کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا شیبہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس بن عبدمناف ابوہاشم رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ماموں تھے، ان کی والدہ خناس بنت مالک بن مالک بن مضرب بن حجیر بن عبدمعیص بن عامر بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک تھیں، وہ کانے تھے، جنگ یرموک میں ان کی آنکھ ضائع ہوئی، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں وفات پائی
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ دِهْقَانَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَمُوسَى بْنُ سَهْلٍ أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ دِهْقَانَ، أَخْبَرَنِي خَالِدٌ سَبَلَانُ، عَنْ كُهَيْلِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ أَقْبَلَ حَتَّى نَزَلَ عَلَى أَبِي كُلْثُومٍ الدَّوْسِيِّ، فَتَذَاكَرُوا الصَّلَاةَ الْوُسْطَى، فَقَالَ: اخْتَلَفْنَا فِيهَا كَمَا اخْتَلَفْتُمْ، وَنَحْنُ بِفِنَاءِ بَيْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِينَا الرَّجُلُ الصَّالِحُ أَبُو هَاشِمِ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ فَقَالَ: أَنَا أَعْلَمُ لَكُمْ ذَلِكَ، «فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ جَرِيئًا عَلَيْهِ، فَاسْتَأْذَنَ، فَدَخَلَ إِلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيْنَا، فَأَخْبَرَنَا أَنَّهَا صَلَاةُ الْعَصْرِ»
ترجمہ
… اور ہم رسول اللہ ﷺ کے گھر کے صحن میں تھے، اور ہم میں نیک آدمی ابو ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس رضی اللہ عنہ بھی تھے، تو انہوں نے کہا: میں تمہارے لیے اس کا پتا لگاتا ہوں۔ تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، اور وہ آپ ﷺ کے ساتھ بےتکلف تھے، تو انہوں نے اجازت مانگی، پھر آپ ﷺ کے پاس داخل ہوئے، پھر ہماری طرف نکل آئے، اور ہمیں بتایا کہ وہ عصر کی نماز تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، ثنا سَمُرَةُ بْنُ سَهْمٍ، قَالَ: نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ طَعِينٌ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ مُعَاوِيَةُ يَعُودُهُ، فَبَكَى، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا يُبْكِيكَ , أَوَجَعٌ يَشْمَئِزُّكَ؟ أَمْ عَلَى الدُّنْيَا؟ فَقَدْ ذَهَبَ صَفْوُهَا فَقَالَ عَلَى كُلٍّ: لَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، فَوَدِدْتُ أَنِّي اتَّبَعْتُهُ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَلَّكَ تُدْرِكُ أَمْوَالًا تُقَسَّمُ بَيْنَ أَقْوَامٍ، وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ» فَوَجَدْتُ، فَجَمَعْتُ "
ترجمہ
… لیکن رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک وصیت کی تھی، اور میری خواہش تھی کہ میں اس پر عمل کرتا، بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”شاید تم ایسا مال پاؤ گے جو لوگوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، اور تمہیں مال جمع کرنے میں سے صرف ایک خادم اور ایک سواری کافی ہے۔“ تو میں نے پایا، اور جمع کر لیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى خَالِهِ أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا خَالُ مَا يُبْكِيكَ؟ أَوَجَعٌ يَشْمَئِزُّكَ؟ أَمْ حِرْصٌ عَلَى الدُّنْيَا؟ قَالَ: كُلٌّ لَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، لَمْ آخُذْ بِهِ، فَقَالَ: «يَا أَبَا هَاشِمٍ، سَتَرَى أَمْوَالًا يُؤْتَاهَا أَقْوَامٌ، وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ جَمِيعِ الدُّنْيَا خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللهِ» ، فَأَرَانِيَ الْيَوْمَ قَدْ جَمَعْتُ
ترجمہ
… تو اس نے کہا: اے ماموں! آپ کو کیا رلا رہا ہے؟ کوئی تکلیف جو آپ کو بے چین کر رہی ہے؟ یا دنیا کی حرص؟ انہوں نے کہا: نہ یہ، نہ وہ، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک وصیت کی تھی جس پر میں نے عمل نہیں کیا، آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اے ابو ہاشم! تم ایسا مال دیکھو گے جو لوگوں کو دیا جائے گا، اور تمہیں ساری دنیا میں سے صرف ایک خادم اور اللہ کی راہ میں ایک سواری کافی ہے۔“ تو آج میں دیکھ رہا ہوں کہ میں نے اس کے خلاف مال جمع کر لیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْقَطَّانِيُّ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْوَلِيدِ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى خَالِهِ، فَلَمَّا رَآهُ قَالَ: مَالَكَ أَجَزَعٌ وَحِرْصٌ عَلَى الدُّنْيَا؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَسَى أَنْ تُدْرِكُوا أَقْوَامًا يُؤْثِرُونَ أَمْوَالًا، وَإِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ مِنَ الدُّنْيَا دَارٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللهِ»
ترجمہ
معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ماموں کے پاس گئے، تو جب انہوں نے انہیں دیکھا تو کہا: تمہیں کیا ہوا، بے چینی اور دنیا کی حرص؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”شاید تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جو مال کو ترجیح دیں گے، جبکہ تم میں سے ہر ایک کے لیے دنیا میں سے صرف ایک گھر اور اللہ کی راہ میں ایک سواری کافی ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الرَّازِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ سَلَمَةَ الْأُرْدُنِّيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا هَاشِمِ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ كَانَ لَهُ شَارِبٌ يَعْقِدُهُ خَلْفَ قَفَاهُ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ شَارِبِكَ وَقَدْ جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْفَاءِ الشَّارِبِ مَا جَاءَ؟ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَخَذْتُ شَارِبِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَّ يَدَهُ عَلَيَّ، فَقَالَ: «مَتَى أَخَذْتَ شَارِبَكَ؟» ، قُلْتُ: السَّاعَةَ، قَالَ: «فَلَا تَأْخُذْهُ حَتَّى تَلْقَانِي، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ أَلْقَاهُ، فَلَنْ أَجُزَّهُ حَتَّى أَلْقَاهُ»
ترجمہ
… تمہارے متعلق نبی کریم ﷺ سے مونچھیں پوری طرح کاٹنے کے بارے میں جو کچھ آیا ہے وہ آیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے اپنی مونچھیں کاٹ لی تھیں، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مجھ پر پھیرا، اور فرمایا: ”تم نے اپنی مونچھیں کب لیں؟“ میں نے کہا: ابھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر جب تک مجھ سے دوبارہ نہ ملو انہیں نہ لینا۔“ تو رسول اللہ ﷺ اس سے پہلے کہ میں آپ ﷺ سے دوبارہ ملوں، وفات پا گئے، تو میں انہیں کبھی نہیں کاٹوں گا جب تک آپ ﷺ سے نہ ملوں۔