حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، وَعَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ»
ترجمہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے، دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَحْتَجِمُ فِي ثَمَانِ عَشْرَةَ مِنْ رَمَضَانَ، وَأَنَا مَعَهُ , فَقَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ، وَالْمَحْجُومُ»
ترجمہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو پچھنا لگوا رہا تھا، اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے، دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ، وَالْمَحْجُومُ»
ترجمہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے، دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَحْتَجِمُ بِالْبَقِيعِ فِي ثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ , فَقَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ، وَالْمَحْجُومُ»
ترجمہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو بقیع میں رمضان کی اٹھارہ تاریخ گزرنے پر پچھنا لگوا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے، دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادٍ، قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَحْتَجِمُ زَمَنَ الْفَتْحِ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ، وَالْمَحْجُومُ»
ترجمہ
سیدنا شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے زمانے میں ایک شخص کو رمضان کی اٹھارہ تاریخ گزرنے پر پچھنا لگواتے دیکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے، دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَّادٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، وَخَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَمَرَّ بِرَجُلٍ يَحْتَجِمُ فِي ثَمَانِيَ عَشْرَةَ، أَوْ سَبْعَ عَشْرَةَ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ، وَالْمَحْجُومُ»
ترجمہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، تو آپ ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو رمضان کی اٹھارہ یا سترہ تاریخ کو پچھنا لگوا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے، دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، وَهُوَ يَحْتَجِمُ، فَقَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ، وَالْمَحْجُومُ»
ترجمہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ رمضان کے مہینے میں معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ پچھنا لگوا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے، دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالُوا: ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَحْتَجِمُ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ، وَالْمَحْجُومُ»
ترجمہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو رمضان میں پچھنا لگوا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے، دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلَطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو قَحْذَمٍ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْخَطِيبُ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ثنا أَبُو قَحْذَمٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ، أَنَّ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ حَدَّثَهُ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي , إِذْ أَبْصَرَ رَجُلًا يَحْتَجِمُ فِي رَمَضَانَ , فَقَالَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ، وَالْمَحْجُومُ»
ترجمہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ کی کسی گلی میں چل رہا تھا، اور آپ ﷺ میرا ہاتھ تھامے ہوئے تھے، کہ آپ ﷺ نے ایک شخص کو رمضان میں پچھنا لگواتے دیکھا، تو فرمایا: ”پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے، دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَرْضَ بَيْتَ شِعْرٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ لَمْ يَقْبَلِ اللهُ لَهُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ صَلَاةً»
ترجمہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص عشاء کے بعد کوئی شعر کہے، اللہ اس رات اس کی نماز قبول نہیں کرتا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: «مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَغَدَا وَابْتَكَرَ، ثُمَّ جَلَسَ قَرِيبًا مِنَ الْإِمَامِ، فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ خَطَاهَا عَمَلَ سَنَةٍ , صِيَامَهَا وَقِيَامَهَا»
ترجمہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن دھویا اور غسل کیا، اور صبح سویرے مسجد گیا اور جلدی گیا، پھر امام کے قریب بیٹھا، اور سنا اور خاموش رہا، تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور قیام کے برابر ثواب ملے گا۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ حَذْلَمٍ الدِّمَشْقِيُّ، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرَّحْبِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا شَدَّادُ بْنَ أَوْسٍ، إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ قَدِ اكْتَنَزُوا الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ، فَاكْنِزْ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ , وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ , وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ , وَحُسْنَ عِبَادَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا , وَلِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ "
ترجمہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے شداد بن اوس! جب تم لوگوں کو سونا اور چاندی جمع کرتے دیکھو تو تم یہ کلمات جمع کر لو: ’اے اللہ! میں تجھ سے دین کے معاملے میں ثابت قدمی اور ہدایت پر پختہ عزم مانگتا ہوں، اور تیری رحمت کو لازم کرنے والی اور تیری مغفرت کو یقینی بنانے والی چیزیں مانگتا ہوں، اور تیری نعمت کا شکر اور تیری عبادت کا حسن مانگتا ہوں، اور تجھ سے سلامتی والا دل اور سچی زبان مانگتا ہوں، اور تجھ سے وہ بھلائی مانگتا ہوں جو تو جانتا ہے، اور اس برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو تو جانتا ہے، اور اس چیز کی بخشش مانگتا ہوں جو تو جانتا ہے، بے شک تو غیبوں کا جاننے والا ہے۔‘“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، قَالُوا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، أَنَّهُ رَاحَ إِلَى مَسْجِدِ دِمَشْقَ، وَهَجَّرَ بِالرَّوَاحِ , فَلَقِيَ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيَّ وَالصُّنَابِحِيُّ مَعَهُ، قُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدَانِ , يَرْحَمُكُمَا اللهُ؟ قَالَا: نُرِيدُ هَهُنَا إِلَى أَخٍ لَنَا مَرِيضٍ نَعُودُهُ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا حَتَّى دَخَلَا عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَا لَهُ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟ قَالَ: أَصْبَحْتُ بِنِعْمَةٍ وَفَضْلٍ، فَقَالَ لَهُ شَدَّادٌ: أَبْشِرْ بِكَفَّارَاتِ السَّيِّئَاتِ , وَحَطِّ الْخَطَايَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنًا، فَحَمِدَنِي عَلَى مَا ابْتَلَيْتُهُ، فَإِنَّهُ مِنْ مَضْجَعِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ مِنَ الْخَطَايَا، وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلُّ: أَنَا قَيَّدْتُ عَبْدِيَ هَذَا , وَابْتَلَيْتُهُ، فَأَجْرُوا لَهُ مَا كُنْتُمْ تُجْرُونَ لَهُ قَبْلَ ذَلِكَ " وَهُوَ صَحِيحٌ
ترجمہ
ابو اشعث صنعانی رحمہ اللہ دمشق کی مسجد کی طرف گئے، اور دوپہر کے وقت گئے، تو ان کی ملاقات شداد بن اوس انصاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی، اور صنابحی رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ میں نے کہا: اللہ آپ دونوں پر رحم فرمائے، کہاں کا ارادہ ہے؟ دونوں نے کہا: ہم یہاں اپنے ایک بیمار بھائی کی عیادت کے لیے جا رہے ہیں۔ تو میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا یہاں تک کہ وہ دونوں اس کے پاس گئے، تو ان دونوں نے اس سے کہا: تم نے کیسی صبح کی؟ اس نے کہا: میں نے نعمت اور فضل کے ساتھ صبح کی۔ تو شداد رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: گناہوں کے کفارے اور خطاؤں کے مٹنے کی خوشخبری ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”بے شک اللہ عزوجل فرماتا ہے: جب میں اپنے کسی مومن بندے کو آزماتا ہوں، تو وہ اس آزمائش پر میری حمد کرتا ہے، تو وہ اپنے بستر سے اسی طرح اٹھتا ہے جیسے اس دن جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا، اور رب عزوجل فرماتا ہے: میں نے اپنے اس بندے کو باندھا اور آزمایا، سو تم اس کے لیے وہی ثواب لکھتے رہو جو اس سے پہلے لکھا کرتے تھے۔“
راوی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
راوی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَارِثِ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ»
ترجمہ
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک ہی جوتا پہن کر نہ چلے۔“