حدیث نمبر: 5503
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَضْرَمِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَا: ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ كِنْدِيرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَجَجْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهُوَ يَرْجُزُ، وَهُوَ يَقُولُ:
[البحر الرجز]
رَبِّ رُدَّ إِلَيَّ رَاكِبي مُحَمَّدًا
رُدَّهُ رَبِّ إِلَيَّ، وَاصْطَنِعْ عِنْدِي يَدًا
، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: «هَذَا عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ هَاشِمٍ، ذَهَبَتْ إِبِلٌ لَهُ فَأَرْسَلَ ابْنَهُ فِي طَلَبِهَا فَاحْتَبَسَ عَلَيْهِ، وَلَمْ يُرْسِلْهُ قَطُّ فِي حَاجَةٍ إِلَّا جَاءَ بِهَا» ، قَالَ: «فَمَا بَرِحْتُ أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاءَ بِالْإِبِلِ مَعَهُ» ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ، لَقَدْ حَزِنْتُ عَلَيْكَ حُزْنًا لَا يُفَارِقُنِي أَبَدًا
ترجمہ

…میں نے دیکھا کہ ایک شخص بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے اور رجز کے اشعار پڑھ رہا ہے، وہ کہہ رہا تھا: [بحرِ رجز]
اے میرے رب! میرے سوار محمد کو میری طرف لوٹا دے، اے رب! اسے میری طرف لوٹا دے، اور میرے ساتھ احسان فرما۔
میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: ”یہ عبدالمطلب بن ہاشم ہیں، ان کے کچھ اونٹ گم ہو گئے تھے، انہوں نے اپنے بیٹے کو ان کی تلاش میں بھیجا تھا، مگر وہ واپسی میں تاخیر کر بیٹھا، حالانکہ وہ جب بھی اسے کسی کام کے لیے بھیجتے، وہ اسے پورا کر کے لاتا تھا۔“ راوی کہتے ہیں: ”میں وہیں کھڑا رہا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے اور اپنے ساتھ اونٹ بھی لے آئے۔“ تو عبدالمطلب نے فرمایا: ”اے بیٹے! مجھے تیری جدائی کا ایسا غم لاحق ہوا جو کبھی مجھ سے جدا نہیں ہوگا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5503
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 64، حدیث 5524