کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبدالرحمن بن کعب بن مالک بن جعشم کی اپنے چچا سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، عَنْ عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قَبَضَهُ اللهُ فِيهِ، فَسَأَلْتُهُ , فَمَا سَأَلْتُهُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا أَخْبَرَنِيهِ , حَتَّى إِنِّي لَأَذْكُرُ شَيْئًا اللَّيْلَةَ فِيمَا أَذْكُرُهُ، قَالَ: فَكَانَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ أَنْ قُلْتُ لَهُ: أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يُفْرِغُ فِي حَوْضَهِ، فَتَرِدُ عَلَيْهِ الْهَمَلُ مِنَ الْإِبِلِ وَالضَّالَّةُ، أَلَهُ أَجْرٌ فِي أَنْ يَسْقِيَهَا؟ فَقَالَ: «لَكَ فِي كُلِّ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ»
ترجمہ
(سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) میں نے آپ ﷺ سے جو سوالات پوچھے ان میں یہ بھی تھا کہ میں نے عرض کیا: آپ بتائیے، اگر کوئی آدمی اپنا حوض بھرے اور اس پر آوارہ پھرنے والے یا بھٹکے ہوئے اونٹ آ جائیں تو کیا اسے پلانے پر اجر ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر تڑپتے جگر والے جاندار کو پلانے میں تمہارے لیے اجر ہے۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ عَمِّهِ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قَبَضَهُ اللهُ فِيهِ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کی اس بیماری کے دوران آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جس میں اللہ نے آپ ﷺ کی روح قبض فرمائی، پھر یہی روایت بیان کی۔