حدیث نمبر: 5439
حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَدْنَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعِ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، وَبَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ مُنِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، اجْعَلْ لِقَوْمِي مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ، «فَفَعَلَ، وَاسْتَعْمَلَنِي عَلَيْهِمْ» ، وَاسْتَعْمَلَنِي أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، فَقُلْتُ لِقَوْمِي: إِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي مَالٍ لَا تُؤَدَّى صَدَقَتُهُ، فَأَدُّوا زَكَاةَ الْعَسَلِ، قَالُوا: كَمْ تَرَى؟ قُلْتُ: الْعُشْرَ، فَأَخَذْتُ مِنْهُمُ الْعُشْرَ، فَأَتَيْتُ بِهِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَبَاعَهُ وَجَعَلَهُ فِي صَدَقَاتِ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ

منیر بن عبداللہ، اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سعد بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور مسلمان ہو گیا، اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میری قوم نے جس بنیاد پر اسلام قبول کیا ہے اسے برقرار رکھیے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا اور مجھے ان پر مقرر کر دیا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے بعد مجھے اسی عہدے پر مقرر رکھا، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد مجھے مقرر رکھا۔ میں نے اپنی قوم سے کہا: اس مال میں کوئی بھلائی نہیں جس کا صدقہ ادا نہ کیا جائے، لہٰذا شہد کی زکوٰۃ ادا کرو۔ انہوں نے پوچھا: آپ کتنی مقرر کرتے ہیں؟ میں نے کہا: دسواں حصہ۔ چنانچہ میں نے ان سے دسواں حصہ لیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، تو انہوں نے اسے بیچ کر مسلمانوں کے صدقات میں شامل کر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5439
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 43، حدیث 5458