المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن سعد بن عبادة الأنصاري " كان ينزل المدينة " باب: سیدنا سعید بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ، مدینہ میں رہتے تھے
حدیث نمبر: 5500
حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ بْنُ جَعْفَرٍ الْعَطَّارُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: كَانَ بَيْنَ أَبْيَاتِنَا رُوَيْجِلٌ ضَعِيفٌ سَقِيمٌ مُحْدِجٌ، فَلَمْ يُرَعِ الْحَيُّ إِلَّا وَهُوَ عَلَى أَمَةٍ مِنْ إِمَائِهِمْ يَخْبُثُ بِهَا، فَذَكَرَ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «اضْرِبُوهُ حَدَّهُ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا إِنْ ضَرَبْنَاهُ حَدًّا قَتَلْنَاهُ إِنَّهُ ضَعِيفٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا لَهُ عِثْكَالًا فِيهِ مِائَةُ شِمْرَاخٍ، فَاضْرِبُوهُ بِهِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً»ترجمہ
…قبیلے کو اچانک یہ پتا چلا کہ وہ ان کی ایک باندی کے ساتھ بدکاری کر رہا ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اس کی حد لگاؤ۔“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر ہم اسے حد لگائیں تو ہم اسے قتل کر دیں گے، وہ بہت کمزور ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے کھجور کا ایک گچھا لو جس میں سو شاخیں ہوں، پھر اسے اس سے ایک ہی بار مارو۔“