حدیث نمبر: 5822
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخُو فُلَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: وَقَعَ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَاحْتَبَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَذَّنَ بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ: قَدِ احْتَبَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتُقِيمُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَلَى، فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَبَّرَ وَطَلَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَفَّقَ النَّاسُ بِأَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ، وَتَخَلَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، حَتَّى سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ خَلْفَهُ، فَذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمَا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ صَلِّ بِنَا» فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ إِلَى السَّمَاءِ لِيَسْتَأْخِرَ وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ حِينَ أَمَرْتُكَ أَنْ تُصَلِّيَ بِالنَّاسِ أَنْ تُصَلِّيَ بِهِمْ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «تَمُدُّ يَدَيْكَ إِلَى السَّمَاءِ؟» ، قَالَ: حَمِدْتُ اللهَ حِينَ أَمَرْتَنِي أَنْ أُصَلِّيَ بِكَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا لَكُمْ حِينَ نَابَكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ شَيْءٌ أَخَذْتُمْ بِالتَّصْفِيقِ، إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ فَمَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيُسَبِّحْ، وَلْيَلْتَفِتْ إِلَيْهِ الَّذِي يَلِيهِ»
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... اور وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) اپنی نماز میں توجہ نہیں پھیرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ صفوں میں سے گزرتے ہوئے آگے آئے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے پیچھے آپ ﷺ کی آہٹ سنی تو وہ پیچھے ہٹنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! جیسے ہو ویسے ہی رہو، ہمیں نماز پڑھاؤ۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیچھے ہٹنے کے لیے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھایا، اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا تو تمہیں نماز پڑھانے سے کس چیز نے روکا؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے آگے نماز پڑھائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف کیوں اٹھائے؟“ عرض کیا: میں نے اللہ کا شکر ادا کیا جب آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو نماز پڑھاؤں۔ پھر آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لوگو! تمہیں کیا ہو گیا کہ جب نماز میں کوئی بات پیش آتی ہے تو تم تالی بجانے لگتے ہو؟ تالی بجانا تو صرف عورتوں کے لیے ہے، جس کسی کو نماز میں کوئی بات پیش آئے تو وہ تسبیح کہے، اور جو اس کے قریب ہو وہ اس کی طرف متوجہ ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5822
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 158، حدیث 5843