حدیث نمبر: 6468
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى أَهْلِهِ، وَقَدِ الْتَقَطَ مَنْبُوذًا، فَذَهَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَهُ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: «عَسَى الْغُوَيْرُ أَبْؤُسًا» ، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا الْتُقِطَ إِلَّا وَأَنَا غَائِبٌ، وَسَأَلَ عَنْهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأُثْنِيَ عَلَيْهِ خَيْرًا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، «فَوَلَاؤُهُ لَكَ، وَنَفَقَتُهُ عَلَيْنَا مِنْ بَيْتِ الْمَالِ»
ترجمہ

زہری روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی (سیدنا سنین ابوجمیلہ رضی اللہ عنہ) اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور اس نے ایک لاوارث بچہ اٹھا رکھا تھا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”شاید یہ کوئی بری بات ہو۔“ اس آدمی نے کہا: یہ بچہ اس وقت اٹھایا گیا جب میں موجود نہیں تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو اس کی اچھی تعریف کی گئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”تو اس (بچے) کی ولاء تمہارے لیے ہے، اور اس کا خرچہ بیت المال سے ہمارے ذمے ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6468
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 102، حدیث 6498