❮
❯
حدیث نمبر: 6571
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبٍ الْمُدْلِجِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ سُرَاقَةَ يَقُولُ: " جَاءَتْنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ دِيَةَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِمَنْ قَتَلَهُمَا , أَوْ أَسَرَهُمَا، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْهُمْ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا سُرَاقَةُ إِنِّي رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ، أُرَاهَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ، قَالَ سُرَاقَةُ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ، فَقُلْتُ: إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ، وَلَكِنَّكَ رَأَيْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا انْطَلَقُوا بُغَاةً، قَالَ: ثُمَّ مَا لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ إِلَّا سَاعَةً , حَتَّى قُمْتُ فَدَخَلْتُ بَيْتِي، فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تُخْرِجَ لِي فَرَسِي، وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ تَحْبِسُهَا عَلَيَّ، وَأَخَذْتُ رُمْحِي , فَخَرَجْتُ بِهِ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ، فَخَطَطْتُ بِرُمْحِي فِي الْأَرْضِ، وَخَفَضْتُ عَالِيَةَ الرُّمْحِ، حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي فَرَكِبْتُهَا فَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي، حَتَّى رَأَيْتُ أَسْوِدَتَهُمْ، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُمْ حَيْثُ يَسْمَعُونَ الصَّوْتَ عَثَرَتْ بِي فَرَسِي، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَقُمْتُ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي إِلَى كِنَانَتِي، فَأَخْرَجَتُ مِنْهَا الْأَزْلَامَ، فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا , أَضُرُّهُمْ؟ أَمْ لَا؟ فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ، أَنْ لَا أَضُرَّهُمْ، فَرَكِبْتُ فَرَسِي , وَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ، فَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي مِنْهُمْ أَيْضًا، حَتَّى إِذَا دَنَوْتُ سَمِعْتُ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ، وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُكْثِرُ الِالْتِفَاتَ، سَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَتِ الرُّكْبَتَيْنِ، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَزَجَرْتُهَا، فَنَهَضَتْ، فَلَمْ تَكَدْ تَخْرُجُ يَدَاهَا، فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً , إِذْ لِأَثَرِ يَدَيْهَا عُثَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ مِنَ الدُّخَانِ، - قَالَ مَعْمَرٌ: قُلْتُ لِأَبِي عَمْرِو بْنِ الْعَلَاءِ: مَا الْعُثَانُ؟ فَسَكَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: هُوَ الدُّخَانُ مِنْ غَيْرِ نَارٍ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ - فَاسْتَقْسَمْتُ بِالْأَزْلَامِ، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمَا، فَنَادَيْتُهُمَا بِالْأَمَانِ، فَوَقَفَا، وَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتَهُمْ، وَقَدْ وَقَعَ فِي نَفْسِي حِينَ لَقِيتُ مِنْهُمْ مَا لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَنْهُمْ، أَنَّهُ سَيَظْهَرُ أَمْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ، وَأَخْبَرْتُهُمْ مِنْ أَخْبَارِ سَفَرِهِمْ، وَمَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ، فَلَمْ يَرْزَءُونِي شَيْئًا، وَلَمْ يَسْأَلُونِي إِلَّا أَنْ: «أَخْفِ عَنَّا» ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ مُوَادَعَةٍ، آمَنُ بِهِ , فَأَمَرَ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ، فَكَتَبَهُ لِي فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ، ثُمَّ مَضَى "
ترجمہ

سیدنا سراقہ بن مالک مدلجی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آئے جو رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میں سے ہر ایک کے بدلے، اس شخص کے لیے جو انہیں قتل کرے یا قید کر لے، ایک دیت (کے برابر انعام) مقرر کر رہے تھے۔ فرماتے ہیں: اسی دوران کہ میں اپنی قوم بنو مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا، ان میں سے ایک آدمی آیا یہاں تک کہ ہمارے پاس آ کھڑا ہوا اور کہا: اے سراقہ! میں نے ابھی ساحل کی طرف کچھ ہیولے دیکھے ہیں، میرا خیال ہے وہ محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھی ہیں۔ سراقہ کہتے ہیں: میں پہچان گیا کہ وہ وہی ہیں، مگر میں نے کہا: وہ یہ لوگ نہیں ہیں، بلکہ تم نے فلاں اور فلاں کو دیکھا ہے جو (کسی چیز کی) تلاش میں نکلے ہیں۔ پھر میں مجلس میں تھوڑی دیر ہی ٹھہرا، پھر اٹھ کر اپنے گھر آیا اور اپنی لونڈی کو حکم دیا کہ میرا گھوڑا نکال لائے، وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا جہاں وہ اسے میرے لیے روکے رکھتی تھی، اور میں نے اپنا نیزہ لیا اور اسے لے کر گھر کے پچھلے حصے سے نکلا، میں نے اپنے نیزے سے زمین پر لکیر کھینچی اور نیزے کا اوپری سرا نیچے جھکائے رکھا، یہاں تک کہ اپنے گھوڑے کے پاس پہنچا، اس پر سوار ہوا اور اسے دوڑایا تو وہ مجھے تیزی سے لے چلا، یہاں تک کہ میں نے ان کے ہیولے دیکھ لیے۔ جب میں ان کے اتنا قریب ہوا کہ وہ آواز سن سکیں تو میرا گھوڑا مجھے لے کر ٹھوکر کھا گیا اور میں اس سے گر پڑا، میں اٹھا اور اپنے ترکش کی طرف ہاتھ بڑھایا، اس سے فال کے تیر نکالے اور ان سے فال نکالی کہ کیا میں انہیں نقصان پہنچاؤں یا نہیں؟ تو وہ نکلا جو مجھے ناپسند تھا، کہ میں انہیں نقصان نہ پہنچاؤں۔ میں پھر اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور فال کے تیروں کی بات نہ مانی، اور اسے دوڑایا تو وہ مجھے پھر ان کے قریب لے چلا، یہاں تک کہ جب میں قریب پہنچا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کی قراءت سنی، آپ ﷺ ادھر ادھر نہیں دیکھتے تھے جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بار بار مڑ کر دیکھتے تھے، (اتنے میں) میرے گھوڑے کے دونوں اگلے پاؤں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئے، میں اس سے گر پڑا، پھر میں نے اسے ڈانٹا تو وہ اٹھا، مگر اس کے پاؤں مشکل ہی سے نکل پائے، جب وہ سیدھا کھڑا ہو گیا تو اچانک اس کے پاؤں کے نشان سے دھوئیں جیسا غبار (عثان) آسمان کی طرف بلند ہو رہا تھا۔ (معمر کہتے ہیں: میں نے ابو عمرو بن علاء سے پوچھا: عثان کیا ہے؟ وہ کچھ دیر خاموش رہے، پھر کہا: وہ دھواں جو آگ کے بغیر ہو۔ معمر کہتے ہیں: زہری نے اپنی حدیث میں کہا:) پھر میں نے فال کے تیروں سے فال نکالی تو وہی نکلا جو مجھے ناپسند تھا، کہ میں ان دونوں کو نقصان نہ پہنچاؤں، تو میں نے انہیں امان کی آواز دی، وہ رک گئے، اور میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس پہنچا، اور جب مجھے ان تک پہنچنے سے اس طرح روکا گیا تو میرے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ رسول اللہ ﷺ کا معاملہ غالب آ کر رہے گا۔ میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: آپ کی قوم نے آپ کے بدلے دیت (کے برابر انعام) مقرر کی ہے، اور میں نے انہیں ان کے سفر سے متعلق خبریں دیں اور یہ کہ لوگ ان کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں، اور میں نے انہیں زادِ راہ اور سامان پیش کیا، تو انہوں نے مجھ سے کچھ نہ لیا، اور مجھ سے صرف اتنا کہا: ”ہمارا معاملہ چھپائے رکھنا۔“ پھر میں نے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ مجھے امان کی ایک تحریر لکھ دیں جس کے ذریعے میں امن میں رہوں، تو آپ ﷺ نے عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر میرے لیے وہ لکھ دی، پھر آپ ﷺ آگے روانہ ہو گئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6571
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 132، حدیث 6601