حدیث نمبر: 7169
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى خَالِهِ أَبِي هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا خَالُ مَا يُبْكِيكَ؟ أَوَجَعٌ يَشْمَئِزُّكَ؟ أَمْ حِرْصٌ عَلَى الدُّنْيَا؟ قَالَ: كُلٌّ لَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا، لَمْ آخُذْ بِهِ، فَقَالَ: «يَا أَبَا هَاشِمٍ، سَتَرَى أَمْوَالًا يُؤْتَاهَا أَقْوَامٌ، وَإِنَّمَا يَكْفِيكَ مِنْ جَمِيعِ الدُّنْيَا خَادِمٌ وَمَرْكَبٌ فِي سَبِيلِ اللهِ» ، فَأَرَانِيَ الْيَوْمَ قَدْ جَمَعْتُ
ترجمہ

… تو اس نے کہا: اے ماموں! آپ کو کیا رلا رہا ہے؟ کوئی تکلیف جو آپ کو بے چین کر رہی ہے؟ یا دنیا کی حرص؟ انہوں نے کہا: نہ یہ، نہ وہ، بلکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ایک وصیت کی تھی جس پر میں نے عمل نہیں کیا، آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اے ابو ہاشم! تم ایسا مال دیکھو گے جو لوگوں کو دیا جائے گا، اور تمہیں ساری دنیا میں سے صرف ایک خادم اور اللہ کی راہ میں ایک سواری کافی ہے۔“ تو آج میں دیکھ رہا ہوں کہ میں نے اس کے خلاف مال جمع کر لیا ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الشين / حدیث: 7169
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 302، حدیث 7200