کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبدالحمید بن سلیمان، فلیح کے بھائی، کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا، سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”اللہ کی راہ میں صبح کو نکلنا یا شام کو نکلنا دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخُو فُلَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: وَقَعَ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَاحْتَبَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ: قَدِ احْتَبَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتُقِيمُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَلَى، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَبَّرَ وَطَلَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَفَّقَ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ، وَتَخَلَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، حَتَّى سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ خَلْفَهُ، فَذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمَا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ صَلِّ بِنَا» فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ لِيَسْتَأْخِرَ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ حِينَ أَمَرْتُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ أَنْ تُصَلِّيَ بِهِمْ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «تَمُدُّ يَدَيْكَ إِلَى السَّمَاءِ؟» ، قَالَ: حَمِدْتُ اللهَ حِينَ أَمَرْتَنِي أَنْ أُصَلِّيَ بِكَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ شَيْءٌ أَخَذْتُمْ بِالتَّصْفِيقِ، إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فَمَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، وَلْيَلْتَفِتْ إِلَيْهِ الَّذِي يَلِيهِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... اور وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) اپنی نماز میں توجہ نہیں پھیرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ صفوں میں سے گزرتے ہوئے آگے آئے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے پیچھے آپ ﷺ کی آہٹ سنی تو وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! جیسے ہو ویسے ہی رہو، ہمیں نماز پڑھاؤ۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنے کے لیے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھایا، اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا تو تمہیں نماز پڑھانے سے کس چیز نے روکا؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے آگے نماز پڑھائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف کیوں اٹھائے؟“ عرض کیا: میں نے اللہ کا شکر ادا کیا جب آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو نماز پڑھاؤں۔ پھر آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا کہ جب نماز میں کوئی بات پیش آتی ہے تو تم تالی بجانے لگتے ہو؟ تالی بجانا تو صرف عورتوں کے لیے ہے، جس کسی کو نماز میں کوئی بات پیش آئے تو وہ تسبیح کہے، اور جو اس کے قریب ہو وہ اس کی طرف متوجہ ہو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ح، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ شَيْبَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَابَكُمْ أَمْرٌ تَأْخُذُونَ بِالتَّصْفِيقِ، إِذَا رَابَكُمْ أَمْرٌ فِي صَلَاتِكُمْ فَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہیں نماز میں کوئی بات پیش آئے تو تم تالی بجانے لگتے ہو، جب تمہیں نماز میں کوئی بات پیش آئے تو مردوں کے لیے تسبیح ہے اور عورتوں کے لیے تالی بجانا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَابُورَ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَمَرَاغًا مِنْ مِسْكٍ، مِثْلُ مَرَاغِ دَوَابِّكُمْ فِي الدُّنْيَا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک جنت میں کستوری کی مٹی میں لوٹنے کی جگہ ہے، جیسے تمہارے جانور دنیا میں مٹی میں لوٹتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو حَازِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: هَلْ كَانَتِ الْمَنَاخِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ مُنْخُلًا فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، وَمَا أَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعِيرًا مَنْخُولًا حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا» ، قُلْتُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟ قَالَ: «كُنَّا نَطْحَنُهُ، ثُمَّ نَنْفُخُهُ، فَيَطِيرُ مَا طَارَ، ويَسْتَمْسِكُ مَا يَسْتَمْسِكُ»
ترجمہ
ابوحازم بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چھلنیاں ہوتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: ”میں نے اس زمانے میں کوئی چھلنی نہیں دیکھی، اور رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے رخصت ہونے تک کبھی چھنا ہوا جو نہیں کھایا۔“ میں نے پوچھا: پھر آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہم اسے پیس لیتے، پھر اسے پھونک مارتے، جو اڑ جاتا اڑ جاتا اور جو رہ جاتا رہ جاتا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ساعَتَانِ لَا تُرَدُّ فِيهِمَا دَعْوَةٌ: عِنْدَ الصَّلَاةِ، وَعِنْدَ الْقِتَالِ "
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو وقت ایسے ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتی: نماز کے وقت، اور جنگ کے وقت۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «مَا شَبِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَبْعَتَيْنِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے رخصت ہونے تک کبھی ایک دن میں دو بار پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «كُنَّا لَنَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ» ، قُلْتُ لَهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: «كَانَتِ امْرَأَةٌ مِنِ الْحَيِّ تَتَّخِذُ السِّلْقَ فَتَصُبُّهُ عَلَى الشَّعِيرِ بَيْنَ الْخَلِّ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ نَزَعَتْ مِنْهُ بأُصُولِهِ، وحَبَشَتْ عَلَيْهِ شَيْئًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ جَعَلْتَهُ فِي قِدْرٍ لَهَا، ثُمَّ أَدْخَلَتْهُ فِي تَنُّورِهَا فَقَدَّمَتْهُ إِلَيْنَا، فَكُنَّا نُسَمِّيهِ السِّلْقَ الْغَرَّاقَ، ونَلْعَقُ، وَإِنْ كُنَّا لَنَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَجْلِ قِدْرِهَا، وَكَانَتِ الْقَائِلَةُ لِلْغَدَاءِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہم جمعہ کے دن کی وجہ سے خوش ہوا کرتے تھے۔“ میں نے ان سے پوچھا: اس کی کیا وجہ تھی؟ فرمایا: ”ہمارے محلے کی ایک عورت چقندر لے کر اسے جَو کے ساتھ سرکے میں ڈال دیتی تھی، پھر جب جمعہ کا دن آتا تو وہ اس کی جڑوں سمیت نکالتی، اس پر کچھ جَو ڈال دیتی، پھر اسے اپنی ہانڈی میں رکھ کر تنور میں پکاتی اور ہمارے سامنے پیش کرتی، ہم اسے ’غرّاق چقندر‘ کہتے تھے اور اسے چاٹ چاٹ کر کھاتے، اور ہم اس ہانڈی کی وجہ سے جمعہ کے دن کو پسند کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جمعہ کی نماز کے بعد ہی دوپہر کا کھانا اور قیلولہ ہوتا تھا۔“
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَرُوفٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ أَهْلِ الذِّمَّةِ إِلَّا بِإِذْنٍ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ ذمہ کے گھروں میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: " أَوْلَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَتْ عَلَيْهِ صَفِيَّةُ فَقُلْتُ: أَيُّ شَيْءٍ كَانَ فِي وَلِيمَتِهِ؟ فَقَالَ: «مَا كَانَ إِلَّا التَّمْرُ وَالسَّوِيقُ»
ترجمہ
ابوحازم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے جب سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس آئیں تو ولیمہ کیا۔“ میں نے پوچھا: آپ کے ولیمے میں کیا کچھ تھا؟ فرمایا: ”اس میں کھجور اور ستو کے سوا کچھ نہ تھا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: ذُكِرَ الشُّؤْمُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ، فَفِي الْمَسْكَنِ، وَالْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس بدشگونی کا ذکر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کسی چیز میں بدشگونی ہے تو وہ گھر، گھوڑے اور عورت میں ہو سکتی ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي خَلْفَ الْجِنَازَةِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے نبی کریم ﷺ کو جنازے کے پیچھے چلتے دیکھا۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُقْبِلٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَاسِطِيُّ النَّاقِدُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وعِنْدَهُ أَصْحَابُهُ، فَأَطافَتْ بِهِمْ فَلَمْ تَجِدْ مَكَانًا، فَفَطِنَ لَهَا رَجُلٌ فَقَامَ وَجَلَسَتْ، فَقَضَتْ حَاجَتَهَا ثُمَّ قَامَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ: «أَتَعْرِفُهَا؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «أَفَرَحِمْتَهَا رَحِمَكَ اللهُ» ثَلَاثًا
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... وہ عورت لوگوں کے گرد گھومتی رہی مگر اسے کوئی جگہ نہ ملی، تو ایک آدمی نے اس کی حالت بھانپ لی اور کھڑا ہو گیا اور وہ اس کی جگہ بیٹھ گئی، پھر اس نے اپنی ضرورت پوری کی اور کھڑی ہو گئی۔ نبی کریم ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا: ”کیا تم اسے پہچانتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس پر رحم کیا، اللہ تم پر رحم فرمائے۔“ تین بار یہی الفاظ دہرائے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ الصَّوَّافُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَرَأَى بِهَا بَيَاضًا، فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دیہات کی ایک عورت سے نکاح کیا، پھر اس کے جسم پر سفیدی کا داغ دیکھا تو رخصتی سے پہلے ہی اسے جدا کر دیا۔