المعجم الكبير للطبراني
باب الشين— حرف شین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
شيبة بن عتبة بن ربيعة بن عبد شمس بن عبد مناف أبو هاشم خال معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه، وأمه خناس بنت مالك بن مالك بن المضرب حجير بن عبد معيص بن عامر بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك، وكان أعور، فقئت عينه يوم اليرموك، وتوفي في زمن معاوية رضي الله عنه باب: سیدنا شیبہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبدشمس بن عبدمناف ابوہاشم رضی اللہ عنہ، سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ماموں تھے، ان کی والدہ خناس بنت مالک بن مالک بن مضرب بن حجیر بن عبدمعیص بن عامر بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک تھیں، وہ کانے تھے، جنگ یرموک میں ان کی آنکھ ضائع ہوئی، اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں وفات پائی
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الرَّازِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ سَلَمَةَ الْأُرْدُنِّيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا هَاشِمِ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ كَانَ لَهُ شَارِبٌ يَعْقِدُهُ خَلْفَ قَفَاهُ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ شَارِبِكَ وَقَدْ جَاءَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْفَاءِ الشَّارِبِ مَا جَاءَ؟ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَخَذْتُ شَارِبِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَّ يَدَهُ عَلَيَّ، فَقَالَ: «مَتَى أَخَذْتَ شَارِبَكَ؟» ، قُلْتُ: السَّاعَةَ، قَالَ: «فَلَا تَأْخُذْهُ حَتَّى تَلْقَانِي، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ أَلْقَاهُ، فَلَنْ أَجُزَّهُ حَتَّى أَلْقَاهُ»یزید بن حسان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابو ہاشم بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی مونچھیں تھیں جنہیں وہ اپنی گردن کے پیچھے باندھ لیتے تھے۔ تو میں نے کہا: تمہاری مونچھوں کا کیا معاملہ ہے، حالانکہ نبی کریم ﷺ سے مونچھیں چھوٹی رکھنے کے بارے میں جو کچھ آیا ہے وہ آیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے اپنی مونچھیں لے لی تھیں (کاٹ لی تھیں)، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مجھ پر پھیرا، اور فرمایا: ”تم نے اپنی مونچھیں کب لیں؟“ میں نے کہا: ابھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جب تک مجھ سے دوبارہ نہ ملو، انہیں مت لینا۔“ تو رسول اللہ ﷺ اس سے پہلے کہ میں آپ ﷺ سے دوبارہ ملوں وفات پا گئے، تو اب میں انہیں کبھی نہیں کاٹوں گا یہاں تک کہ آپ ﷺ سے ملوں۔