المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
كعب بن مالك بن جعشم عن أخيه سراقة باب: کعب بن مالک بن جعشم کی اپنے بھائی سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ مَالِكًا أَخْبَرَهُ أَنَّ أَخَاهُ سُرَاقَةَ بْنَ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ مُهَاجِرًا إِلَى الْمَدِينَةِ جَعَلَتْ قُرَيْشٌ لِمَنْ رَدَّهُ عَلَيْهِمْ مِائَةَ نَاقَةٍ، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي نَادِي قَوْمِي جَاءَ رَجُلٌ مِنَّا، فَقَالَ: وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَكَبَةً ثَلَاثَةً مَرُّوا عَلَيَّ آنِفًا، إِنِّي لَأَظُنُّهُ مُحَمَّدًا قَالَ: فَأَوْمَأَتُ إِلَيْهِ: أَنِ اسْكُتْ، وَقُلْتُ: إِنَّمَا هُمْ بَنُو فُلَانٍ يَتَّبِعُونَ ضَالَّةً لَهُمْ , قَالَ: لَعَلَّهُ ثُمَّ سَكَتَ، فَمَكَثْتُ قَلِيلًا، وَقُمْتُ , فَأَمَرْتُ بِفَرَسِي، فَقِيدَ إِلَى بَطْنِ الْوَادِي، فَأَخْرَجَتُ سِلَاحِي مِنْ وَرَاءِ حُجْرَتِي، ثُمَّ أَخَذْتُ قِدَاحِي الَّتِي أَسْتَقْسِمُ بِهَا، ثُمَّ لَبِسْتُ لَأْمَتِي، ثُمَّ أَخْرَجْتُ قِدَاحِي، فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا، وَقَالَ: فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ: لَا يَضُرُّهُ، وَكُنْتُ أَرْجُو أَنْ أَرُدَّهُ، فَآخُذَ الْمِائَةَ النَّاقَةَ، فَرَكِبْتُ عَلَى أَثَرِهِمْ , فَبَيْنَمَا فَرَسِي يَشْتَدُّ بِي عَثَرَ، فَسَقَطْتُ عَنْهُ، فَأَخْرَجَتُ قِدَاحِي فَاسْتَقْسَمْتُ فَخَرَجَ السَّهْمُ الَّذِي أَكْرَهُ: لَا يَضُرُّهُ، فَأَبَيْتُ إِلَّا أَنْ أَتَّبِعَهُ، فَرَكِبْتُهُ , فَلَمَّا بَدَا لِيَ الْقَوْمُ، فَنَظَرْتُ إِلَيْهِمْ عَثَرَ بِي فَرَسِي، وَذَهَبَتْ يَدَاهُ فِي الْأَرْضِ، فَسَقَطْتُ، فَاسْتَخْرَجَ يَدَهُ، وَأَتْبَعَهَا دُخَانٌ مِثْلُ الْعُثَانِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ قَدْ مُنِعَ مِنِّي , وَأَنَّهُ ظَاهِرٌ، فَنَادَيْتُهُمْ فَقُلْتُ: أَنْظِرُونِي , فَوَاللهِ إِنِّي لَا أَرِيبُكُمْ , وَلَا يَبْدَؤُكُمْ مِنِّي شَيْءٌ تَكْرَهُونَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ لَهُ: مَاذَا يَبْتَغِي؟ " فَقُلْتُ: اكْتُبْ لِي كِتَابًا بَيْنِي وَبَيْنَكَ آيَةً، قَالَ: «اكْتُبْ يَا أَبَا بَكْرٍ» ، قَالَ: فَكَتَبَ لِي، ثُمَّ أَلْقَاهَا إِلَيَّ، فَرَجَعْتُ، فَسَكَتُّ , فَلَمْ أَذْكُرْ شَيْئًا مِمَّا كَانَ , حَتَّى إِذَا فَتَحَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مَكَّةَ، وَفَرَغَ مِنْ أَهْلِ حُنَيْنٍ خَرَجْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعِيَ الْكِتَابُ الَّذِي كَتَبَ لِي , قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا عَامِدٌ لَهُ , دَخَلْتُ بَيْنَ ظَهْرَيْ كَتِيبَةٍ مِنْ كَتَائِبِ الْأَنْصَارِ، فَطَفِقُوا يَقْرَعُونِي بِالرِّمَاحِ، وَيَقُولُونَ: إِلَيْكَ إِلَيْكَ حَتَّى إِذَا دَنَوْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ أَنْظُرُ إِلَى سَاقَيْهِ فِي غَرْزِهِ كَأَنَّهَا جُمَّارَةٌ، فَدَفَعْتُ يَدِي بِالْكِتَابِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا كِتَابُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَوْمُ وَفَاءٍ وَبِرٍّ، ادْنُهْ» فَأَسْلَمْتُ
ثُمَّ تَذَكَّرْتُ شَيْئًا أَسْأَلُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا ذَكَرْتُ شَيْئًا إِلَّا قَدْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الضَّالَّةُ تَغْشَى حِيَاضَنَا قَدْ مَلَأْتُهَا لِإِبِلِي، هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ أَنْ أَسْقِيَهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ» فَانْصَرَفْتُ، فَسُقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَتِيسیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف نکلے تو قریش نے اعلان کیا کہ جو انہیں پکڑ کر واپس لائے گا اسے سو اونٹنیاں انعام میں ملیں گی۔ سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی قوم کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ہم میں سے ایک آدمی آیا اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے ابھی تین سوار دیکھے ہیں جو میرے پاس سے گزرے، میرا خیال ہے کہ وہ محمد ﷺ ہیں۔ میں نے اسے اشارہ کیا کہ خاموش رہو، اور کہا: یہ تو بس فلاں قبیلے کے لوگ ہیں جو اپنا بھٹکا ہوا جانور تلاش کر رہے ہیں۔ اس نے کہا: شاید ایسا ہی ہو، پھر خاموش ہو گیا۔ میں کچھ دیر ٹھہرا رہا، پھر اٹھا اور اپنا گھوڑا منگوایا، وہ وادی کے نچلے حصے میں لے جایا گیا، پھر میں نے اپنے ہتھیار اپنے حجرے کے پیچھے سے نکالے، پھر اپنے وہ تیر لیے جن سے میں فال نکالتا تھا، پھر میں نے اپنی زرہ پہنی، پھر میں نے اپنے تیر نکالے اور ان سے فال نکالی، تو وہ نتیجہ نکلا جو میں ناپسند کرتا تھا یعنی اسے نقصان نہیں پہنچے گا، مگر مجھے امید تھی کہ میں انہیں واپس لے آؤں گا اور سو اونٹنیاں حاصل کر لوں گا۔ چنانچہ میں ان کے پیچھے سوار ہو کر چلا، اتنے میں میرا گھوڑا تیزی سے دوڑتے ہوئے ٹھوکر کھا گیا اور میں اس سے گر پڑا، تو میں نے اپنے تیر نکالے اور دوبارہ فال نکالی، تو پھر وہی تیر نکلا جو میں ناپسند کرتا تھا یعنی اسے نقصان نہیں پہنچے گا، مگر میں نے انکار کیا اور ان کا پیچھا کرنے پر مصر رہا، اور اس پر سوار ہو گیا۔ جب مجھ پر وہ لوگ ظاہر ہوئے اور میں نے انہیں دیکھا تو میرا گھوڑا ٹھوکر کھا گیا اور اس کے دونوں اگلے پاؤں زمین میں دھنس گئے، اور میں گر پڑا، اس نے اپنا پاؤں نکالا تو اس کے پیچھے دھواں سا اٹھا، تو مجھے یقین ہو گیا کہ مجھے ان تک پہنچنے سے روک دیا گیا ہے اور وہ محمد ﷺ غالب رہیں گے۔ چنانچہ میں نے انہیں پکارا اور کہا: میرا انتظار کرو، اللہ کی قسم! میں تمہیں نہ ستاؤں گا اور نہ میری طرف سے تمہیں کوئی ناپسندیدہ بات پہنچے گی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے پوچھو وہ کیا چاہتا ہے؟“ میں نے کہا: میرے اور آپ کے درمیان ایک نشانی کے طور پر ایک تحریر لکھ دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! لکھ دو۔“ تو انہوں نے میرے لیے لکھ دیا اور میری طرف ڈال دیا، تو میں واپس چلا گیا اور خاموش ہو گیا اور جو ہوا اس میں سے کچھ ذکر نہ کیا، یہاں تک کہ جب اللہ نے اپنے رسول کے ہاتھوں مکہ فتح کرا دیا اور حنین والوں سے فارغ ہوئے تو میں رسول اللہ ﷺ کی طرف نکلا، اور وہ تحریر جو آپ ﷺ نے میرے لیے لکھی تھی میرے ساتھ تھی۔ میں آپ ﷺ کی طرف جاتے ہوئے انصار کے ایک لشکر کے درمیان جا پہنچا، تو وہ مجھے نیزوں سے دھکیلنے لگے اور کہنے لگے: پیچھے ہٹو، پیچھے ہٹو، یہاں تک کہ جب میں رسول اللہ ﷺ کے قریب پہنچا جو اپنی اونٹنی پر سوار تھے، میں آپ ﷺ کی پنڈلیوں کو رکاب میں دیکھ رہا تھا گویا وہ کھجور کے تنے کا دل ہوں، تو میں نے اپنا ہاتھ اس تحریر کے ساتھ بڑھایا اور کہا: یا رسول اللہ! یہ آپ کی تحریر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج وفا اور نیکی کا دن ہے، قریب آؤ۔“ چنانچہ میں مسلمان ہو گیا۔ پھر مجھے ایک بات یاد آئی جو میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھنا چاہتا تھا، اور مجھے جو بھی بات یاد آئی وہ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بھٹکا ہوا جانور ہمارے حوضوں پر آتا ہے جو میں نے اپنے اونٹوں کے لیے بھرے ہوتے ہیں، کیا مجھے اسے پلانے پر کوئی اجر ملے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، ہر تڑپتے جگر والے جاندار کو پلانے میں اجر ہے۔“ تو میں واپس گیا اور رسول اللہ ﷺ کی طرف اپنی زکات کے جانور بھیجے۔