❮
❯
حدیث نمبر: 6573
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ مُهَاجِرًا إِلَى الْمَدِينَةِ جَعَلَتْ قُرَيْشٌ لِمَنْ رَدَّهُ مِائَةَ نَاقَةٍ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي نَادِي قَوْمِي إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ فَقَالَ: وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَكَبَةً ثَلَاثَةً مَرُّوا عَلَيَّ آنِفًا إِنِّي لَأَرَاهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَوْمَأْتُ إِلَيْهِ: أَنِ اسْكُتْ , إِنَّمَا هُمْ بَنُو فُلَانٍ يَبْغُونَ ضَالَّةً لَهُمْ، فَلَبِثْتُ قَلِيلًا، ثُمَّ قُمْتُ، فَدَخَلْتُ، فَأَمَرْتُ بِفَرَسِي فَقِيدَ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي، وَأَخْرَجَتُ سِلَاحِي مِنْ وَرَاءِ حُجْرَتِي، ثُمَّ أَخَذْتُ قِدَاحِي الَّذِي أَسْتَقْسِمُ بِهَا، وَلَبِسْتُ لَأْمَتِي، ثُمَّ أَخْرَجْتُ قِدَاحِي، فَاسْتَقْسَمْتُ، فَخَرَجَ السَّهْمُ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُ، قَالَ: وَكُنْتُ أَرْجُو أَنْ أَرُدَّهُ، فَآخُذَ الْمِائَةَ النَّاقَةَ، فَرَكِبْتُ عَلَى أَثَرِهِ، فَبَيْنَمَا فَرَسِي يَشْتَدُّ بِي عَثَرَ، فَسَقَطْتُ عَنْهُ، فَأَخْرَجْتُ قِدَاحِي فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا، فَخَرَجَ السَّهْمُ الَّذِي أَكْرَهُ: لَا أَضُرُّهُ، فَأَبَيْتُ إِلَّا أَنْ أَتْبَعَهُ، فَرَكِبْتُ فَرَسِي، فَلَمَّا بَدَا لِيَ الْقَوْمُ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِمْ عَثَرَ بِي فَرَسِي، وَذَهَبَتْ يَدَاهُ فِي الْأَرْضِ، وَسَقَطْتُ عَنْهُ، فَاسْتَخْرَجَ يَدَيْهِ، فَاتَّبَعَهُمَا دُخَانٌ مِثْلُ الْعَصَا، فَعَرَفْتُ أَنْ قَدْ مُنِعَ مِنِّي، وَأَنَّهُ ظَاهِرٌ، فَنَادَيْتُهُمْ، فَقُلْتُ: أَنْظِرُونِي، فَوَاللهِ، لَا آذَيْتُكُمْ وَلَا يَأْتِيكُمْ مِنِّي شَيْءٌ تَكْرَهُونَهُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَاذَا تَبْغِي؟» قُلْتُ: اكْتُبْ لِي كِتَابًا يَكُونُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ آيَةً، قَالَ: «اكْتُبْ لَهُ يَا أَبَا بَكْرٍ» ، قَالَ: فَكَتَبَ لِي كِتَابًا، ثُمَّ أَلْقَاهُمْ إِلَيَّ، قَالَ: فَرَجَعْتُ فَسَكَتُّ، فَلَمْ أَذْكُرْ شَيْئًا مِمَّا كَانَ , حَتَّى إِذَا فَتَحَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، وَفَرَغَ مِنْ حُنَيْنٍ خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَلْقَاهُ، وَمَعِيَ الْكِتَابُ الَّذِي كَتَبَ لِي، فَبَيْنَمَا أَنَا عَامِدٌ لَهُ دَخَلْتُ بَيْنَ كَتِيبَةٍ مِنْ كَتَائِبِ الْأَنْصَارِ، فَجَعَلُوا يَقْرَعُونِي بِالرِّمَاحِ، وَيَقُولُونَ: إِلَيْكَ إِلَيْكَ حَتَّى دَنَوْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ أَنْظُرُ إِلَى سَاقِهِ فِي غَرْزِهِ كَأَنَّهَا جُمَّارَةٌ، فَرَفَعْتُ يَدِي بِالْكِتَابِ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا كِتَابُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَوْمُ وَفَاءٍ وَبِرٍّ» ، فَأَسْلَمْتُ وَسُقْتُ إِلَيْهِ صَدَقَةَ مَالِي
ترجمہ

سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف نکلے تو قریش نے اس شخص کے لیے جو آپ ﷺ کو واپس لائے سو اونٹنیاں مقرر کیں۔ (سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) میں اپنی قوم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے ابھی تین سوار دیکھے ہیں جو میرے پاس سے گزرے، میرا خیال ہے کہ وہ محمد ﷺ ہیں۔ میں نے اسے اشارہ کیا کہ خاموش رہو، وہ تو بس فلاں قبیلے کے لوگ ہیں جو اپنا بھٹکا ہوا جانور تلاش کر رہے ہیں۔ میں تھوڑی دیر ٹھہرا، پھر اٹھ کر (گھر) گیا اور اپنا گھوڑا منگوایا تو اسے وادی کے نشیب میں لے جایا گیا، اور میں نے اپنے ہتھیار اپنے حجرے کے پیچھے سے نکالے، پھر اپنے وہ تیر لیے جن سے میں فال نکالتا تھا، اور اپنی زرہ پہنی، پھر میں نے اپنے تیر نکالے اور فال نکالی تو وہ تیر نکلا جو مجھے ناپسند تھا، کہ میں انہیں نقصان نہ پہنچاؤں۔ فرماتے ہیں: اور مجھے امید تھی کہ میں آپ ﷺ کو واپس لے آؤں گا اور سو اونٹنیاں حاصل کر لوں گا۔ چنانچہ میں آپ ﷺ کے پیچھے سوار ہو کر چلا، اسی دوران کہ میرا گھوڑا مجھے لے کر تیزی سے دوڑ رہا تھا، اس نے ٹھوکر کھائی اور میں اس سے گر پڑا، تو میں نے اپنے تیر نکالے اور ان سے فال نکالی، تو پھر وہی تیر نکلا جو مجھے ناپسند تھا، کہ میں انہیں نقصان نہ پہنچاؤں، مگر میں نے پیچھا کرنے کے سوا کوئی بات نہ مانی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ جب وہ لوگ مجھے نظر آئے اور میں نے انہیں دیکھا تو میرا گھوڑا مجھے لے کر ٹھوکر کھا گیا، اس کے دونوں اگلے پاؤں زمین میں دھنس گئے اور میں اس سے گر پڑا، اس نے اپنے پاؤں نکالے تو ان کے پیچھے لاٹھی کی طرح (سیدھا) دھواں اٹھا، تو مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ ﷺ کو مجھ سے بچا لیا گیا ہے اور آپ ﷺ غالب آ کر رہیں گے، تو میں نے انہیں آواز دی اور کہا: میرا انتظار کرو، اللہ کی قسم! نہ میں تمہیں ستاؤں گا اور نہ میری طرف سے تمہیں کوئی ناپسندیدہ بات پہنچے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم کیا چاہتے ہو؟“ میں نے کہا: میرے اور آپ کے درمیان ایک نشانی کے طور پر ایک تحریر لکھ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! اس کے لیے لکھ دو۔“ تو انہوں نے میرے لیے ایک تحریر لکھی اور میری طرف ڈال دی، تو میں واپس گیا اور خاموش ہو گیا اور جو ہوا اس میں سے کچھ ذکر نہ کیا، یہاں تک کہ جب اللہ عزوجل نے اپنے رسول ﷺ کے ہاتھوں مکہ فتح کرا دیا اور حنین سے فارغ ہوئے تو میں رسول اللہ ﷺ سے ملنے نکلا، اور وہ تحریر جو آپ ﷺ نے میرے لیے لکھی تھی میرے ساتھ تھی، میں آپ ﷺ کی طرف جاتے ہوئے انصار کے ایک لشکر کے درمیان جا پہنچا، تو وہ مجھے نیزوں سے دھکیلنے لگے اور کہنے لگے: پیچھے ہٹو، پیچھے ہٹو، یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ کے قریب پہنچا جو اپنی اونٹنی پر سوار تھے، میں آپ ﷺ کی پنڈلی کو رکاب میں دیکھ رہا تھا گویا وہ کھجور کے تنے کا دل ہو، تو میں نے اپنا ہاتھ اس تحریر کے ساتھ بلند کیا اور کہا: یا رسول اللہ! یہ آپ کی تحریر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج وفا اور نیکی کا دن ہے۔“ چنانچہ میں مسلمان ہو گیا اور آپ ﷺ کی طرف اپنے مال کی زکات بھیجی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6573
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 134، حدیث 6603