اسلام کی توفیق دی۔ زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر ہرقل نے روم کے بڑے لوگوں کو بلایا، انہیں اپنے محل میں جمع کیا، پھر کہا: اے گروہ روم! کیا تمہیں کامیابی اور ہدایت پسند ہے، اور یہ کہ تمہاری بادشاہت ہمیشہ کے لیے قائم رہے؟ کہتے ہیں: تو وہ جنگلی گدھوں کی طرح دروازوں کی طرف بھاگے، تو انہیں بند پایا، تو اس نے انہیں بلایا: میں نے تو صرف تمہارے دین پر تمہاری مضبوطی کو آزمانے کے لیے یہ بات کہی تھی، اور مجھے تم سے وہی دیکھنے کو ملا جو میں پسند کرتا تھا۔ تو انہوں نے اسے سجدہ کیا اور اس سے راضی ہو گئے۔