حدیث نمبر: 5828
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «كُنَّا لَنَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ» ، قُلْتُ لَهُ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: «كَانَتِ امْرَأَةٌ مِنِ الْحَيِّ تَتَّخِذُ السِّلْقَ فَتَصُبُّهُ عَلَى الشَّعِيرِ بَيْنَ الْخَلِّ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ نَزَعَتْ مِنْهُ بأُصُولِهِ، وحَبَشَتْ عَلَيْهِ شَيْئًا مِنْ شَعِيرٍ، ثُمَّ جَعَلْتَهُ فِي قِدْرٍ لَهَا، ثُمَّ أَدْخَلَتْهُ فِي تَنُّورِهَا فَقَدَّمَتْهُ إِلَيْنَا، فَكُنَّا نُسَمِّيهِ السِّلْقَ الْغَرَّاقَ، ونَلْعَقُ، وَإِنْ كُنَّا لَنَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَجْلِ قِدْرِهَا، وَكَانَتِ الْقَائِلَةُ لِلْغَدَاءِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہم جمعہ کے دن کی وجہ سے خوش ہوا کرتے تھے۔“ میں نے ان سے پوچھا: اس کی کیا وجہ تھی؟ فرمایا: ”ہمارے محلے کی ایک عورت چقندر لے کر اسے جَو کے ساتھ سرکے میں ڈال دیتی تھی، پھر جب جمعہ کا دن آتا تو وہ اس کی جڑوں سمیت نکالتی، اس پر کچھ جَو ڈال دیتی، پھر اسے اپنی ہانڈی میں رکھ کر تنور میں پکاتی اور ہمارے سامنے پیش کرتی، ہم اسے ’غرّاق چقندر‘ کہتے تھے اور اسے چاٹ چاٹ کر کھاتے، اور ہم اس ہانڈی کی وجہ سے جمعہ کے دن کو پسند کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں جمعہ کی نماز کے بعد ہی دوپہر کا کھانا اور قیلولہ ہوتا تھا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5828
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 160، حدیث 5849