کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا سعد بن ضمیرہ سلمی رضی اللہ عنہ، مدینہ میں رہتے تھے
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ: سَمِعَ زِيَادَ بْنَ سَعْدِ بْنِ ضُمَيْرَةَ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ مُحَلِّمَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ قَتَلَ رَجُلًا مِنْ أَشْجَعَ فِي الْإِسْلَامِ، وَذَلِكَ أَوَّلُ غِيَرٍ قَضَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَتَكَلَّمَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ فِي قَتْلِ الْأَشْجَعِيِّ لِأَنَّهُ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ، وَتَكَلَّمَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ دُونَ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ، لِأَنَّهُ رَجُلٌ مِنْ خِنْدِفٍ، قَالَ: فَارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ، وَكَثُرَتِ الْخُصُومَةُ وَاللَّغَطُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَقْبَلُ الْغِيَرَ يَا عُيَيْنَةُ؟» ، قَالَ: لَا وَاللهِ، حَتَّى أُدْخِلَ عَلَى نِسَائِهِ مِنَ الْحَرْبِ وَالْحَزَنِ مِثْلَ مَا أَدْخَلَ عَلَى نِسَائِي، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، إِلَى أَنْ قَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ يُقَالُ لَهُ: مُكَيْتِلٌ، فِي يَدِهِ دَرَقَةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي لَمْ أَجِدْ لِمَا فَعَلَ هَذَا فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ، إِلَّا غَنَمٌ وَرَدَتْ، فَرُمِيَ أَوَّلُهَا، فَنَفَرَ آخِرُهَا، فَاسْنُنِ الْيَوْمَ وَغَيِّرْ غَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَمْسُونَ فِي فَوْرِنَا هَذَا، وَخَمْسُونَ إِذَا قَدِمْنَا» ، وَذَلِكَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَمُحَلِّمٌ رَجُلٌ ضَرْبٌ، طَوِيلٌ، آدَمٌ، فِي طَرَفِ النَّاسِ، قَالَ: فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى قَامَ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ كَانَ مِنَ الشَّأْنِ الَّذِي بَلَغَكَ، وَإِنِّي أَتُوبُ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَاسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَتَلْتَهُ بِسِلَاحِكَ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ، اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ» ، بِصَوْتٍ عَالٍ، قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ: «قَتَلْتَهُ بِسِلَاحِكَ فِي غُرَّةِ الْإِسْلَامِ، اللهُمَّ لَا تَغْفِرْ لِمُحَلِّمٍ»
ترجمہ
…اور اقرع بن حابس نے محلم بن جثامہ کی بجائے بات کی، کیونکہ وہ خندف قبیلے سے تھا۔ راوی کہتے ہیں: اس پر آوازیں بلند ہو گئیں اور جھگڑا اور شور بڑھ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عیینہ! کیا تم دیت قبول نہیں کرو گے؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! جب تک میں اس کی عورتوں پر بھی اتنی ہی جنگ اور غم داخل نہ کر دوں جتنا اس نے میری عورتوں پر کیا ہے۔ اس نے یہ بات دو یا تین بار کہی، یہاں تک کہ بنو لیث کا ایک آدمی، جسے مکیتل کہا جاتا تھا، اپنے ہاتھ میں ڈھال لیے کھڑا ہوا اور کہا: یا رسول اللہ! اس نے جو کچھ کیا اس کے لیے مجھے اسلام کے ابتدائی دور میں صرف یہی مثال ملتی ہے کہ بکریاں پانی پر آئیں، پہلی کو تیر مارا گیا تو باقی بھی بدک گئیں، تو آج اس فیصلے کو قانون بنا دیجیے اور کل بدل دیجیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابھی پچاس اور جب ہم واپس پہنچیں تو پچاس اور۔“ اور یہ آپ ﷺ کے کسی سفر میں ہوا۔ محلم مضبوط جسم، لمبا قد اور گندمی رنگت کا آدمی تھا، اور لوگوں کے کنارے پر بیٹھا تھا۔ راوی کہتے ہیں: لوگ اسے کہتے رہے یہاں تک کہ وہ اٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا جبکہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! جو معاملہ آپ کو پہنچا وہ ہو چکا، اور میں اللہ عزوجل کی طرف توبہ کرتا ہوں، آپ میرے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اسلام کے ابتدائی دور میں اپنے ہتھیار سے اسے قتل کیا، اے اللہ! محلم کو معاف نہ کرنا۔“ بلند آواز سے یہ بات تین بار فرمائی، ہر بار یہی فرماتے: ”تم نے اسلام کے ابتدائی دور میں اپنے ہتھیار سے اسے قتل کیا، اے اللہ! محلم کو معاف نہ کرنا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ دَفَنَهُ قَوْمُهُ، فَلَفِظَتْهُ الْأَرْضُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَلْقَوْهُ بَيْنَ ضَوَاحِي جَبَلٍ، وَرَبَوْا عَلَيْهِ بِالْحِجَارَةِ، فَأَكَلَتْهُ السِّبَاعُ، قَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَبُرَ أَنَّ الْأَرْضَ لَفِظَتْهُ قَالَ: «أَمَا إِنَّ الْأَرْضَ تَقْبَلُ مَنْ هُوَ شَرٌّ مِنْهُ، وَلَكِنَّ اللهَ أَرَادَ أَنْ يُرِيَكُمْ عِظَمَ الدَّمِ عِنْدَهُ»
ترجمہ
…انہوں نے اسے پہاڑ کے دامن میں پھینک دیا اور اس پر پتھر ڈال دیے تو درندوں نے اسے کھا لیا۔ ابن ابی زناد کہتے ہیں: مجھے پہنچا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا کہ زمین نے اسے اگل دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یاد رکھو، زمین تو اس سے بھی بدتر شخص کو قبول کر لیتی ہے، لیکن اللہ نے چاہا کہ تمہیں ناحق خون کی سنگینی دکھا دے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ سَعْدِ بْنِ ضُمَيْرَةَ السُّلَمِيَّ يُحَدِّثُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَجَدِّي وَكَانَا قَدْ شَهِدَا حُنَيْنًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَا: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ الظُّهْرَ، ثُمَّ جَلَسَ إِلَى ظِلِّ الشَّجَرَةِ، فَقَامَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، وَعُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ فَطَلَبَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ بِدَمِ الْأَشْجَعِيِّ عَامِرِ بْنِ الْأَحْبَطِ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ سَيِّدُ قَيْسٍ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ يَدْفَعُ عَنْ مُحَلِّمِ بْنِ جَثَّامَةَ لِخِنْدِفٍ، فَاخْتَصَمَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَأْخُذُونَ الدِّيَةَ خَمْسِينَ فِي سَفَرِنَا هَذَا، وَخَمْسِينَ إِذَا رَجَعْنَا» ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ ، سَعْدُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ الدَّوْسِيُّ
ترجمہ
…اور اقرع بن حابس محلم بن جثامہ کی طرف سے خندف کے حق میں بات کر رہا تھا، تو دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے جھگڑا کیا۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”تم اس سفر میں پچاس اونٹ دیت کے طور پر لو گے، اور جب ہم واپس لوٹیں تو پچاس اور۔“ پھر عبدالرحمن بن ابی زناد کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔
حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَدْنَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعِ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَبَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُنِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ، «فَفَعَلَ، وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ» ، وَاسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، فَقُلْتُ لِقَوْمِي: إِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي مَالٍ لَا تُؤَدَّى صَدَقَتُهُ، فَأَدُّوا زَكَاةَ الْعَسَلِ، قَالُوا: كَمْ تَرَى؟ قُلْتُ: الْعُشْرَ، فَأَخَذْتُ مِنْهُمُ الْعُشْرَ، فَأَتَيْتُ بِهِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَبَاعَهُ وَجَعَلَهُ فِي صَدَقَاتِ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ
منیر بن عبداللہ، اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور مسلمان ہو گیا، اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری قوم نے جس بنیاد پر اسلام قبول کیا ہے اسے برقرار رکھیے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا اور مجھے ان پر مقرر کر دیا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے بعد مجھے اسی عہدے پر مقرر رکھا، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد مجھے مقرر رکھا۔ میں نے اپنی قوم سے کہا: اس مال میں کوئی بھلائی نہیں جس کا صدقہ ادا نہ کیا جائے، لہٰذا شہد کی زکوٰۃ ادا کرو۔ انہوں نے پوچھا: آپ کتنی مقرر کرتے ہیں؟ میں نے کہا: دسواں حصہ۔ چنانچہ میں نے ان سے دسواں حصہ لیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، تو انہوں نے اسے بیچ کر مسلمانوں کے صدقات میں شامل کر دیا۔