المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن سعد بن عبادة الأنصاري " كان ينزل المدينة " باب: سیدنا سعید بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ، مدینہ میں رہتے تھے
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: خَرَجَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، وَحَضَرَتْ أُمَّهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهَا: أَوْصِي، فَقَالَتْ: فِيمَ أَوْصِي؟ إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ، فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدُمَ سَعْدٌ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ، ذُكِرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ» . فَقَالَ سَعْدٌ: حَائِطُ كَذَا وَكَذَا صَدَقَةٌ عَنْهَا لِحَائِطٍ سَمَّاهُسعید بن عمرو بن شرحبیل، اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی غزوے میں گئے ہوئے تھے کہ مدینہ میں ان کی والدہ کی وفات کا وقت آ گیا۔ کسی نے ان سے کہا: وصیت کر دیں۔ انہوں نے کہا: میں کس چیز کی وصیت کروں؟ مال تو سعد کا ہی مال ہے۔ چنانچہ وہ سعد رضی اللہ عنہ کے آنے سے پہلے فوت ہو گئیں۔ جب سعد رضی اللہ عنہ آئے تو انہیں یہ بات بتائی گئی۔ سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو انہیں فائدہ ہوگا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: فلاں فلاں باغ ان کی طرف سے صدقہ ہے، اور ایک باغ کا نام لیا۔