المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن جعفر بن نجيح المدني عن أبي حازم باب: عبداللہ بن جعفر بن نجیح مدنی کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَومَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللهُ عَلَى يَدَيْهِ» ، فَبَاتَ النَّاسُ يَذْكُرُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطِي، فَلَمَّا أَصْبَحُوا غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيٌّ؟» ، قَالُوا: هُوَ هَهُنَا يَا رَسُولَ اللهِ أَرْمَدُ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ، وَدَعَا بِمَا شَاءَ اللهُ، فَبَرَأَ حَتَّى لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، ثُمَّ أَعْطَاهُ الرَّايَةَ، وَقَالَ: «امْضِ قُدُمًا» فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا، قَالَ: «عَلَى رِسْلِكَ انْفُذْ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللهِ فِيهِ، فَلَأَنْ يَهْدِيَ اللهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا، خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ»سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن فرمایا: ”کل میں یہ جھنڈا ایک ایسے آدمی کو دوں گا جس کے ہاتھوں اللہ فتح عطا فرمائے گا۔“ لوگ ساری رات یہ سوچتے رہے کہ انہیں کسے دیا جائے گا۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس صبح سویرے حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”علی کہاں ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ یہیں ہیں، ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔ آپ ﷺ نے انہیں بلوایا، ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا، اور جو اللہ نے چاہا دعا کی، تو وہ اس طرح شفایاب ہو گئے کہ انہیں کوئی تکلیف نہ رہی۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں جھنڈا دیا اور فرمایا: ”آگے بڑھو۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں ان سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ ہمارے جیسے نہ ہو جائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آرام سے چلو یہاں تک کہ ان کے میدان میں اترو، پھر انہیں اسلام کی دعوت دو، اور انہیں بتاؤ کہ اس میں ان پر اللہ کا کیا حق واجب ہے، پس اگر اللہ تمہارے ذریعے ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“