❮
❯
حدیث نمبر: 7168
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ شَقِيقٍ، ثنا سَمُرَةُ بْنُ سَهْمٍ، قَالَ: نَزَلْتُ عَلَى أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ وَهُوَ طَعِينٌ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ مُعَاوِيَةُ يَعُودُهُ، فَبَكَى، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا يُبْكِيكَ , أَوَجَعٌ يَشْمَئِزُّكَ؟ أَمْ عَلَى الدُّنْيَا؟ فَقَدْ ذَهَبَ صَفْوُهَا فَقَالَ عَلَى كُلٍّ: لَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، فَوَدِدْتُ أَنِّي اتَّبَعْتُهُ، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَلَّكَ تُدْرِكُ أَمْوَالًا تُقَسَّمُ بَيْنَ أَقْوَامٍ، وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ» فَوَجَدْتُ، فَجَمَعْتُ "
ترجمہ

سمرہ بن سہم کہتے ہیں: میں ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرا جبکہ وہ بیمار تھے، تو ان کی عیادت کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، تو وہ رونے لگے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تمہیں کیا رلا رہا ہے؟ کوئی تکلیف جو تمہیں بے چین کر رہی ہے؟ یا دنیا پر افسوس؟ اس کی رونق تو جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا: نہ یہ اور نہ وہ، لیکن رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک وصیت کی تھی، اور میری خواہش تھی کہ میں اس پر عمل کرتا، بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”شاید تم ایسا مال پاؤ گے جو لوگوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا، اور تمہیں مال جمع کرنے میں سے صرف ایک خادم اور ایک سواری کافی ہے۔“ تو میں نے پایا، اور جمع کر لیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الشين / حدیث: 7168
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 302، حدیث 7199