کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عبداللہ بن جعفر بن نجیح مدنی کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُحُدٌ رُكْنٌ مِنْ أَرْكَانِ الْجَنَّةِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”احد جنت کے ارکان میں سے ایک رکن ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5792
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 151، حدیث 5813
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَنْبَرٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَنَا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى مِنْبَرِهِ، فَصَلَّى لِلنَّاسِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَكَبَّرَ وَهُوَ عَلَيْهِ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى، فَسَجَدَ فِي أَسْفَلِ الْمِنْبَرِ، ثُمَّ رَجَعَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِتَأْتَمُّوا بِي، وَلِتَعْلَمُوا صَلَاتِي»
ترجمہ
…آپ ﷺ نے منبر پر ہی کھڑے ہو کر تکبیر کہی، پھر رکوع کیا، پھر الٹے پاؤں واپس آئے اور منبر کے نیچے سجدہ کیا، پھر واپس گئے اور ایسا ہی کرتے رہے یہاں تک کہ اپنی نماز مکمل کی، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”اے لوگو! میں نے یہ اس لیے کیا تاکہ تم میری اقتدا کرو اور میری نماز سیکھو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5793
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 151، حدیث 5814
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَنْبَرٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ، فَشَرِبَ وَالْأَشْيَاخُ عَلَى يَسَارِهِ، وَغُلَامٌ هُوَ أَصْغَرُ الْقَوْمِ عَلَى يَمِينِهِ، فَلَمَّا شَرِبَ قَالَ: «يَا غُلَامُ تَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ الْأَشْيَاخَ؟» ، قَالَ: مَا كُنْتُ أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْ فَضْلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ
ترجمہ
میں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک پیالہ لایا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا، بزرگ لوگ آپ ﷺ کی بائیں طرف تھے، اور قوم کا سب سے چھوٹا لڑکا دائیں طرف تھا۔ جب آپ ﷺ نے پیا تو فرمایا: ”اے لڑکے! کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں یہ بزرگوں کو دے دوں؟“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپ سے ملنے والی نعمت میں سے اپنے حصے پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے وہ اسی کو دے دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5794
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 151، حدیث 5815
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «كَانَ كَوْنٌ فِي الْأَنْصَارِ فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، ثُمَّ رَجَعَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”انصار میں کوئی معاملہ پیش آیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے تاکہ ان کے درمیان صلح کروائیں، پھر واپس آئے تو نماز کھڑی ہو چکی تھی اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5795
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 151، حدیث 5816
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: " رَأَيْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ وَهُوَ قَائِمٌ بَوْلَ الشَّيْخِ الْكَبِيرِ يَكَادُ يَسْبِقُهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا تَنْزِعُ؟ قَالَ: «لَا، قَدْ رَأَيْتُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي مَسَحَ عَلَيْهِمَا»
ترجمہ
…میں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابی سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر پیشاب کر رہے تھے، بوڑھے آدمی کے سے پیشاب کی طرح جو کہ نکلا جا رہا تھا، پھر انہوں نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ میں نے ان سے کہا: کیا آپ انہیں اتاریں گے نہیں؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، میں نے اس شخص کو دیکھا ہے جو مجھ سے بہتر تھا، اس نے بھی ان پر مسح کیا تھا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5796
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 152، حدیث 5817
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَومَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللهُ عَلَى يَدَيْهِ» ، فَبَاتَ النَّاسُ يَذْكُرُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطِي، فَلَمَّا أَصْبَحُوا غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيٌّ؟» ، قَالُوا: هُوَ هَهُنَا يَا رَسُولَ اللهِ أَرْمَدُ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَعَا بِمَا شَاءَ اللهُ، فَبَرَأَ حَتَّى لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، ثُمَّ أَعْطَاهُ الرَّايَةَ، وَقَالَ: «امْضِ قُدُمًا» فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا، قَالَ: «عَلَى رِسْلِكَ انْفُذْ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللهِ فِيهِ، فَلَأَنْ يَهْدِيَ اللهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا، خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن فرمایا: ”کل میں یہ جھنڈا ایک ایسے آدمی کو دوں گا جس کے ہاتھوں اللہ فتح عطا فرمائے گا۔“ لوگ ساری رات یہ سوچتے رہے کہ انہیں کسے دیا جائے گا۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس صبح سویرے حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”علی کہاں ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ یہیں ہیں، ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ آپ ﷺ نے انہیں بلوایا، ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا، اور جو اللہ نے چاہا دعا کی، تو وہ اس طرح شفایاب ہو گئے کہ انہیں کوئی تکلیف نہ رہی۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں جھنڈا دیا اور فرمایا: ”آگے بڑھو۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں ان سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ ہمارے جیسے نہ ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آرام سے چلو یہاں تک کہ ان کے میدان میں اترو، پھر انہیں اسلام کی دعوت دو، اور انہیں بتاؤ کہ اس میں ان پر اللہ کا کیا حق واجب ہے، پس اگر اللہ تمہارے ذریعے ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5797
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 152، حدیث 5818
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ، يُقَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ هَلْ لَكُمْ إِلَى الرَّيَّانِ، مَنْ دَخَلَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، فَيَدْخُلُونَ فِيهِ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ، فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ "
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن کہا جائے گا: روزہ دار کہاں ہیں؟ کیا تم ریان کی طرف آنا چاہتے ہو؟ جو اس سے داخل ہوگا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ چنانچہ وہ سب اس میں داخل ہو جائیں گے، جب ان کا آخری فرد داخل ہو جائے گا تو وہ بند کر دیا جائے گا، پھر اس سے ان کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5798
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 152، حدیث 5819