کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: کعب بن مالک بن جعشم کی اپنے بھائی سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا حَسَّانُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّالَّةِ تَرِدُ عَلَى حَوْضَهِ، هَلْ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ إِنْ أَشْبَعَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ»
ترجمہ
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بھٹکے ہوئے جانور کے بارے میں پوچھا جو ان کے حوض پر آ جائے، کیا اسے سیر کرنے پر اجر ملے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، ہر تڑپتے جگر والے جاندار کو پلانے میں اجر ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبٍ الْمُدْلِجِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ يَقُولُ: " جَاءَتْنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ دِيَةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِمَنْ قَتَلَهُمَا , أَوْ أَسَرَهُمَا، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا سُرَاقَةُ إِنِّي رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ، أُرَاهَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ، قَالَ سُرَاقَةُ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ، وَلَكِنَّكَ رَأَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا انْطَلَقُوا بُغَاةً، قَالَ: ثُمَّ مَا لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ إِلَّا سَاعَةً , حَتَّى قُمْتُ فَدَخَلْتُ بَيْتِي، فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تُخْرِجَ لِي فَرَسِي، وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ تَحْبِسُهَا عَلَيَّ، وَأَخَذْتُ رُمْحِي , فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ، فَخَطَطْتُ بِرُمْحِي فِي الْأَرْضِ، وَخَفَضْتُ عَالِيَةَ الرُّمْحِ، حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي فَرَكِبْتُهَا فَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي، حَتَّى رَأَيْتُ أَسْوِدَتَهُمْ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُمْ حَيْثُ يَسْمَعُونَ الصَّوْتَ عَثَرَتْ بِي فَرَسِي، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَقُمْتُ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي إِلَى كِنَانَتِي، فَأَخْرَجَتُ مِنْهَا الْأَزْلَامَ، فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا , أَضُرُّهُمْ؟ أَمْ لَا؟ فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ، أَنْ لَا أَضُرَّهُمْ، فَرَكِبْتُ فَرَسِي , وَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ، فَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي مِنْهُمْ أَيْضًا، حَتَّى إِذَا دَنَوْتُ سَمِعْتُ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ، وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُكْثِرُ الِالْتِفَاتَ، سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَتِ الرُّكْبَتَيْنِ، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَزَجَرْتُهَا، فَنَهَضَتْ، فَلَمْ تَكَدْ تَخْرُجُ يَدَاهَا، فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً , إِذْ لِأَثَرِ يَدَيْهَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ مِنَ الدُّخَانِ، - قَالَ مَعْمَرٌ: قُلْتُ لِأَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ: مَا الْعُثَانُ؟ فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: هُوَ الدُّخَانُ مِنْ غَيْرِ نَارٍ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ - فَاسْتَقْسَمْتُ بِالْأَزْلَامِ، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمَا، فَنَادَيْتُهُمَا بِالْأَمَانِ، فَوَقَفَا، وَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتَهُمْ، وَقَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي حِينَ لَقِيتُ مِنْهُمْ مَا لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْهُمْ، أَنَّهُ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ، وَأَخْبَرْتُهُمْ مِنْ أَخْبَارِ سَفَرِهِمْ، وَمَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ، فَلَمْ يَرْزَءُونِي شَيْئًا، وَلَمْ يَسْأَلُونِي إِلَّا أَنْ: «أَخْفِ عَنَّا» ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ مُوَادَعَةٍ، آمَنُ بِهِ , فَأَمَرَ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ، فَكَتَبَهُ لِي فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ، ثُمَّ مَضَى "
ترجمہ
سیدنا سراقہ بن مالک مدلجی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آئے جو رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میں سے ہر ایک کے بدلے، اس شخص کے لیے جو انہیں قتل کرے یا قید کر لے، ایک دیت (کے برابر انعام) مقرر کر رہے تھے۔ فرماتے ہیں: اسی دوران کہ میں اپنی قوم بنو مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، ان میں سے ایک آدمی آیا یہاں تک کہ ہمارے پاس آ کھڑا ہوا اور کہا: اے سراقہ! میں نے ابھی ساحل کی طرف کچھ ہیولے دیکھے ہیں، میرا خیال ہے وہ محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھی ہیں۔ سراقہ کہتے ہیں: میں پہچان گیا کہ وہ وہی ہیں، مگر میں نے کہا: وہ یہ لوگ نہیں ہیں، بلکہ تم نے فلاں اور فلاں کو دیکھا ہے جو (کسی چیز کی) تلاش میں نکلے ہیں۔ پھر میں مجلس میں تھوڑی دیر ہی ٹھہرا، پھر اٹھ کر اپنے گھر آیا اور اپنی لونڈی کو حکم دیا کہ میرا گھوڑا نکال لائے، وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا جہاں وہ اسے میرے لیے روکے رکھتی تھی، اور میں نے اپنا نیزہ لیا اور اسے لے کر گھر کے پچھلے حصے سے نکلا، میں نے اپنے نیزے سے زمین پر لکیر کھینچی اور نیزے کا اوپری سرا نیچے جھکائے رکھا، یہاں تک کہ اپنے گھوڑے کے پاس پہنچا، اس پر سوار ہوا اور اسے دوڑایا تو وہ مجھے تیزی سے لے چلا، یہاں تک کہ میں نے ان کے ہیولے دیکھ لیے۔ جب میں ان کے اتنا قریب ہوا کہ وہ آواز سن سکیں تو میرا گھوڑا مجھے لے کر ٹھوکر کھا گیا اور میں اس سے گر پڑا، میں اٹھا اور اپنے ترکش کی طرف ہاتھ بڑھایا، اس سے فال کے تیر نکالے اور ان سے فال نکالی کہ کیا میں انہیں نقصان پہنچاؤں یا نہیں؟ تو وہ نکلا جو مجھے ناپسند تھا، کہ میں انہیں نقصان نہ پہنچاؤں۔ میں پھر اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور فال کے تیروں کی بات نہ مانی، اور اسے دوڑایا تو وہ مجھے پھر ان کے قریب لے چلا، یہاں تک کہ جب میں قریب پہنچا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کی قراءت سنی، آپ ﷺ ادھر ادھر نہیں دیکھتے تھے جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بار بار مڑ کر دیکھتے تھے، (اتنے میں) میرے گھوڑے کے دونوں اگلے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے، میں اس سے گر پڑا، پھر میں نے اسے ڈانٹا تو وہ اٹھا، مگر اس کے پاؤں مشکل ہی سے نکل پائے، جب وہ سیدھا کھڑا ہو گیا تو اچانک اس کے پاؤں کے نشان سے دھوئیں جیسا غبار (عثان) آسمان کی طرف بلند ہو رہا تھا۔ (معمر کہتے ہیں: میں نے ابو عمرو بن علاء سے پوچھا: عثان کیا ہے؟ وہ کچھ دیر خاموش رہے، پھر کہا: وہ دھواں جو آگ کے بغیر ہو۔ معمر کہتے ہیں: زہری نے اپنی حدیث میں کہا:) پھر میں نے فال کے تیروں سے فال نکالی تو وہی نکلا جو مجھے ناپسند تھا، کہ میں ان دونوں کو نقصان نہ پہنچاؤں، تو میں نے انہیں امان کی آواز دی، وہ رک گئے، اور میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس پہنچا، اور جب مجھے ان تک پہنچنے سے اس طرح روکا گیا تو میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ رسول اللہ ﷺ کا معاملہ غالب آ کر رہے گا۔ میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: آپ کی قوم نے آپ کے بدلے دیت (کے برابر انعام) مقرر کی ہے، اور میں نے انہیں ان کے سفر سے متعلق خبریں دیں اور یہ کہ لوگ ان کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں، اور میں نے انہیں زادِ راہ اور سامان پیش کیا، تو انہوں نے مجھ سے کچھ نہ لیا، اور مجھ سے صرف اتنا کہا: ”ہمارا معاملہ چھپائے رکھنا۔“ پھر میں نے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ مجھے امان کی ایک تحریر لکھ دیں جس کے ذریعے میں امن میں رہوں، تو آپ ﷺ نے عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر میرے لیے وہ لکھ دی، پھر آپ ﷺ آگے روانہ ہو گئے۔
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ مَالِكًا أَخْبَرَهُ أَنَّ أَخَاهُ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ مُهَاجِرًا إِلَى الْمَدِينَةِ جَعَلَتْ قُرَيْشٌ لِمَنْ رَدَّهُ عَلَيْهِمْ مِائَةَ نَاقَةٍ، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي نَادِي قَوْمِي جَاءَ رَجُلٌ مِنَّا، فَقَالَ: وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَكَبَةً ثَلَاثَةً مَرُّوا عَلَيَّ آنِفًا، إِنِّي لَأَظُنُّهُ مُحَمَّدًا قَالَ: فَأَوْمَأَتُ إِلَيْهِ: أَنِ اسْكُتْ، وَقُلْتُ: إِنَّمَا هُمْ بَنُو فُلَانٍ يَتَّبِعُونَ ضَالَّةً لَهُمْ , قَالَ: لَعَلَّهُ ثُمَّ سَكَتَ، فَمَكَثْتُ قَلِيلًا، وَقُمْتُ , فَأَمَرْتُ بِفَرَسِي، فَقِيدَ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي، فَأَخْرَجَتُ سِلَاحِي مِنْ وَرَاءِ حُجْرَتِي، ثُمَّ أَخَذْتُ قِدَاحِي الَّتِي أَسْتَقْسِمُ بِهَا، ثُمَّ لَبِسْتُ لَأْمَتِي، ثُمَّ أَخْرَجْتُ قِدَاحِي، فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا، وَقَالَ: فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ: لَا يَضُرُّهُ، وَكُنْتُ أَرْجُو أَنْ أَرُدَّهُ، فَآخُذَ الْمِائَةَ النَّاقَةَ، فَرَكِبْتُ عَلَى أَثَرِهِمْ , فَبَيْنَمَا فَرَسِي يَشْتَدُّ بِي عَثَرَ، فَسَقَطْتُ عَنْهُ، فَأَخْرَجَتُ قِدَاحِي فَاسْتَقْسَمْتُ فَخَرَجَ السَّهْمُ الَّذِي أَكْرَهُ: لَا يَضُرُّهُ، فَأَبَيْتُ إِلَّا أَنْ أَتَّبِعَهُ، فَرَكِبْتُهُ , فَلَمَّا بَدَا لِيَ الْقَوْمُ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِمْ عَثَرَ بِي فَرَسِي، وَذَهَبَتْ يَدَاهُ فِي الْأَرْضِ، فَسَقَطْتُ، فَاسْتَخْرَجَ يَدَهُ، وَأَتْبَعَهَا دُخَانٌ مِثْلُ الْعُثَانِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ مُنِعَ مِنِّي , وَأَنَّهُ ظَاهِرٌ، فَنَادَيْتُهُمْ فَقُلْتُ: أَنْظِرُونِي , فَوَاللهِ إِنِّي لَا أَرِيبُكُمْ , وَلَا يَبْدَؤُكُمْ مِنِّي شَيْءٌ تَكْرَهُونَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ لَهُ: مَاذَا يَبْتَغِي؟ " فَقُلْتُ: اكْتُبْ لِي كِتَابًا بَيْنِي وَبَيْنَكَ آيَةً، قَالَ: «اكْتُبْ يَا أَبَا بَكْرٍ» ، قَالَ: فَكَتَبَ لِي، ثُمَّ أَلْقَاهَا إِلَيَّ، فَرَجَعْتُ، فَسَكَتُّ , فَلَمْ أَذْكُرْ شَيْئًا مِمَّا كَانَ , حَتَّى إِذَا فَتَحَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مَكَّةَ، وَفَرَغَ مِنْ أَهْلِ حُنَيْنٍ خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعِيَ الْكِتَابُ الَّذِي كَتَبَ لِي , قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا عَامِدٌ لَهُ , دَخَلْتُ بَيْنَ ظَهْرَيْ كَتِيبَةٍ مِنْ كَتَائِبِ الْأَنْصَارِ، فَطَفِقُوا يَقْرَعُونِي بِالرِّمَاحِ، وَيَقُولُونَ: إِلَيْكَ إِلَيْكَ حَتَّى إِذَا دَنَوْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ أَنْظُرُ إِلَى سَاقَيْهِ فِي غَرْزِهِ كَأَنَّهَا جُمَّارَةٌ، فَدَفَعْتُ يَدِي بِالْكِتَابِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا كِتَابُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَوْمُ وَفَاءٍ وَبِرٍّ، ادْنُهْ» فَأَسْلَمْتُ
ثُمَّ تَذَكَّرْتُ شَيْئًا أَسْأَلُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا ذَكَرْتُ شَيْئًا إِلَّا قَدْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الضَّالَّةُ تَغْشَى حِيَاضَنَا قَدْ مَلَأْتُهَا لِإِبِلِي، هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ أَنْ أَسْقِيَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ» فَانْصَرَفْتُ، فَسُقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَتِي
ثُمَّ تَذَكَّرْتُ شَيْئًا أَسْأَلُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا ذَكَرْتُ شَيْئًا إِلَّا قَدْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الضَّالَّةُ تَغْشَى حِيَاضَنَا قَدْ مَلَأْتُهَا لِإِبِلِي، هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ أَنْ أَسْقِيَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ» فَانْصَرَفْتُ، فَسُقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَتِي
ترجمہ
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف نکلے تو قریش نے اعلان کیا کہ جو انہیں پکڑ کر واپس لائے گا اسے سو اونٹنیاں انعام میں ملیں گی۔ سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی قوم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ہم میں سے ایک آدمی آیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے ابھی تین سوار دیکھے ہیں جو میرے پاس سے گزرے، میرا خیال ہے کہ وہ محمد ﷺ ہیں۔ میں نے اسے اشارہ کیا کہ خاموش رہو، اور کہا: یہ تو بس فلاں قبیلے کے لوگ ہیں جو اپنا بھٹکا ہوا جانور تلاش کر رہے ہیں۔ اس نے کہا: شاید ایسا ہی ہو، پھر خاموش ہو گیا۔ میں کچھ دیر ٹھہرا رہا، پھر اٹھا اور اپنا گھوڑا منگوایا، وہ وادی کے نچلے حصے میں لے جایا گیا، پھر میں نے اپنے ہتھیار اپنے حجرے کے پیچھے سے نکالے، پھر اپنے وہ تیر لیے جن سے میں فال نکالتا تھا، پھر میں نے اپنی زرہ پہنی، پھر میں نے اپنے تیر نکالے اور ان سے فال نکالی، تو وہ نتیجہ نکلا جو میں ناپسند کرتا تھا یعنی اسے نقصان نہیں پہنچے گا، مگر مجھے امید تھی کہ میں انہیں واپس لے آؤں گا اور سو اونٹنیاں حاصل کر لوں گا۔ چنانچہ میں ان کے پیچھے سوار ہو کر چلا، اتنے میں میرا گھوڑا تیزی سے دوڑتے ہوئے ٹھوکر کھا گیا اور میں اس سے گر پڑا، تو میں نے اپنے تیر نکالے اور دوبارہ فال نکالی، تو پھر وہی تیر نکلا جو میں ناپسند کرتا تھا یعنی اسے نقصان نہیں پہنچے گا، مگر میں نے انکار کیا اور ان کا پیچھا کرنے پر مصر رہا، اور اس پر سوار ہو گیا۔ جب مجھ پر وہ لوگ ظاہر ہوئے اور میں نے انہیں دیکھا تو میرا گھوڑا ٹھوکر کھا گیا اور اس کے دونوں اگلے پاؤں زمین میں دھنس گئے، اور میں گر پڑا، اس نے اپنا پاؤں نکالا تو اس کے پیچھے دھواں سا اٹھا، تو مجھے یقین ہو گیا کہ مجھے ان تک پہنچنے سے روک دیا گیا ہے اور وہ محمد ﷺ غالب رہیں گے۔ چنانچہ میں نے انہیں پکارا اور کہا: میرا انتظار کرو، اللہ کی قسم! میں تمہیں نہ ستاؤں گا اور نہ میری طرف سے تمہیں کوئی ناپسندیدہ بات پہنچے گی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے پوچھو وہ کیا چاہتا ہے؟“ میں نے کہا: میرے اور آپ کے درمیان ایک نشانی کے طور پر ایک تحریر لکھ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! لکھ دو۔“ تو انہوں نے میرے لیے لکھ دیا اور میری طرف ڈال دیا، تو میں واپس چلا گیا اور خاموش ہو گیا اور جو ہوا اس میں سے کچھ ذکر نہ کیا، یہاں تک کہ جب اللہ نے اپنے رسول کے ہاتھوں مکہ فتح کرا دیا اور حنین والوں سے فارغ ہوئے تو میں رسول اللہ ﷺ کی طرف نکلا، اور وہ تحریر جو آپ ﷺ نے میرے لیے لکھی تھی میرے ساتھ تھی۔ میں آپ ﷺ کی طرف جاتے ہوئے انصار کے ایک لشکر کے درمیان جا پہنچا، تو وہ مجھے نیزوں سے دھکیلنے لگے اور کہنے لگے: پیچھے ہٹو، پیچھے ہٹو، یہاں تک کہ جب میں رسول اللہ ﷺ کے قریب پہنچا جو اپنی اونٹنی پر سوار تھے، میں آپ ﷺ کی پنڈلیوں کو رکاب میں دیکھ رہا تھا گویا وہ کھجور کے تنے کا دل ہوں، تو میں نے اپنا ہاتھ اس تحریر کے ساتھ بڑھایا اور کہا: یا رسول اللہ! یہ آپ کی تحریر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج وفا اور نیکی کا دن ہے، قریب آؤ۔“ چنانچہ میں مسلمان ہو گیا۔ پھر مجھے ایک بات یاد آئی جو میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھنا چاہتا تھا، اور مجھے جو بھی بات یاد آئی وہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بھٹکا ہوا جانور ہمارے حوضوں پر آتا ہے جو میں نے اپنے اونٹوں کے لیے بھرے ہوتے ہیں، کیا مجھے اسے پلانے پر کوئی اجر ملے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، ہر تڑپتے جگر والے جاندار کو پلانے میں اجر ہے۔“ تو میں واپس گیا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنی زکات کے جانور بھیجے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ مُهَاجِرًا إِلَى الْمَدِينَةِ جَعَلَتْ قُرَيْشٌ لِمَنْ رَدَّهُ مِائَةَ نَاقَةٍ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي نَادِي قَوْمِي إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ فَقَالَ: وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَكَبَةً ثَلَاثَةً مَرُّوا عَلَيَّ آنِفًا إِنِّي لَأَرَاهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَوْمَأْتُ إِلَيْهِ: أَنِ اسْكُتْ , إِنَّمَا هُمْ بَنُو فُلَانٍ يَبْغُونَ ضَالَّةً لَهُمْ، فَلَبِثْتُ قَلِيلًا، ثُمَّ قُمْتُ، فَدَخَلْتُ، فَأَمَرْتُ بِفَرَسِي فَقِيدَ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي، وَأَخْرَجَتُ سِلَاحِي مِنْ وَرَاءِ حُجْرَتِي، ثُمَّ أَخَذْتُ قِدَاحِي الَّذِي أَسْتَقْسِمُ بِهَا، وَلَبِسْتُ لَأْمَتِي، ثُمَّ أَخْرَجْتُ قِدَاحِي، فَاسْتَقْسَمْتُ، فَخَرَجَ السَّهْمُ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُ، قَالَ: وَكُنْتُ أَرْجُو أَنْ أَرُدَّهُ، فَآخُذَ الْمِائَةَ النَّاقَةَ، فَرَكِبْتُ عَلَى أَثَرِهِ، فَبَيْنَمَا فَرَسِي يَشْتَدُّ بِي عَثَرَ، فَسَقَطْتُ عَنْهُ، فَأَخْرَجْتُ قِدَاحِي فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا، فَخَرَجَ السَّهْمُ الَّذِي أَكْرَهُ: لَا أَضُرُّهُ، فَأَبَيْتُ إِلَّا أَنْ أَتْبَعَهُ، فَرَكِبْتُ فَرَسِي، فَلَمَّا بَدَا لِيَ الْقَوْمُ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِمْ عَثَرَ بِي فَرَسِي، وَذَهَبَتْ يَدَاهُ فِي الْأَرْضِ، وَسَقَطْتُ عَنْهُ، فَاسْتَخْرَجَ يَدَيْهِ، فَاتَّبَعَهُمَا دُخَانٌ مِثْلُ الْعَصَا، فَعَرَفْتُ أَنْ قَدْ مُنِعَ مِنِّي، وَأَنَّهُ ظَاهِرٌ، فَنَادَيْتُهُمْ، فَقُلْتُ: أَنْظِرُونِي، فَوَاللهِ، لَا آذَيْتُكُمْ وَلَا يَأْتِيكُمْ مِنِّي شَيْءٌ تَكْرَهُونَهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَاذَا تَبْغِي؟» قُلْتُ: اكْتُبْ لِي كِتَابًا يَكُونُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ آيَةً، قَالَ: «اكْتُبْ لَهُ يَا أَبَا بَكْرٍ» ، قَالَ: فَكَتَبَ لِي كِتَابًا، ثُمَّ أَلْقَاهُمْ إِلَيَّ، قَالَ: فَرَجَعْتُ فَسَكَتُّ، فَلَمْ أَذْكُرْ شَيْئًا مِمَّا كَانَ , حَتَّى إِذَا فَتَحَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، وَفَرَغَ مِنْ حُنَيْنٍ خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَلْقَاهُ، وَمَعِيَ الْكِتَابُ الَّذِي كَتَبَ لِي، فَبَيْنَمَا أَنَا عَامِدٌ لَهُ دَخَلْتُ بَيْنَ كَتِيبَةٍ مِنْ كَتَائِبِ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلُوا يَقْرَعُونِي بِالرِّمَاحِ، وَيَقُولُونَ: إِلَيْكَ إِلَيْكَ حَتَّى دَنَوْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ أَنْظُرُ إِلَى سَاقِهِ فِي غَرْزِهِ كَأَنَّهَا جُمَّارَةٌ، فَرَفَعْتُ يَدِي بِالْكِتَابِ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا كِتَابُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَوْمُ وَفَاءٍ وَبِرٍّ» ، فَأَسْلَمْتُ وَسُقْتُ إِلَيْهِ صَدَقَةَ مَالِي
ترجمہ
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف نکلے تو قریش نے اس شخص کے لیے جو آپ ﷺ کو واپس لائے سو اونٹنیاں مقرر کیں۔ (سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) میں اپنی قوم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے ابھی تین سوار دیکھے ہیں جو میرے پاس سے گزرے، میرا خیال ہے کہ وہ محمد ﷺ ہیں۔ میں نے اسے اشارہ کیا کہ خاموش رہو، وہ تو بس فلاں قبیلے کے لوگ ہیں جو اپنا بھٹکا ہوا جانور تلاش کر رہے ہیں۔ میں تھوڑی دیر ٹھہرا، پھر اٹھ کر (گھر) گیا اور اپنا گھوڑا منگوایا تو اسے وادی کے نشیب میں لے جایا گیا، اور میں نے اپنے ہتھیار اپنے حجرے کے پیچھے سے نکالے، پھر اپنے وہ تیر لیے جن سے میں فال نکالتا تھا، اور اپنی زرہ پہنی، پھر میں نے اپنے تیر نکالے اور فال نکالی تو وہ تیر نکلا جو مجھے ناپسند تھا، کہ میں انہیں نقصان نہ پہنچاؤں۔ فرماتے ہیں: اور مجھے امید تھی کہ میں آپ ﷺ کو واپس لے آؤں گا اور سو اونٹنیاں حاصل کر لوں گا۔ چنانچہ میں آپ ﷺ کے پیچھے سوار ہو کر چلا، اسی دوران کہ میرا گھوڑا مجھے لے کر تیزی سے دوڑ رہا تھا، اس نے ٹھوکر کھائی اور میں اس سے گر پڑا، تو میں نے اپنے تیر نکالے اور ان سے فال نکالی، تو پھر وہی تیر نکلا جو مجھے ناپسند تھا، کہ میں انہیں نقصان نہ پہنچاؤں، مگر میں نے پیچھا کرنے کے سوا کوئی بات نہ مانی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ جب وہ لوگ مجھے نظر آئے اور میں نے انہیں دیکھا تو میرا گھوڑا مجھے لے کر ٹھوکر کھا گیا، اس کے دونوں اگلے پاؤں زمین میں دھنس گئے اور میں اس سے گر پڑا، اس نے اپنے پاؤں نکالے تو ان کے پیچھے لاٹھی کی طرح (سیدھا) دھواں اٹھا، تو مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ ﷺ کو مجھ سے بچا لیا گیا ہے اور آپ ﷺ غالب آ کر رہیں گے، تو میں نے انہیں آواز دی اور کہا: میرا انتظار کرو، اللہ کی قسم! نہ میں تمہیں ستاؤں گا اور نہ میری طرف سے تمہیں کوئی ناپسندیدہ بات پہنچے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کیا چاہتے ہو؟“ میں نے کہا: میرے اور آپ کے درمیان ایک نشانی کے طور پر ایک تحریر لکھ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! اس کے لیے لکھ دو۔“ تو انہوں نے میرے لیے ایک تحریر لکھی اور میری طرف ڈال دی، تو میں واپس گیا اور خاموش ہو گیا اور جو ہوا اس میں سے کچھ ذکر نہ کیا، یہاں تک کہ جب اللہ عزوجل نے اپنے رسول ﷺ کے ہاتھوں مکہ فتح کرا دیا اور حنین سے فارغ ہوئے تو میں رسول اللہ ﷺ سے ملنے نکلا، اور وہ تحریر جو آپ ﷺ نے میرے لیے لکھی تھی میرے ساتھ تھی، میں آپ ﷺ کی طرف جاتے ہوئے انصار کے ایک لشکر کے درمیان جا پہنچا، تو وہ مجھے نیزوں سے دھکیلنے لگے اور کہنے لگے: پیچھے ہٹو، پیچھے ہٹو، یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ کے قریب پہنچا جو اپنی اونٹنی پر سوار تھے، میں آپ ﷺ کی پنڈلی کو رکاب میں دیکھ رہا تھا گویا وہ کھجور کے تنے کا دل ہو، تو میں نے اپنا ہاتھ اس تحریر کے ساتھ بلند کیا اور کہا: یا رسول اللہ! یہ آپ کی تحریر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج وفا اور نیکی کا دن ہے۔“ چنانچہ میں مسلمان ہو گیا اور آپ ﷺ کی طرف اپنے مال کی زکات بھیجی۔