حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى أَهْلِهِ، وَقَدِ الْتَقَطَ مَنْبُوذًا، فَذَهَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَهُ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: «عَسَى الْغُوَيْرُ أَبْؤُسًا» ، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا الْتُقِطَ إِلَّا وَأَنَا غَائِبٌ، وَسَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهِ خَيْرًا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، «فَوَلَاؤُهُ لَكَ، وَنَفَقَتُهُ عَلَيْنَا مِنْ بَيْتِ الْمَالِ»
ترجمہ
زہری روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی (سیدنا سنین ابوجمیلہ رضی اللہ عنہ) اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور اس نے ایک لاوارث بچہ اٹھا رکھا تھا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شاید یہ کوئی بری بات ہو۔“ اس آدمی نے کہا: یہ بچہ اس وقت اٹھایا گیا جب میں موجود نہیں تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو اس کی اچھی تعریف کی گئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”تو اس (بچے) کی ولاء تمہارے لیے ہے، اور اس کا خرچہ بیت المال سے ہمارے ذمے ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي أَبُو جَمِيلَةَ، أَنَّهُ وَجَدَ مَنْبُوذًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ بِهِ، فَاتَّهَمَهُ بِهِ عُمَرُ، فَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، فَقَالَ عُمَرُ: «فَهُوَ حُرٌّ، وَوَلَاؤُهُ لَكَ، وَنَفَقَتُهُ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ»
ترجمہ
سیدنا ابوجمیلہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک لاوارث بچہ پایا، وہ اسے لے آئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان پر شک کیا، پھر ان کی اچھی تعریف کی گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ آزاد ہے، اس کی ولاء تمہارے لیے ہے، اور اس کا خرچہ بیت المال سے ہوگا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ أَبَا جَمِيلَةَ أَخْبَرَهُ، وَنَحْنُ مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ جُلُوسٌ، فَزَعَمَ أَبُو جَمِيلَةَ أَنَّهُ «أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَعَهُ عَامَ الْفَتْحِ»
ترجمہ
زہری بیان کرتے ہیں کہ ابوجمیلہ نے انہیں بتایا، اور ہم سعید بن مسیب کے ساتھ بیٹھے تھے، تو ابوجمیلہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کا زمانہ پایا تھا اور فتح مکہ کے سال آپ ﷺ کے ساتھ تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ الْتَقَطَ وَلَدَ زِنًى، فَجَاءَ بِهِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «اذْهَبْ فَاسْتَرْضِعْ بِمَالِ اللهِ، وَلَكَ وَلَاؤُهُ» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: «وَالرَّجُلُ الَّذِي الْتَقَطَهُ، فَجَاءَ بِهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخْبَرَنِي ذَلِكَ نَفْسَهُ»
ترجمہ
ابن شہاب زہری روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے بتایا کہ اس نے ایک زنا سے پیدا ہونے والا بچہ اٹھایا، اور اسے لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے فرمایا: ”جاؤ، اسے اللہ کے مال (بیت المال) سے دودھ پلواؤ، اور اس کی ولاء تمہارے لیے ہے۔“ ابن شہاب کہتے ہیں: اور جس آدمی نے یہ بچہ اٹھایا اور اسے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے کر آیا، اس نے مجھے خود یہ بات بتائی۔