کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا سعید بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ، مدینہ میں رہتے تھے
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: كَانَ بَيْنَ أَبْيَاتِنَا رُوَيْجِلٌ ضَعِيفٌ سَقِيمٌ مُحْدِجٌ، فَلَمْ يُرَعِ الْحَيُّ إِلَّا وَهُوَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَائِهِمْ يَخْبُثُ بِهَا، فَذَكَرَ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اضْرِبُوهُ حَدَّهُ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا إِنْ ضَرَبْنَاهُ حَدًّا قَتَلْنَاهُ إِنَّهُ ضَعِيفٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا لَهُ عِثْكَالًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ، فَاضْرِبُوهُ بِهِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً»
ترجمہ
…قبیلے کو اچانک یہ پتا چلا کہ وہ ان کی ایک باندی کے ساتھ بدکاری کر رہا ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اس کی حد لگاؤ۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ہم اسے حد لگائیں تو ہم اسے قتل کر دیں گے، وہ بہت کمزور ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے کھجور کا ایک گچھا لو جس میں سو شاخیں ہوں، پھر اسے اس سے ایک ہی بار مارو۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: كَانَ بَيْنَ أَبْيَاتِنَا رَجُلٌ مُحْدِجٌ ضَعِيفٌ، فَلَمْ يُرَعْ إِلَّا وَهُوَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَاءِ أَهْلِ الدَّارِ يَخْبُثُ بِهَا، فَرَفَعَ شَأْنَهُ سَعْدٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اجْلِدُوهُ مِائَةَ سَوْطٍ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هُوَ أَضْعَفُ مِنْ ذَاكَ، لَوْ ضُرِبَ مِائَةً مَاتَ، قَالَ: «فَخُذُوا لَهُ عِثْكَالًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ، فَاضْرِبُوهُ ضَرْبَةً وَاحِدَةً»
ترجمہ
…اچانک معلوم ہوا کہ وہ گھر کی لونڈیوں میں سے ایک لونڈی کے ساتھ بدکاری کر رہا ہے، تو سعد رضی اللہ عنہ نے اس کا معاملہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے سو کوڑے لگاؤ۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! وہ اس سے کہیں زیادہ کمزور ہے، اگر اسے سو کوڑے لگے تو وہ مر جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے کھجور کی ایک ایسی ٹہنی لے لو جس میں سو شاخیں ہوں، پھر اسے ایک ہی بار مار دو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، وَحَضَرَتْ أُمَّهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهَا: أَوْصِي، فَقَالَتْ: فِيمَ أَوْصِي؟ إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدُمَ سَعْدٌ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ، ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» . فَقَالَ سَعْدٌ: حَائِطُ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ عَنْهَا لِحَائِطٍ سَمَّاهُ
ترجمہ
…وہ سعد رضی اللہ عنہ کے آنے سے پہلے فوت ہو گئیں۔ جب سعد رضی اللہ عنہ آئے تو انہیں یہ بات بتائی گئی۔ سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو انہیں فائدہ ہوگا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: فلاں فلاں باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے، اور ایک باغ کا نام لیا۔