حدیث نمبر: 5825
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو حَازِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: هَلْ كَانَتِ الْمَنَاخِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ مُنْخُلًا فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ، وَمَا أَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعِيرًا مَنْخُولًا حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا» ، قُلْتُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ؟ قَالَ: «كُنَّا نَطْحَنُهُ، ثُمَّ نَنْفُخُهُ، فَيَطِيرُ مَا طَارَ، ويَسْتَمْسِكُ مَا يَسْتَمْسِكُ»
ترجمہ

ابوحازم بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چھلنیاں ہوتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا: ”میں نے اس زمانے میں کوئی چھلنی نہیں دیکھی، اور رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے رخصت ہونے تک کبھی چھنا ہوا جو نہیں کھایا۔“ میں نے پوچھا: پھر آپ لوگ کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہم اسے پیس لیتے، پھر اسے پھونک مارتے، جو اڑ جاتا اڑ جاتا اور جو رہ جاتا رہ جاتا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5825
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 159، حدیث 5846