المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن جعفر بن نجيح المدني عن أبي حازم باب: عبداللہ بن جعفر بن نجیح مدنی کی ابوحازم سے روایات
حدیث نمبر: 5794
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَنْبَرٍ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ، فَشَرِبَ وَالْأَشْيَاخُ عَلَى يَسَارِهِ، وَغُلَامٌ هُوَ أَصْغَرُ الْقَوْمِ عَلَى يَمِينِهِ، فَلَمَّا شَرِبَ قَالَ: «يَا غُلَامُ تَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ الْأَشْيَاخَ؟» ، قَالَ: مَا كُنْتُ أُوثِرُ بِنَصِيبِي مِنْ فَضْلِكَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُترجمہ
میں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک پیالہ لایا گیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا، بزرگ لوگ آپ ﷺ کی بائیں طرف تھے، اور قوم کا سب سے چھوٹا لڑکا دائیں طرف تھا۔ جب آپ ﷺ نے پیا تو فرمایا: ”اے لڑکے! کیا تم مجھے اجازت دیتے ہو کہ میں یہ بزرگوں کو دے دوں؟“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپ سے ملنے والی نعمت میں سے اپنے حصے پر کسی کو ترجیح نہیں دوں گا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے وہ اسی کو دے دیا۔